نواب مری کا کٹھن اور انتہائی ناموافق حالات میں اپنے موقف پر ثابت قدمی محکوم اورمظلوم قوموں کے لئے مشعل راہ ہے۔ مرکزی ترجمان بی این ایم


نواب مری کا کٹھن اور انتہائی ناموافق حالات میں اپنے موقف پر ثابت قدمی محکوم اورمظلوم قوموں کے لئے مشعل راہ ہے۔

مرکزی ترجمان بی این ایم

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے بابا خیر بخش مری کو ان کی چھٹی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابا مری کی زندگی اور اُن کا کردار دنیا بھر کے محکوم اقوام کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ نواب خیر بخش مری نے بلوچ قوم کو قبائلی، گروہی، پارلیمانی اور ریاست کے تابع فرمان، غلام سرداروں اور نوابوں کی موقع پرستانہ سیاست کے مقابلے میں بلوچ قومی سیاست اور قبضہ گیریت کے خلاف مزاحمت کا راستہ دکھایا۔ نواب مری نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کو غلامی سے نفرت، اس سے لڑنے کا درس، قوم میں شعور و بیداری کی تبلیغ اور بلوچ وطن کی آزادی کی جدوجہد میں گزاری۔ ان کا “حق توار” سرکل سے درس لینے والوں میں سے نامی گرامی جہدکار نکلے، بے شمار لوگ متاثر ہوکر بلوچ قومی جہد آزادی کا حصہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ نواب مری کی شخصیت مصلحت سے پاک آدرش و ایقان سے بھرپور تھا۔ مختلف حالات اور انتہائی ناموافق صورت حال بھی ان کی موقف اور نظریے پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ سخت ترین تکالیف و مشکلات کے باوجود بابا مری کا اپنے موقف پر ڈٹے رہنا محکوم اقوام کو ہمیشہ حوصلہ فراہم کرتا رہے گا۔ اپنی زندگی کی ابتدائی ایام سے لیکر آخر دم تک نواب خیربخش مری نے بلوچ آزادی کی جدوجہد کے لئے جو قربانیاں دیں اُن پر بلوچوں کی آئندہ نسلیں فخر کریں گی۔

ترجمان نے کہا کہ نواب خیر بخش مری کا بلوچ عوام کی ذلت، تکالیف، معاشی و سیاسی بدحالی کو ختم کرنے کے لئے موجودہ تحریک آزادی نمایاں، موثر اور رہنمایانہ کرداراداکرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ افغانستان جلا وطنی سے لیکر دیگر ہزاروں مشکلات کے باوجود بھی نواب خیر بخش مری نے قابض سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قومی آزادی کے لئے اپنی دوٹوک، غیرمصالحانہ موقف اور جدو جہد کی پاداش میں انہیں ہر طرح کی اذیتیں پہنچائیں گئیں اور ان پر خوف، لالچ، جیل، منفی پروپیگنڈا سمیت ہر طرح کے ہتھکنڈے آزمائے گئے لیکن بابا مری اپنے موقف پہ ڈٹے رہے۔ ریاست نے نواب خیر بخش مری کو مختلف حربوں کے استعمال سے جھکانا چاہا، ان پر قاتلانہ حملے ہوئے اور انہیں طویل عرصے تک جیل میں قید رکھا گیا، لیکن ان تمام حربوں کے باوجود ریاست بابا مری کو جھکانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے قبضہ گیر ریاست کے ساتھ بلوچ قومی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ خیر بخش مری بلوچ عوام کے لئے ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جو ترقی پسند نظریات پر مبنی ہو اور وہاں عوام یکساں طور پر خوش حال ہوں۔ بابا مری بار ہا اس بات کو دہراتے تھے کہ ایک ایسی آزادی کا کوئی فائدہ نہیں جہاں عام بلوچ پھر اسی طرح کی صورت حال کا شکار ہو جس طرح کہ آج ہے۔

ترجمان نے نواب خیر بخش مری کی جہدِ مسلسل اور قربانیوں کو بلوچ قوم کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواب خیر بخش مری کی قربانیاں بلوچ تاریخ کے لئے ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نواب خیر بخش مری نے سامراجی میگا منصوبوں سمیت بلوچستان میں پاکستانی قبضہ گیریت کے نقصانات کے حوالے سے جو پیشنگوئی کیے تھے، وہ آج صحیح ثابت ہورہے ہیں۔

بی این ایم ترجمان نے کہا کہ نواب مری بلوچ گلزمین کے سچے فرزندوں میں سے تھے۔ بابا مری نے ہمارے لئے اور آنے والے نسلوں کے لئے ایک روشن مثال قائم کی کہ کس طرح لالچ اور خوف سے بالاتر ہوکر مخلصی اور دیانت داری سے اپنے وطن کی خدمت کی جاسکتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم نواب خیر بخش مری کی طرز زندگی اور جدوجہد سے سبق حاصل کرکے آزادی کی تحریک میں اپنا کردار ادا کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل