فری بلوچستان موومنٹ جرمنی برانچ کی جانب سے جرمنی کے شہر ہنوفر میں احتجاجی مظاہرہ و ریلی



جرمنی: فری بلوچستان موومنٹ جرمنی برانچ کی جانب سے ٹارچر کے شکار افراد سے یکجہتی کے دن کی مناسبت سے جرمنی کے شہر ہنوفر میں احتجاجی مظاہرہ ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

مظاہرے میں جرمنی میں مقیم آزادی پسند سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ سیاسی کارکنوں سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی بھی شرکت۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ اس دوران مظاہرین بلوچستان میں پاکستانی و ایرانی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کو قابض پاکستان و ایران نے بلوچوں کے لئے جہنم بنا دیا ہے جہاں سالوں سے بلوچ عوام جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار ہیں۔ دنیا کے ذمہ دار اداروں نے بلوچ عوام کو پاکستان و ایران کے مظالم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ اگر بنگلا دیش میں پاکستانی فوج کی نسل کُشی پر دنیا یوں خاموشی اختیار نہ کرتی اور پاکستان کے فوجی جرنیلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر جواب دہ بناتی تو وہ یوں بلوچستان میں نسل کُشی کا مرتکب نہ بنتے مگر بدقسمتی سے پاکستان کو مکمل چھوٹ دی گئی ہے اور وہ آزادانہ طور پر بلوچ کی نسل کُشی میں مصروف ہے۔

ایف بی ایم کے کارکنوں نے جرمن عوام میں “بلوچستان، جہاں ٹارچر اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بذریعہ ٹارچر دبایا جاتا ہے” کے عنوان سے سینکڑوں کی تعداد میں پمفلیٹ تقسیم کئے گئے اور ان کو بلوچستان کے موجودہ حالات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔


Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل