پیرس ایک بارپھرمیدان جنگ بن گیا

پیرس:فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک درجن مظاہرین زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی پولیس نے وسطی پیرس میں مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والے مظاہرین نسل پرستی اور پولیس کے تشدد کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ پولیس نے احتجاج کے دوران گوروں کے خلاف نسل پرستی کے نعرے پرمبنی بینرز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقعے پر پولیس نے 12کارکنوں کو گرفتار کیا۔اڈامہ ٹراوی نامی ایک سفید فام مقتول کے حامیوں نے اس احتجاج کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا تاہم پولیس نے انہیں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اڈاما ایک سفید فام فرانسیسی شہری تھا جسے سنہ 2016 میں پولیس کی تحویل میں تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ مظاہرین اڈاما اور پولیس کے تشدد سے متاثر ہونے والے دوسرے افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل