پروفیسر صبا دشتیاری ، جدوجہد اور حالات زندگی

پروفیسر صبا دشتیاری ، جدوجہد اور حالات زندگی



جو کندیل خون کے قطروں سے روشن ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت بجھا نہیں سکتی ہے۔ چے گویرا، جوزے مارٹی ،لکشمی بائی، برونو، مارٹن لوتھر کنگ، ماو زے تنگ اور کم ال سنگ جیسے ہستیوں نے اپنے خون کے قطرے دیکر دنیا کی رونقیں بحال کیے۔ ان کندیل کو بجھانے کی ہمت نہ کسی سامراج کو عہد قدیم میں تھی اور نہ ہی دور جدید میں کسی ایسی طاقت نے جنم لیا جو ان کندیل کو بجھاسکے۔ دنیا کے ہر عہد میں ایسے عظیم ہستیوں نے جنم لیا جنھوں نے شمع کی طرح خود کو پروانے کی محبت میں جلا ڈالا ہے۔ ان عظیم ہستیوں میں ایک پروفیسر صبا دشتیاری ہے۔ جنھوں نے اپنی قومی درد کو محسوس کرتے ہوئے قومی غلامی کے خلاف علمی و عملی جہاد کا اعلان کرکے بلوچ سماج میں ایسی روشنی کی بنیاد رکھی کہ اندھیرے میں گری ہوئی بلوچ سماج میں ایسی روشنی پھیل گئی جو ہمیشہ بلوچ سماج کو روشنی فراہم کرتی رہے گی۔ صبا دشتیاری کی علمی و ادبی اور سیاسی خدمات نے بلوچ نوجوانوں میں شعور کی ایسی خوشبو پھیلائی جس سے پورا بلوچ سماج معطر ہوگیا ۔استاد کی جدوجہد انکی علم ، اپنے سرزمین اور طالب علموں سے شعوری محبت کا اندازہ اسکی سیاسی علمی و ادبی خدمات کے جائزے سے ہی لیا جاسکتاہے۔
حالات زندگی۔
استاد صبا دشتیاری یکم ستمبر 1953 کو کراچی کے ایک پسماندہ علاقے ماری پور گریکس میں پیدا ہوئے ۔اسی سال خاندان کے افراد ماری پور سے لیاری منتقل ہوئے اور لیاری سے ہی استاد صبا کی تعلیمی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ اپنی ابتدائی تعلیم لیاری نیا آباد کے عیسی جمال پرائمری اسکول سے پاس کرتا ہے اور میٹرک اوکھائی میمن اسکول سے پاس کرتا ہے۔ آپ نے 1973 میں انٹر کامرس ایس ایم کامرس کالج سے پاس کیا ہے۔ اسی عرصے میں والدہ کی وفات کے بعد بزرگوں کے مشورے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دینی علوم حاصل کرنے کے لئے چلا جاتا ہے جہاں وہ دینیات، تفسیر ،فقہ، حدیث، عربی کی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ مدرسے میں دنیاوی علوم حاصل کرنے کی اجازت ہونے کی وجہ سے وہ انگریزی بھی پڑھتا تھا اور 1976 میں بی اے 1978 میں ایم اے اسلامیات اور 1982 میں مذہب و فلسفے کے مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرتا ہے۔ 1979 میں استاد صبا کراچی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لئے ایڈمیشن لیتا ہے لیکن اسی عرصے اسکی تعیناتی بلوچستان یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچرار ہوتی ہے جس کی وجہ سے پی ایچ ڈی کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہیں اور وہ علم کی شمعیں کو روشن کرنے کے لئے اور اپنی حقیقی زندگی کا آغاز کرنے بلوچستان یونیورسٹی کا رخ کرتا ہے۔
علمی و ادبی خدمات۔
کہتے ہیں کہ ہر کامیاب انسان کی کامیابی میں کسی خاص فرد کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن دنیا میں کچھ خاص لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکی جدوجہد اور کامیابی میں حالات و واقعات، حادثات و سانحات اہم کردار ادا کرتے ہیں ان انسانوں کی فہرست میں استاد صبا کا نام سر فہرست ہے۔ استاد صبا دینی علوم کے ماہر اور اسلامیات میں فارغ التحصیل تھے اور ایسے اداروں میں ابتدائی تعلیم حاصل کی جہاں کا نصاب قدامت پرستی کو فروغ دیتا ہے اور جدیدیت سے خوفزدہ رہتا ہے لیکن جب استاد کی تعیناتی بلوچستان یونیورسٹی میں ہوتا ہے تو وہاں کے حالات و واقعات اسکی زندگی اور سوچ کو تبدیل کرنے کا باعث بن جاتے ہیں اور وہ اسی سوچ و فکر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتا ہے ۔استاد صبا کو اس بات کا ادراک تھا کہ قوموں کے عروج و زوال میں انکے اندرونی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی قومی تحریک میں زبان کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لئے بلوچ زبان کی ترقی و ترویج کے لئے سید ظہور شاہ ہاشمی لائبریری کی بنیاد رکھتا ہے۔ 1988 میں لائبریری کا سرپرست اعلی بن جاتا ہے ۔بلوچی ادب کو منظم انداز میں ترقی دینے کے لئے استاد بے انتھک جدوجہد کرتا ہے۔ چیدگ کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کرتا ہے انکی اس ادبی خدمات پر انہیں مست توکلی ایوارڈ سے بھی نوازا جاتا ہے۔ استاد صبا دشتیاری نے بلوچی ادب کو ترقی دینے کے لئے کئی کتابیں تخلیق کیں جن میں ھون و ھوشام ، گلکار وچکنکار، بلوچی زبان ء آکبت ( جلد اول و دوئم) ، انگریں واھگ، گنگدامیں سرزمین، ترانگانی بنزہ، بے تواریں دریا، نمدیانی دروت، آس و آسیب قابل ذکر ہیں۔ جبکہ اردو زبان و ادب میں انہوں نے بے شمار کتابیں لکھیں جن میں مطالعہ فلسفہ، اور فلسفہ اسلام و یونان کے علاوہ کئی کتابیں لکھیں جنہیں وہ چھاپنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے جن کو چھاپنے کے لئے سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائبرئیری کام کررہی ہے۔ کندیل بلوچ نے نہ صرف بلوچی زبان و ادب کی ترقی کے لئے کتابیں لکھیں بلکہ ایک زندہ اور شعور یافتہ دانشور کی طرح سچ اور حق کی بات کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ ان کی بہادری انہیں ابراہیم شناسی ،خالدہ ادیب ،خانم اور ژال پال سارتر جیسے مصنفوں کی فہرست میں شمار کرتی ہے۔ استاد صبا دشتیاری نے پاکستانی نصاب اور تعلیمی نظام پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام تعلیم انسان کو نامرد بناتی ہے۔ استاد نے اپنے تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ ادب کو سیاست سے الگ کرنے والے ادیبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ایسے دانشوروں کو بوسیدہ ذہنیت کا مالک قرار دیا کہ جن میں جو ٹھونسا جائے وہی اگل دیتے ہیں ۔
استاد صبا دشتیاری ایک زندہ دل اور محبت کرنے والے انسان تھے انہیں اپنے شاگردوں سے بے انتہا محبت تھی۔ بلوچ سماج میں ایسے موضوعات کو انہوں نے موضوع بحث بنایا جو بلوچ سماج میں ممنوع قرار دی جاتی تھی لیکن انہوں نے طلباء کو اپنی ذہنی اظہار کا بھرپور موقع فراہم کیا وطن اور قوم سے اتنی محبت تھی کہ انہوں نے شادی کرنے کے بجائے اپنا سارا وقت علم و ادب کی ترقی و ترویج کو دی اور اپنی تنخواہ کا ایک حصہ کتابوں کی اشاعت اور ادبی تنظیموں کو دئیے تاکہ علم کی شمع سے پورا بلوچ سماج مستفید ہو اور انکے ذہن پاکستانی بوسیدہ نظام تعلیم سے چھٹکارہ پاکر حقیقی علم کی جانب گامزن ہو جو آزادی کا راستہ ہے اور جو انسانیت کا راستہ ہے ۔
سیاسی و سماجی خدمات۔
پروفیسر صبا دشتیاری نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کی جانے والی احتجاجوں سے کیا وہ لاپتہ افراد کے ہر احتجاج میں شریک ہوتے اور باقاعدہ پاکستانی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے ۔استاد نے بلوچستان کے ہر شہر اور ہر گدان میں آزادی کا پیغام پہنچانے کے لئے وہاں کا دورہ کیا اور عوام کو بھرپور شعوری آگاہی فراہم کی۔ 2009 کو جب پاکستانی عسکری اداروں نے بلوچ سیاسی
پارٹیوں اور تنظیموں پر کریک ڈاون کا سلسلہ شروع کیا تو استاد صبا دشتیاری بلا کسی خوف و خطر آزادی کا پیغام عوام تک پہنچاتے تھے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد سے نوجوان طالب علموں کو اتنا بہادر اور دلیر بنادیا تھا کہ وہ آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے جب پاکستانی ریاست کسی سیاسی کارکن کی مسخ شدہ لاش کو ویرانوں میں پھینکتی تو استاد صبا اسے پاکستانی کی کمزوری اور خوف سے تشبہیہ دیتے ۔ استاد کی سیاسی اور علمی خدمات کے صلے میں بلوچ اتحاد بی این ایف نے انہیں معلم آزادی جبکہ بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے انہیں کندیل بلوچ کے القابات سے نوازتی ہے جو انکی جدوجہد اور کردار کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
نمیران استاد۔
استادصبا دشتیاری کی سیاسی و علمی جدوجہد ریاست پاکستان اور انکے گماشتوں کے لئے کسی چیلنج سے کم نہ تھا کیونکہ وہ ہر جگہ انکے کالے کرتوتوں کو آشکار کرنے کے علاوہ بلوچ طالب علموں اور عوام میں روشنی کی ان کرنوں کو پھیلارہاتھا جو بڑے بڑے طوفانوں میں بھی کرنوں کو روشن رکھنے کی سکت رکھتے تھے اس لئے ریاست اس پیر مرد کو اپنے راستے کا سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی تھی اور اسے راستے سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف عمل تھی ۔اس لئے علم کی طاقت سے خوفزدہ ریاست نے یکم جون 2011 کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں فائرنگ کرکے استاد صبا دشتیاری کوہم سے جسمانی حوالے سے جدا کرکے اپنی کمزوری اور لاچاری کا بھرپور اظہار کیا ۔ استاد صباکی جدوجہد اور قربانی نے ان کو بلوچ قومی تاریخ میں زندہ جاوداں کردیا۔
چاہئے مجھے زندان میں ڈال دو چاہئے مجھے سولی پر لٹکائے دو چاہئے مجھے تم گولی مار دو
یا مجھے سمندر برد کردو یا آگ کی بھٹی میں جلادو لیکن یہ جان لینا میں جگنو ہو اندھیروں میں روشنی پھیلاتا رہونگا
اختتامیہ۔
پروفیسر صبا دشتیاری کی سیاسی و علمی جدوجہد کا مختصر جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ استاد صبا اپنے جدوجہد اور اہم کردار کی وجہ سے ہمیشہ بلوچ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے انکی جدوجہد نے بلوچ سماج میں جن روشنی کی کرنوں کو پھیلایا ہے وہ کرنیں آج ہماری آزادی کی نوید بن کر سامنے آچکی ہے ان کرنوں کو طاقت سے دبانا ناممکن ہے۔ استادکی جدوجہد نے بلوچ نوجوانوں کو جو طاقت و ہمت عطا کی ہے اسے اب ختم کرنا کسی بھی طاقت کے بس کی بات نہیں۔ استاد کا نام بلوچ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیا جائے گا اور انکی جدوجہد ہر بلوچ کے لئے رہنمائی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔استادصبا کی جدوجہد کو اپنا شعار بنانا ہر بلوچ طالب کی ذمہ داری ہے کہ وہ استاد کی پھیلائی ہوئی روشنی کو مزید پھیلائیں تاکہ ہم اندھیروں کی دنیا سے کوچ کرکے ایک ایسی روشن دنیا میں داخل ہو جہاں صرف انسان زندہ ہو جہاں صرف انسانیت زندہ ہو اور اس دنیا میں خونخوار درندوں کا داخلہ ممنوع ہو

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل