شہید حمید بلوچ


شہید حمید بلوچ

بلوچ سرزمین تاریخ میں ہمیشہ بیرونی یلغاروں کی زد میں رہا ہے اور اس دھرتی کو ہمیشہ آبادو سلامت اور خوشحال رکھنے کے لیئے بلوچ نوجونوں نے اپنے جان کی قربانی دیکر بلوچ سرزمین بلوچستان کو قائم و دائم رکھا۔ اس میں بلوچ تاریخ کی ناقابل فراموش قربانیوں کی داستانیں آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہاں کے فرزندوں نے اپنی قومی تحریک آزادی کے لیئے ظالم و جابر قوتوں کے خلاف کسی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا، بلوچستان میں لوگوں کی یہ تاریخی روایات رہی ہے کہ وہ اپنے وطن میں غیروں کے ظلم و بربریت استحصال اور دیگر سازشوں کا مقابلہ سروں کے نذرانوں کی شکل میں ادا کرنے کے عمل کو اپنی قومی عزت و بقا سمھجتے ہیں اور ان سرمچاروں میں سے ایک کو بلوچ تاریخ شہید حمید بلوچ کے نام سے جانتی ہے۔ دیگر بلوچ فرزندوں کی طرح حمید بلوچ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر قومی تحریک کے لئے پھانسی گھاٹ پر چڑھ کر قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیئے خود کو امر کردیا۔

واضح رہے کہ 1902 میں شہید حمید کے دادا کو انگریز سرکار نے قومی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں پھانسی پر چڑھایا تھا۔ حمید بلوچ نے قومی تحریک کو ملکی و عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیئے خوشی خوشی پھانسی کی سزا قبول کرلی، کیونکہ اسے علم تھا کہ اسکی شہادت قبضہ گیر کی موت ہوگی۔ حمید کی شہادت سے دنیا کی توجہ تحریک کی جانب مبذول ہوئی۔ محکوم اور مظلوم قومی تحریکوں میں حمید بلوچ جیسے سرفروش صدیوں تک پیدا نہیں ہونگے.

شہید حمید ضلع کیچ کے گاؤں دشت کنچتی میں 1949 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی علاقے تربت سے حاصل کی۔ حمید بلوچ نے جب نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو بلوچ نوجوان طالب علموں نے قومی شعور کی تشہیر کے لیئے ایک تنظیم کی تشکیل کی، جو بی ایس او کے نام سے آج بھی موجود ہے۔ حمید بلوچ نے قومی آزادی کے لئے بننے والی اس تنظیم کو جوائن کیا۔ بی ایس او نے حمید بلوچ کی تربیت ایسے کی کہ وہ ہر قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا۔ دنیا کے سامراجی ملکوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ مظلوموں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیئے مظلوموں کا بھرپور استعمال کرتا ہے، تاکہ اس سے دوہری مفاد حاصل کرسکے، ایک طرف ملک میں جاری شورش کو دبایا جاسکے اور دوسری طرف مظلوموں کے دلوں میں ایک دوسرے کے دلوں میں نفرت کے جذبات کو مزید تپش دے سکے۔

عمانی حکومت نے اپنے ملک میں جاری ظفاری تحریک کو کچلنے کے لئے بلوچ قوم کے فرزندوں کو اپنے فوج میں بھرتی کرنے کی کوشش کی، شہید حمید نے عمان حکومت اور ان کے سامراجی گماشتوں کے اس عمل کے خلاف احتجاج کیا اور 9 دسمبر 1979 کو ایک عمانی فوجی افسر پر فائر کھول دیا، بد قسمتی سے عمانی آفیسر تو بچ گیا لیکن حمید بلوچ گرفتار کرلیئے گئے۔ نام نہاد عدالتوں نے حمید بلوچ کو پھانسی پر چڑھانے کا حکم دیا اور حکومت پاکستان نے 11 جون 1981 کو حمید بلوچ کو پھانسی پر چڑھا کر اپنی شکست کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا۔

حمید بلوچ ایک عہد کا نام تھا، جس نے قومی غلامی کیخلاف بھگت سنگھ کی طرح پھانسی گھات پر چڑھ کر خود کو ہمیشہ کے لیئے امر کردیا۔ شہید حمید بلوچ بی ایس او کا سرگرم ممبر تھا۔ حمید بلوچ نے اپنی شہادت سے چند گھنٹے قبل بلوچ قوم کے نام اپنی ایک وصیت لکھی، جس کے مطالعے سے انکے نظریات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور نوجوان طالب علم انکے نظریات پر عمل کرنے سے ہی اپنے کردار کی تشکیل کرسکتے ہیں۔ حمید بلوچ لکھتے ہیں کہ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﻭﺻﯿﺖ ﻧﺎﻣﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺮﺯﻧﺪﻭﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺑﮭﯽ پائے گا یا ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﮑھ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﻣﺴﻠﺢ ﺍﻓﺮﺍﺩ موجود ہیں، ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ہر عمل ﮐﻮ ﺑﻐﻮﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺁﭨھ گھنٹے ﺯﻧﺪﮦ ﺭہنے ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺁﭨﮫ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﭘﺮ لٹکایا جاونگا لیکن ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ مجھے ﻧﮧ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﮨﮯ اور نہ ہی پچھتاوہ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿئﮯ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﻼ ﻣﻘﺼﺪ ﮨﻮ ﺍﻭﺭوہﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ۔ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ بلکہﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﻠﻮﭺ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺮﺩ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ پھندے ﮐﻮ ﭼﻮم ﮐﺮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈالے ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﻥ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺟﺴﮑﯽ تکمیل ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺑﻠﻮﭺ نوجوان ہیﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ 1902 ﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ کے ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ۔ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﮐﮧ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻣﻼ ﮨﻮ۔ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﺷﺎﺋﺪﺍﺗﻨﺎ قریب ﮨﮯ کہ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮتے ہی مسرت ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮔﻮﮐﮧ ﺷﺎﺋﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺷﺎﺋﺪ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﺎﻧﮍﯼ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﯾﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺒﺮﮒ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻨﺰﻝ کو حاصل کرلیں گےاورﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺗﺴکین ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎًﻣﯿﺮﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﻥ ﻋﻈﯿﻢ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻢ ﮨﻮﮔﯽ، ﺟﻮ ﺑﻠﻮﭺ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩے رہے ہیں۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩنیں، ﻋﺰﯾﺰ ﯾﻘﯿﻨﺎ! ﻣﺮﮮ ﻣﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻧﻮﺣﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ گے، ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺍﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ سنائے تھے ﮐﮧ “ﺑﭻ ﻣﻨﯽ ﭘﻠﮕﺪﯾﮟ ﻭﺭﻧﺎﺑﯿﺖ ﺯﯾﺮﯾﺖ ﮨﺮ ﺷﺸﯿﮟ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭﺍﮞ ﺑﺪﻭﺍﮨﺎﮞ ﺷﮑﻮﻥ ﺩﯾﻢ ﮐﻨﺖ ﺟﻮﺭﯾﮟ ﺩﺷﻤﻨﺎﮞ ﭘﺮﺍﻡ ﺍﯾﺖ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ دشمن ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ دینےﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺩﻭﺳﺖ ﻋﺰﯾﺰﺍﻭﺭ ﻣﯿرے ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ، ﻣﯿﺮے ﻣﺸﻦ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﮧ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﺎﻟﺒﻌﻠﻢ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺁﻭﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﺲ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﻭ ﯾﮑﺠﮩﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﺁﭘﺲ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﻼﻓﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﺷﻤﻦ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮﺩﺷﻤﻦ ﺑﮍﺍﻣﮑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍاﮔﺮ ﺑﯽ ﺍﯾﺲ ﺍﻭ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ، ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﻣﻨﺘﺸﺮ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﺰﯾﺪﺩﻭﺭ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﺒﺰﮦ ﺯﺍﺭ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺁﺑﯿﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔”

شہید حمید کی زندگی انکی شہادت اور بلوچ قوم کے لئے ان کا واضح پیغام اس بات کی شہادت ہے کہ نوجوانوں کی قربانی ہی تحریک کو جلا بخشتی ہیں شہید حمید نے بھی اپنی قربانی سے نوجوانوں کو وہ عزم و حوصلہ عطا کیا، جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہزاروں نوجوان اس کاز کا حصہ ہیں اور ہزاروں نوجوانوں اس مقصد کی تکمیل کے لئے زندانوں میں بند ہیں اور ہزاروں شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔ حمید بلوچ اپنی وصیت میں اتحاد و یکجہتی اور اجتماع کی اہمیت پر زوردیتے ہیں کیونکہ وہ ایک دور اندیش رہنما اور دشمن کے حکمت عملیوں سے واقفیت رکھنے والے تھے۔ شہید حمید بلوچ کے نظریات ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے رہینگے اور ہم پر فرض ہے کہ ہم حمید بلوچ اور دیگر شہدا کے نقش قدم پر چل کر بلوچ قومی تحریک کو منزل مقصود تک پہنچائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل