مسلح جدوجہد دشمن کو زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے نواب خیر بخش مری


مسلح جدوجہد دشمن کو زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے

نواب خیر بخش مری

نواب خیر بخش مری بلوچستان کی سیاست کے چوتھے بڑے برج ہیں‘ ان برجوں میں سے دو ،میر غوث بخش بزنجو اور نواب اکبر خان بگٹی اب اس دنیا میں نہیں رہے جبکہ سردار عطا اللہ مینگل اور نواب مری باحیات ہیں۔
نواب خیر بخش مری‘ قبیلے کے سردار اور مسلح جدوجہد میں سرگرمِ عمل بالاچ مری کے والد ہیں ۔ترقی پسند ،قوم پرست بلوچ رہنما کے طور پر نواب خیر بخش مری، ذوالفقار بھٹو کے دور میں خود بھی مسلح جدوجہد کر چکے ہیں۔ نواب خیر بخش مری عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ بلوچ رہنما رہے ہیں۔ اس پارٹی پر ذوالفقار علی بھٹو نے پابندی عائد کر دی تھی۔ نواب خیر بخش مری ،بلوچ حقوق کی تمام تحریکیوں کی لیجنڈ ری شخصیت اور جنگجو مری قبیلے کے سربراہ ہیں۔ ان کا قبیلہ پاکستان آرمی کے زیر عتاب رہا، جس کے بعد دو سال، 1973ءمیں پہاڑوں پر چلے گئے۔ بعد میں نواب خیر بخش مری نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی اور افغانستان اور لندن میں رہے اور نواز شریف کے پہلے دور میں واپس آئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
٭٭٭

حکومت کا کہنا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت ٹارگٹ کلنگ نہیں ہے ۔آپ اس کو مجموعی صورتحال کو کیسے بیان کریں گے؟

اکبر خان بگٹی کی شہادت ایک سلسلے کی کڑی ہے۔ اگر ان کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کروں گا تو ایک بڑی زنجیر بن جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ جو آج کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹارگٹ کلنگ نہیں ہے ،ہم بات کرنے گئے تھے ،یہ سب غلط ہے ۔اس وقت مجھے شک ہے بلکہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سرکاری کو یہ خدشہ ہے کہ یہ بلوچ جو کہہ رہے ہیں کہ اپنے حق وسائل، ساحل اور اختیار اس کو واضح طور پر سیاسی معنی میں نہیں لیا جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں صوبہ جاتی خود مختاری ہو ،کوئی کہتا ہے کہ کنکرنٹ لسٹ ہو ،کچھ کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان نہیں توڑنا چاہتے، ہم علیحدہ ہونا نہیں چاہتے ....کئی قسم کے فنی پہلو ہیں یا آئیڈیا لوجیکل ہیں۔ میں نہیںجانتا وہ اس طرح کیوں کہہ رہے ہیں اور ڈر ہے کہ بلوچ حقوق کی تحریک میں جس طرح ابھار پیدا ہو رہا ہے کہیں آزادی مانگنے والے سب پر حاوی نہ ہو جائیں۔ فکر بھی حاوی اور عمل بھی حاوی نہ ہو جائے۔ فکر سے مراد یہ ہے کہ ہم آزادی چاہتے ہیں‘صوبہ جاتی خود مختاری نہیں چاہتے، ترقی نہیں چاہتے، کچھ ملازمتیں نہیں چاہتے۔ پاکستان حکومت چاہتی ہے کہ یہ نہ ہونے پائے ۔مسلح جدوجہد، میرے نقطہ نظر سے اور دنیاوی نقطہ نظر سے دشمن کو تکلیف دیتی ہے ۔باقی چیزوں کی بھی ضرورت ہے؛ جلسہ ،جلوس، تقریر وغیرہ لیکن مسلح جدوجہد اس کو زیادہ تکلیف پہنچا سکتی ہے۔ یہ موثر ذریعہ ہے اپنے حقوق حاصل کرنے کا۔حکومت چاہتی ہے کہ یہ بالغ نہ ہو۔ اکبر خان کو جو مارا گیا، میری نظر میں وہ دیدہ و دانستہ ہے۔

کچھ بلوچ تحریک کا تاریخی پس منظر بتائیں؟

جب پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہو رہا تھا‘ انگریز سرکار نے بلوچوں سے پوچھا تھا کہ آپ آزاد ہوں گے یا کسی کے ساتھ شامل ہوں گے؟ اس وقت قلات کی دو اسمبلیاں تھیں؛ ایک ہاﺅس آف لارڈز اور ایک ہاﺅس آف کامن۔ دونوں نے اکثریت سے کہا کہ ہم پاکستان یا ہندوستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے ،ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے کو کچھ دنوں تک مانا بھی گیا ۔پھر ملٹری ایکشن ہوا ۔تو ہمارے بلوچستان کی ابتدا سے جو حیثیت ہے ،وہ ایسی ہے کہ اس پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔حقوق کے لئے عبدالکریم (خان آف قلات کا بھائی) بار بار پہاڑوں پر گیا، اسے یہ کہہ کر نیچے لایا گیا کہ قرآن ہے ،یہ ہے، وہ ہے۔ نوروز کے بارے میں بھی قرآن کو بیچ میں ڈالا گیا۔ پھر پھانسیاں دی گئیں۔ ہم جیسے چھوٹے لوگ افغانستان لائے گئے جو اپنی مجبوریاں جانتے تھے۔ راستے میں آرہے تھے کہ ہمارے ہتھیاروں پر چھاپہ مارا گیا اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پاکستان آج کہتا ہے کہ تین سردار ہیں، دو اضلاع ہیں، ہندو اس کی مدد کر رہا ہے، ایران کر رہا ہے، امریکہ کر رہا ہے ۔میں پاکستان کو ریاست نہیں سمجھتا وہ اس لئے کہ انگریز کے جانے بعد یہ اس کی دوسری شکل ہے۔ یہ نو آبادیاتی ہے جسے آ قادور بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے چلاتا ہے ۔انگریز نے کئی سال حکومت کی ہے ۔فوج میں 90 فیصد ہندوستانی تھے۔ انٹیلی جنس ہندوستانی تھی۔ سب ادارے، انتظامیہ ہندوستانیوں کی تھی۔ اس کے باوجود حاکم انگریز تھا۔ اس لئے پاکستان حکومت کا یہ کہنا کہ ملازمتیں دیں گے ،سڑکیں بنا دیں گے ،ڈویلپمنٹ کریں گے ....
اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ بلوچوں کو حق دے دیں گے۔ مشرف پانچ ارب لے کر کوہلو گیا تھا۔ تو آپ آئے ہیں دہلی والے، پانچ ارب لے کر! کیا ہم میراثی ہیں! ہم خیرات مانگنے والے ہیں! ہمارے باپ دادا کی زمین نہیں ہے ؟(یہی کرنا تھا تو )انگریز کو یہاں سے نکالنے کی ضرورت کیا تھی؟ آپ کو ڈویلپمنٹ چاہئے نا‘ وہ تو اپنی طبیعت کے مطابق،اپنے اختیار سے جو بچے گا، دے گا۔ ہمارے یہاں جو روٹی بچتی ہے، اسے’ و دھی‘ کہتے ہیں ،جو پسماندہ لوگوں کو دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ’ ودھی والے‘ ہیں، یعنی مانگ کر کھانے والے۔ اسے ا چھا نہیں سمجھا جاتا۔پنجاب سمجھتا ہے کہ ہمیں حصہ دینا ہے۔ اس کو برے معنی میں سمجھتے ہیں یعنی ہم ودھی والے ہیں، پسماندہ ہیں۔ دہلی والے اور پنجابی امریکہ کے غلام ہمیں پسماندہ کہتے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس قدر غلامی ہے جیسے (غیر کو)سجدہ کرنا ہے۔ میں شاید یہ نہیں کہہ سکتا کہ بلوچستان کے سیاستدان سچ مچ آزاد قوم کی بات کر رہے ہیں یا محتاجی کی بات کر رہے ہیں جسے کہتے ہیں ڈیپنڈنٹ نیشنل ازم یا انڈیپنڈنٹ یعنی میں ترقی دوں گا ،میں یہ دوں گا، سکول دوں گا؛ یہ محتاجی ہے، ترقی نہیں ہے۔ جسے میںترقی کہتا ہوں ،وہ اختیار کی بات ہے۔ اور یہ نہ وہ ہمیں دینے والے ہیں ،نہ کوئی دنیا میں دیتا ہے؛ چاہے وہ کتنا مہذب کیوں نہ ہو۔ مشرف اور شوکت عزیز یہ کہتے ہیں کہ ان بلوچوں کو ترقی دیں گے، یہاں جمہوریت لائیں گے، یہاں ترقی لائیں ۔

یہ کہتے ہیں یہاں ملکی تنصیبات پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ ملکی تنصیبات ‘پھر چاہے مشرف یا نواز شریف کہے یا بھٹو کی بیٹی کہے ؛سوئی گیس ان کی تنصیبات کس طرح بنتے ہیں؟ یہ کس کی تنصیبات ہیں ؛قابض کی تنصیبات ہیں یا مالک کی تنصیبات ہیں؟ زمین تو مالک کی ہے۔ بنانے والے، اس سے فائدہ اٹھانے والے، قابض ہو سکتے ہیں۔ یہ اپنی طاقت پر ہمیں غلام نہیں رکھ سکتے۔ یہ بھی ان کے آقا امپیریلسٹ کی ضرورت ہے ۔اس کی وجہ سے انہیں طاقت مل رہی ہے۔ انہوں نے ہمیں دبایا ہوا ہے۔ نہ تو یہ تنصیبات پنجابی کی ہیں نہ مہاجر کی ہیں۔ طاقت کے زور والوں کی تنصیبات ضرور کہہ سکتے ہیں۔ اگر کوئی جائز چیز ہے تو وہ بلوچ کی ہے۔ اس لئے کچھ سیکشن (حلقے) یہ محسوس کر رہے ہیں کہ خود کو ترقی دینے کیلئے خود اختیار حاصل کریں۔

یہاں ہماری سیاسی جماعتیں بھی ہیں،مختلف ناموں سے ۔میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ادھوری بات اور ادھورا عمل ہے۔ اسے تابعدارانہ مطالبہ کہہ سکتے ہیں ۔یہ جو پانچ ارب لایا ہے، یہ تب کوئی بات ہوتی کہ وہ کہتا کہ یہ میں لایا ہوں ایک شریک کی حیثیت سے، بلوچ اس میں برابر کا شریک ہے، اس کو ترقی دینے کا اختیار بھی بلوچ رکھتا ہے، میں یہ اتنے پیسے خرچ کرنے لایا ہوں، (لیکن وہ کہتا ہے ) یہ گھاس چرنے والے ہیں، میں چارہ لے کر آیا ہوں؛ کیونکہ بہت سارے ہوں گے جو مزدوری ،نوکری، ملازمت پر مریں گے۔ کچھ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اختیار ہمارے بلوچوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ یہ نہیں کہ آپ آکر کارخانہ بنائیں گے، آپ آکر سڑکیں بنائیں گے ۔

اکبر کی مسلح جدوجہد.... اکبر خان کی حرکتوں سے ان کے کئی خدشات تھے کہ اکبر خان آج کل جو کررہا ہے شاید اس سیکشن (حلقے) کے ذریعے کو تقویت مل رہی ہے جو ہتھیار کا ہے ۔یہاں کئی جماعتیں ہیں ؛کوئی نیشنل پارٹی کہلاتی ہے ،کوئی بلوچستان نیشنل پارٹی کہلاتی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی برابر نہیں ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیبل کی بات ہے۔ بلوچ نیشنل پارٹی اورچیز ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی اور چیز ہے۔ بلوچستان ایک صوبہ ہے، انتظامی صوبہ ہو سکتا ہے۔،یہ نہیں کہہ سکتے کہ بلوچ نام ہے جسے اختیارات نہیں ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کہنا یا نیشنل پارٹی کہنا نہ جانے کیا معنی رکھتے ہیں ۔انگریزی کی ایک مثال ہے کہ Call rose with any name smell is same (گلاب کے پھول کو چاہے کسی بھی نام سے پکارو خوشبو ایک ہی ہوتی ہے ) ہاں آپ اسے کسی نام سے پکاریں، اس کی تاثیر اور حیثیت وہی ہے۔ یہ اور بات ہے یہاں تو نام بھی ایسے ہیں اور تاثیر بھی معلوم نہیں ہے کہ اس میں نقلی عطر ہے یا اصلی یہاں کہہ رہے ہیں کہ صاحب ہم تو بات چیت کرنے گئے تھے ،ٹارگٹ کلنگ نہیں تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ ماس ٹارگٹ کلنگ ہے ۔یہ جو بلوچ نیشنل ازم ابھر رہا ہے، اس پر بھی حملہ ہے۔ جس طرح حسن نصرت اللہ کو مارنا اسرائیل کی ضرورت ہے نہ کہ ساری فوج کی کیونکہ وہ ذہن ہے۔ اس پاکستان سرکار کی ضرورت کے مطابق یہاں ٹارگٹ کلنگ بھی ضرورت ہے اور ماس کلنگ کی بھی ضرورت ہے تاکہ سپاہی بھی مارا جائے ،سرکردہ بھی مارا جائے، وہ جو ترجمان برینز (دماغ)ہیں وہ بھی مارے جائیں ،جو ان کے ایکسپرٹ ہیں وہ بھی مارے جائیں ۔جہاں سرمایہ حاوی ہوتا ہے‘ اس کے بارے میں ایک فرنچ رائٹر کے قول کے مطابق فوج سب سے بڑی محافظ ہے‘ سرمایہ دارانہ اور مراعتی طبقے کی دنیا میں فوج اور سیاست سب سے بڑے مجرم ثابت ہوئے ہیں۔ ہم غدار ہیں، ہم ظالم ہیں ،سردار محدود ہیں، جابر ہیں، پسماندہ ہیں۔ اتنے سال گزر گئے ہیں، دنیا میں غربت میں کتنی کمی آئی ہے اور آسودگی میں کتنافرق آیا ہے! غریب عوام کی روٹی روغنی کرنا اور بات ہے اس کو برابر کرنا اور بات ہے۔ میں ارب پتی ہوں، آپ تین چار ہزار کماتے ہیں۔ میں آپ کو مارتا ہوں، آپ کی ٹانگ توڑتا ہوں، عدالت میں آپ میری برابری کر سکیں گے؟ میں بارہ وکیل بھی کر سکتا ہوں، سفارشی بھی لا سکتا ہوں، رشوت بھی دے سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہیں کہ قانون میں سب برابر ہیں؛ ایسا قانون دنیا میں بنا ہے جس میںسب برابر ہیں؟ وہ برابر کی ٹکر میں آجائیںتو ہوسکتا ہے ۔برابری ایک مقصد ہے مگر حاصل نہیں ہوا ہے ۔آزادی ضرورت ہے، خواہش ہے مگر کہاں دنیا میں کہہ سکتے ہیں کہ آزادی ہے ۔یہ منزل ابھی تک دور ہے۔ جہاں گئی اس نے اپنی جیب سے خرچ کر کے ترقی دی ہے۔ اس پر حکومت کے اپنے برابر لا کر اور سمجھا کہ اب یہ خود چل سکتے ہیں اسے چھوڑ دیا ہو۔

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، آپ کو اس پر کیوں اعتراضات ہیں؟

حکمرانوں کے خیال میں بلوچستان اب منافع بخش ہے۔ دائیں بائیں روس کے ٹوٹنے کے بعد اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ سینٹرل ایشیا کی ریاستیں اب خودمختار ہو گئی ہیں۔
٭٭٭

انٹرویو : بی بی سی ،اردوسروس

ذریعہ : روزنامہ آساپ ،کوئٹہ

اشاعت : اکتوبر دو ہزار چھ

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل