خیربخش مری تحریر: افراسیاب خٹک


خیربخش مری

تحریر: افراسیاب خٹک

اپنے والد محمد ایوب خان کی پشتون قوم پرست تحریک میں متحرک رہنے کی وجہ سے میں بچپن سے ہی نا صرف باچا خان اور تحریک کے دوسرے رہنماؤں کے ناموں سے واقف تھا بلکہ جب میں چھوٹا تھا تو باچا خان کو دیکھ بھی چکا تھا۔ لیکن میں نے دوسرے جمہوری تنظیموں اور شخصیات کو تب جاننا شروع کیا، جب 1968 میں آمر جنرل ایوب خان کے خلاف جاری عوامی تحریک سے میں نے باقاعدہ سیاست میں شرکت کی۔

1970 کے عام انتخابات کے دوران میری تنظیم پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے حمایت کا اعلان کیا۔ نیپ پختونخواہ اور بلوچستان میں مضبوط گڑھ رکھنے والا ترقی پسند اور قوم پرست قوتوں کی سیاسی جماعت تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب مجھے اس جماعت کے اہم رہنماؤں کو جاننے کا موقع ملا۔ خیربخش مری (جنہیں انکے دوست کےبی کہہ کر پکارتے تھے) بلوچستان سے نیپ کے سب متحرک لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ بہت سے لوگوں کیلئے، سحر انگریز شخصیت کا مالک اور بلوچوں کے مری قبیلے کا طاقتور یہ نواب ایک معمہ ہی رہا۔ سماجی و سیاسی اشرافیہ کا حصہ ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ اپنا موضوعی اور عملی تعلق مارکسزم سے جوڑتے رہے۔ وہ آہستہ آہستہ قومی سوال پر اپنے دوٹوک موقف کی وجہ سے پہچانے جانے لگے۔ بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح مجھے بھی انکے نظریات کو جاننے میں دلچسپی ہوئی۔ میں انکی تقاریر جلسوں اور میڈیا کے ذریعے سنتا رہتا۔

جنوری 1972 کو جب ذولفقار علی بھٹو نے دسمبر 1971 میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد مسند اقتدار سنبھالا تو انہوں نے نیپ کے اوپر عائد وہ پابندی ہٹادی، جو جنرل یحییٰ خان نے سنہ 71 کے بحران کے دوران عائد کی تھی۔ بھٹو نے نیپ کو یہ دعوت بھی دی تھی کہ وہ انکے حکومت کا حصہ بن جائیں، کیونکہ سنہ 70 کے انتخابات میں نیپ بلوچستان اور پختونخواہ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ اس نئے ابھرتے سیاسی صورتحال پر بات کرنے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے نیپ کے صدر عبدلولی خان نے جماعت کے مرکزی رہنماؤں کا ایک اجلاس گرینز ہوٹل پشاور میں طلب کی۔

خیربخش مری، غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل کے ہمراہ اس میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے آئے۔ پہلی بار اجمل خٹک نے میرا تعارف خیربخش مری سے کرایا، اور یہ وہ موقع تھا جب ہم نے تفصیلاً 1971 کے بحران، اسکے نتیجے میں پاکستان کے دولخت ہونے اور “نئے پاکستان” کے ممکنہ ہیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ ایک ایسے سیاسی اور ذاتی تعلق کا آغاز تھا، جو ہمارے سیاسی جدوجہد کے آنے والے دہائیوں تک جڑا رہا، جس میں قید و بند کی زندگی اور جلاوطنی کا وقت بھی شامل ہے۔

نیپ رہنماؤں کے پشاور میٹنگ ( 1972) چھوٹا عوامی اجتماع نہیں رہ سکا، کیونکہ بہت سے پارٹی ورکر مختلف جگہوں سے آکر اس اجلاس میں شریک ہوگئے۔ میں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ زیادہ تر پشتون رہنما ذولفقار علی بھٹو کی نیپ سے پابندی اٹھانے کے عمل کو خوش آئیند قرار دیکر پیپلز پارٹی کی حکومت میں شرکت کے حامی تھے، لیکن سب کچھ اس وقت بدل گیا جب خیربخش مری نے بولنا شروع کیا۔ انہوں نے ” نئے پاکستان ” کے تصور پر سوال اٹھائے، نیا پاکستان کا اصطلاح بنگلہ دیش کے الگ ہونے کے بعد بھٹو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے تقریر میں پیش کیا تھا۔

خیر بخش مری نے کہا کہ اس ریاست کی کونسی چیز نئی ہے جو اب تک اپنے اسی پرانے استحصالی نظام سے چمٹا ہوا ہے؟ انہوں نے اسکیلئے نئے بوتل میں پرانی شراب کا محاورہ پیش کیا اور کہا کہ ہمیں کسی دھوکے میں نہیں رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دوستی کا جو ہاتھ ہماری طرف بڑھایا جارہا ہے، اس ہاتھ پر بنگالیوں کا خون لگا ہوا ہے۔ بنگالیوں کی نسل کشی ابتک اتنی پرانی نہیں ہوئی ہے کہ اسے فراموش کیا جائے، اسکی کیا ضمانت ہے کہ وہی ہاتھ ہمارا ( بلوچ / پشتون) خون نہیں بہائے گا؟ انہوں نے یہ تجویز دی کہ پہلے ہمیں اپنے قومی حقوق کی مانگ رکھنی چاہیئے، اسکے بعد حکومت میں شرکت کے فیصلے کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ ولی خان، جنہوں نے اجلاس کے اختتام میں بات کی، تین بلوچ رہنماؤں ( بزنجو، مینگل اور مری) کو بھٹو سے ملنے اور نیپ کے نکتہ نظر کو پیش کرنے کیلئے نامزد کیا۔

نیپ کے مذکورہ اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد بھٹو نے اس وقت بلوچستان اور پختونخواہ کے گورنر پی پی کے حیات محمد شیرپاؤ اور غوث بخش رئیسانی کو ذمہ داری دی کہ وہ نیپ پر دباؤ ڈالیں۔ اپریل 1972 میں پی پی پی اور نیپ کے مذاکرات کامیاب ہوئے اور نیپ نے بلوچستان اور پختونخواہ میں حکومت بنالی۔ خیربخش مری بطور نیپ کے بلوچستان میں صوبائی صدر ہمیشہ اس امر پر زور دیتے تھے کہ تمام سیاسی مسائل پر نظریاتی طور پر کھڑا رہا جائے۔

فروری 1973 میں دورہ ایران کے بعد ذولفقار علی بھٹو نے اچانک بلوچستان کے نمائیندہ حکومت کو ختم کردیا۔ نیپ کی بلوچستان کی صوبائی حکومت جسے ارکان صوبائی اسمبلی کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی، کو یوں غیر آئینی طور پر ختم کرنے نے بلوچ قوم پرستوں میں غم و غصے کی ایک لہر پیدا کردی، جس کے بعد ان میں سے کچھ نے مسلح مزاحمت کا راستہ چنا۔ پاکستان نے ہزاروں فوجی بھیج کر ایک وسیع پیمانے کا فوجی آپریشن بلوچستان میں شروع کردیا۔ ایرانی شاہ، رضا شاہ نے پاکستانی فوج کی مدد کیلئے ہیلی کاپٹر بھیجے۔ پاکستان کے وفاقی حکومت نے فوری طور پر سینئر بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ فروری 1975 میں نیپ کو کالعدم قرار دے دیا گیا، مارچ 1976 کو 55 رہنماؤں اور کارکنوں کو حیدر آباد جیل میں ایک خصوصی ٹریبیونل کے سامنے غداری کے الزامات میں پیش کیا گیا۔

میں بھی ان ملزمان میں سے ایک تھا اور دوسرے رہنماؤں کے ساتھ وہیں انکے ساتھ وقت گذارا۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکن اور لیڈر وہاں اکثر جیل میں مارکسزم پر اسٹڈی سرکل لگاتے تھے۔ خیربخش مری ان اسٹڈی سرکلوں میں سب سے پیش پیش رہتے تھے۔ قبائلی مزاحمت اور مسلح مزاحمت کو دفاع کرنے کے انکے نظریئے پر ہم میں سے کچھ ان پر سوال اٹھاتے تھے لیکن وہ ہمیشہ اپنے سیاسی و نظریاتی نکتہ نظر کا انتہائی صبر و برداشت اور مدلل انداز میں دفاع کرتے تھے۔ مقدمے کی سماعت دوران ( جو جیل کے اندر ایک حال میں ہوتا تھا) ولی خان، غوث بخش بزنجو، ارباب سکندر خان اور دوسرے عدالت سے مخاطب ہوتے تھے، لیکن خیربخش مری ہمیشہ پچھلے نشستوں پر نوجوان کارکنوں کے ہمراہ خاموشی سے بیٹھے رہتے۔ مجھے اس زمانے کا ایک دلچسپ قصہ یاد ہے۔

ہمارے وکیل میاں محمود علی قصوری جب کچھ مہینوں کے وقفے کے بعد مقدمے کی سماعت کیلئے واپس آتے تو وہ اپنے ہر ایک موکل سے ہاتھ ملاتے تھے۔ ایک بار ہاتھ ملاتے ہوئے جب وہ پچھلی نشستوں تک پہنچے تو انہیں اپنا ہاتھ بڑھا کر پچھلی نشستوں پر ایک کونے میں بیٹھے خیربخش مری تک پہنچنے اور ہاتھ ملانے میں کافی دشواری ہوئی، ہاتھ ملانے کے بعد میاں قصوری نے کہا “کےبی آپ اتنا دور کونوں میں بیٹھتے ہیں کہ آپ سے ہاتھ ملانا مشکل ہوجاتا ہے۔” خیربخش مری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ” لیکن میاں صاحب، پنجابیوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں، وہ جہاں چاہیں پہنچ جاتے ہیں۔” اس بات پر سب دل کھول کر ہنسے۔ پورے حیدر آباد کیس میں وہ محض ایک بار بولے، وہ بھی تب، جب ججوں نے انہیں اپنا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے بلایا۔ انہوں نے کہا ” خدا کیلئے! یہ کہہ کر ہمارا اور اپنا وقت برباد نا کرو کہ یہ عدالت غیرجانبدار ہے۔”

“تم اس نظام کا حصہ ہو، اور اسٹیٹسکو کے دفاع کا تمہیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔” اس پر جسٹس عبدالحکیم نے انکی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس مقدمے کے محض قانونی پہلوؤں کو دیکھتی ہے، عدالت کا اسکے سیاسی پہلوؤں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خیربخش مری نے جواب دیا کہ “تم قانون کو سیاست سے جدا نہیں کرسکتے۔ یہ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ ہے، جنہوں نے اس استحصالی نظام کو للکارا ہے۔ یہ نام نہاد قانونی کے اندر سیاسی عزائم چھپے ہیں۔ میں یہ امید نہیں رکھتا ہوں کہ یہ مقدمہ شفاف و غیرجانبدار ہوگا۔ اس لیئے میں نے کبھی یہاں بولنے کی زحمت نہیں کی۔ آج تم نے خود مجھے بولنے کیلئے بلایا ہے، تو پھر مجھے برداشت کرو، دل بڑا رکھو۔ مجھے سننے پر بھٹو تمہیں سزا نہیں دیگا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے، جسکا فیصلہ ہمارے لوگ اور تاریخ کریگی۔”

“یہ ایسا پہلا مقدمہ نہیں ہے، شیانگ کائی شیک نے ماو زے تنگ پر غداری کا الزام لگایا تھا، لیکن تاریخی تجربات نے یہ ثابت کردیا کہ دراصل یہ ایک انقلابی عمل تھا، جو چین کے تشکیل نو پر منتج ہوا۔ اسی طرح آمر جنرل بٹیسٹا نے کیوبا میں فیڈل کاسترو اور اسکے ساتھیوں پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا، لیکن ہم سب جانتے ہیں اس عوامی تحریک نے کیوبا کے لوگوں کو آزادی دلا دی۔ لہٰذا ایسے مقدمے میں فیصلہ کرنا، ان عدالتوں کے بس کی بات نہیں، جو اسٹیٹسکو کے حفاظت پر معمور ہیں۔” خیربخش مری نے تقریباً آدھے گھنٹے تک بات کی، اس دوران پوری عدالت میں حُو سی خاموشی طاری رہی۔

5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء نے بھٹو کے حکومت کا تختہ الٹ دیا، کچھ ماہ بعد وہ حیدر آباد جیل نیپ رہنماؤں سے ملنے آئے۔

انہوں نے ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اور خیربخش مری کو جیل سپریٹنڈٹ کے کمرے میں ایک ایک کرکے جدا جدا ملنے کی دعوت دی اور ان سے بات چیت کی۔ پہلے تین رہنماؤں سے وہ تقریباً آدھا آدھا گھنٹہ ملا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان حکومت کو ہٹانے اور انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ بھٹو کا ذاتی تھا، لیکن وہ اپنا پالیسی بدلے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذکورہ لیڈران اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔
لیکن وہ یہ ساری باتیں خیربخش مری سے نہیں کرسکے، جنہوں نے اپنے دستی کھڈی کاٹن کے قمیض پر لینن کا بڑا اور نمایاں بیج لگایا ہوا تھا۔ انکی ملاقات محض دو تین منٹ ہی جاری رہی، جسکے دوران جنرل ضیاء نے خیربخش کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا۔ ضیاء یہ جرئت نہیں کرسکا کہ وہ اسے اپنے ” اسلامی جمہوری” پاکستان کے سیاست کی دعوت دے سکے۔

ضیاء مارشل لاء کی مخالفت کی پاداش میں دو سال جیل میں گذارنے کے بعد میں نے 1980 میں جلاوطنی اختیار کی اور افغانستان چلاگیا۔ کچھ وقت بعد خیربخش مری بھی وہاں پہنچے، ہم کابل میں ایک ساتھ سالوں رہے۔ تقریباً 15000 مری بھی جلاوطنی اختیار کرکے انکے ساتھ مل گئے۔ وہ امید کررہے تھے کہ وہ افغانستان میں رہتے ہوئے، بلوچستان کی آزادی کی تحریک کا آغاز کریں گے۔ خیربخش مری اپنا پورا وقت سیاسی کارکنوں اور اپنے قبائلیوں کی سیاسی تربیت میں صَرف کرتے تھے۔ وہ بہت سارے کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، جنہوں نے اپنے لوگوں کے مستقبل کے بابت انکے نظریات میں وسعت پیدا کی۔ اس عظیم بلوچ رہنما کی بے پناہ عزت کرنے کے باوجود نا سوویت یونین اور نا ہی افغان حکومت اس بات پر راضی تھے کہ وہ بلوچوں کی آزادی کے مسلح جدوجہد کی میزبانی کریں۔

ضیاء کی فوجی آمریت و مغربی نظریہ سازوں کے سیاسی افسانوں کے پروپگینڈوں کے برعکس 1980 میں سوویت یونین کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ گرم پانیوں تک پیش
قدمی کرے۔

لیکن آہنی ارادوں اور مضبوط اعصاب کا مالک خیربخش مری مضبوطی کے ساتھ ایک آزاد بلوچستان کے نظریئے پر ثابت قدمی سے ڈٹا رہا۔ وہ اس قسم کے سیاسی رہنماؤں میں سے نہیں تھا، جن کی حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی بیرونی امداد کے ملنے یا نا ملنے سے مشروط ہو۔ وہ آخری دم تک مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے نظریات پر کاربند رہے۔

نوٹ: افراسیاب خٹک ریٹائرڈ سینیٹر اور تجزیہ نگار ہیں۔ انکا یہ مضمون انگریزی زبان میں ڈیلی بلوچستان ایکسپریس کوئٹہ میں مورخہ 10 جون 2020 کو شائع ہوچکا ہے۔ دی بلوچستان پوسٹ اپنی قارئین کی دلچسپی کیلئے شکریہ کے ساتھ مضمون کا اردو ترجمہ کرکے شائع کررہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل