Balochistan Zamran: BRAS claims the responsibility for killing five army personnel

Baloch Khan, a spokesman for the Baloch Raji Ajoi Sangar (BRAS), an umbrella organization of Baloch liberation armed groups, issued a statement to the media from an undisclosed location, claiming responsibility for the July 7 attack on the Pakistani army in the Zamran Jalagi area of Kech District, Balochistan. 

Baloch Khan said in the statement that BRAS fighters targeted a convoy of five Frontier Corps vehicles, on July 7 at Nahing Kaor in the Zamran area of Kech District as they were heading to "Narom" military camp. The attack completely destroyed two army vehicles, killing five soldiers on the spot and injuring several others. In this fierce attack, the fighters besieged the army for a long time. To save their lives, the enemy army had to call in combat helicopters. However, all our Sarmachars (fighters) managed to get out safely after the attack.

Baloch Raji Ajoi Sangar, adhering to the philosophy of national unity, is moving towards building a strong national army, which combines the Baloch resistance forces to launch the fiercest attacks on the enemy.

Baloch Khan further said BRAS considers the attack of Majeed Brigade on Pakistan Stock Exchange in Karachi as a great example of sacrifice and innovation in the history of Baloch resistance, and fully supports the attacks of Majeed Brigade. By the greatest sacrifice, the Baloch martyrs illuminated new dimensions in the Baloch war of independence, by which the enemy could be defeated. BRAS salutes Shaheed Salman Hamal, Shaheed Shehzad Baloch, Shaheed Siraj Kungar and Shaheed Taslim Baloch.

He further said that Baloch Liberation Movement is a purely ideological and autonomous people's movement, which has been nurtured by the martyrs with their blood, the history of which is full of sacrifices. The enemy has always tried to make this long series of sacrifices controversial and to show the movement to the world as imports and proxies so that the legitimate and legal right of the Balochs to freedom can be questioned and on the other hand to justify export business of terrorists from Pakistan in neighboring countries. Now, contrary to the realities of Pakistan, this senseless statement is being propagated by some Europe based people, who are claiming to be friends of Baloch.

Recently, a group of such controversial individuals reinforced the statement of hostile Pakistan and reiterated the Pakistani accusation against BRAS that it is an Iranian proxy, the same controversial group in Europe that has in the past accused BRAS's one ally of being an Indian proxy. It has also accused General Aslam Baloch and all Baloch Fidayeens (sacrificer) of being proxies. BRAS describs the allegations as an attempt to reinforce the narrative of enemy Pakistan and to confuse the Baloch resistance forces into inter-party arguments instead of fighting the enemy, and BRAS strongly and vehemently denies the allegations. After BRAS’ denial, if the group repeats these allegations formally or informally in the future without providing fully credible evidence, we will be right to declare the group suspicious.

زامران میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ براس

 بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی امبریلا آرگنائزیشن بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس) کے ترجمان بلوچ خان نے نامعلوم مقام سے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے 7 جولائی کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے زامران جالگی میں پاکستانی فوج پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

بلوچ خان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ براس کے سرمچاروں نے 7 جولائی کو ضلع کیچ کے علاقے زامران میں نہینگ کور کے مقام پر فرنٹیئر کور کے پانچ گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ "نرم" کے فوجی کیمپ کی طرف جارہے تھے۔  حملے میں فوج کی دو گاڑیوں کو مکمل تباہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس شدید حملے میں سرمچاروں نے فوج کو طویل عرصے تک گھیرے میں رکھا، جان بچانے کیلئے دشمن فوج کو جنگی ہیلی کاپٹر بلانے پڑے، تاہم ہمارے تمام سرمچارحملے کے بعد بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔

بلوچ راجی آجوئی سنگر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، قومی اتحاد کے فلسفے پر عمل پیرا رہتے ہوئے براس ایک مضبوط قومی فوج کی تشکیل کی جانب گامزن ہے، جو بلوچ مزاحمتی قوتوں کو باہم مربوط جوڑ کر دشمن پر شدید سے شدید حملے کرتی رہیگی۔

بلوچ خان نے مزید کہا کہ بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس) کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے مجید بریگیڈ کے فدائی حملے کو بلوچ مزاحمتی تاریخ میں قربانی و جدت کی ایک عظیم مثال سمجھتی ہے، اور مجید بریگیڈ کے فدائی حملوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ بلوچ فدائین نے اپنے عظیم تر قربانی سے بلوچ جنگ آزادی میں ایسی نئی جہتیں روشن کردیں، جن پر چل کر دشمن کو  یقینی شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔ براس شہید سلمان حمل، شہید شہزاد بلوچ، شہید سراج کنگر اور شہید تسلیم بلوچ کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا بلوچ قومی تحریک آزادی، ایک خالص نظریاتی اور خودرو عوامی تحریک ہے، جسکی آبیاری شہداء اپنے خون سے کرتے آئے ہیں، جس کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ دشمن کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ قربانیوں کے اس طویل سلسلے کو متنازعہ بناکر تحریک کو دنیا کے سامنے درآمدی اور پراکسی ظاہر کریں تاکہ بلوچوں کے جائز اور قانونی حق آزادی پر سوال کھڑے کیئے جاسکیں اور دوسری طرف ہمسایہ ممالک میں پاکستان کی جانب سے جو دہشتگرد برآمدگی کا کاروبار چل رہا ہے، اس کیلئے جواز کھڑے کیئے جاسکیں۔ اب دشمن پاکستان کے حقائق سے برعکس اس بہیمانہ بیانیئے کی پرچار ایسے یورپ نشین لوگوں کی جانب سے کی جارہی ہے، جو بلوچ دوستی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ 

گذشتہ دنوں ایک ایسے ہی متنازعہ شخص کے گروہ کی جانب سے دشمن پاکستان کے بیانیئے کو تقویت دیتے ہوئے براس کے اتحادی تنظیموں پر یہ پاکستانی الزام دہرایا گیا کہ براس ایرانی پراکسی ہے، یورپ نشین یہی متنازعہ گروہ ماضی میں براس کے ایک اتحادی تنظیم پر بھارت کا پراکسی ہونے کا الزام بھی لگا چکا ہے اور قربانی کے فلسفے کو نئی جلا بخشنے والے جنرل اسلم بلوچ اور تمام بلوچ فدائین تک کو پراکسی قرار دے چکا ہے۔ براس ان الزامات کو دشمن پاکستان کے بیانیئے کو تقویت پہنچانے اور بلوچ مزاحمتی قوتوں کو دشمن کے خلاف لڑنے کےبجائے آپسی فروعی مباحث میں الجھانے کی کوشش قرار دیتی ہے اور ان الزامات کو مکمل اور سختی کے ساتھ مسترد کرتی ہے۔ براس کے تردید کے بعد اگر مذکورہ گروہ مستقبل میں مکمل مصدقہ ثبوت پیش کیئے بغیر اگر براس پر یہ الزامات رسمی یا غیررسمی طور پر دہراتی ہے تو ہم اس گروہ کو مشکوک قرار دینے میں حق بجانب ہونگے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل