کورونا کا دنیا بھر میں پھیلاؤ، مرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 32 ہزار سے بڑھ گئی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی موذی وباء نے مسلسل اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، جس کے ناصرف مریضوں میں بلکہ اس سے اموات میں بھی ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی وباء کا زور ٹوٹ چکا ہے تو کہیں یہ عروج پر ہے اور کہیں اس کے کیسز اور اموات نہ ہونے کے برابر ہیں۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 78 لاکھ 72 ہزار 619 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 4 لاکھ 32 ہزار 475 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 33 لاکھ 97 ہزار 681 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 54 ہزار 106 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 40 لاکھ 42 ہزار 463 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 17 ہزار 527 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 21 لاکھ 42 ہزار 224 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 70 ہزار 591 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 744 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 54 ہزار 106 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 50 ہزار 796 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 42 ہزار 791 زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 6 ہزار 829 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 20 ہزار 129 ہو چکی ہے۔بھارت میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔بھارت میں کورونا وائرس سے 9 ہزار 199 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 626 ہو گئی۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 41 ہزار 662 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 375 ہوچکی ہے۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 90 ہزار 685 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وباء سے اموات 27 ہزار 136 ہو چکی ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 34 ہزار 301 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 36 ہزار 651 رپورٹ ہوئے ہیں۔پیرو میں کورونا وائرس کے باعث 6ہزار 498 ہلاکتیں اب تک ہو چکی ہیں جبکہ یہاں کورونا کیسز 2 لاکھ 25ہزار 132 رپورٹ ہوئے ہیں۔

جرمنی میں کورونا سے کُل اموات کی تعداد 8 ہزار 867 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 87 ہزار 423 ہو گئے۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 8 ہزار 730 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 84 ہزار 955 ہو گئے۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار 792 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 76 ہزار 677 ہو گئے۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 398 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 56 ہزار 813 ہو گئے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 932 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 23 ہزار 308 تک جا پہنچی ہے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا وہاں کورونا وائرس پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے اور روزانہ صرف چند نئے کورونا مریض سامنے آتے ہیں جبکہ اس سے اموات میں کافی عرصے سے کوئی اضافہ سامنے نہیں آیا ہے۔چین میں کورونا مریضوں کی تعداد 83 ہزار 132 ہو چکی ہے اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4 ہزار 634 پر رکی ہوئی ہے۔بڑھتی ہوئی لاپروائی اور غیر محتاط رویے کے باعث پاکستان میں ناصرف کورونا کیسز کی تعداد میں بلکہ اس سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کورونا مریضوں کے لحاظ سے ممالک کی فہرست میں چین اور سعودی عرب سے بھی آگے نکل کر 15 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 39 ہزار 230 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وباء سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 2 ہزار 632 تک جا پہنچی ہے۔
کرونا وائرس کے ملک میں 84 ہزار 863 مریض اب بھی اسپتالوں، قرنطینہ مراکز اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جبکہ 51 ہزار 735 مریض اس بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

برازیلیا: پوری دنیا میں کورونا کا پھیلاؤ جاری ہے، مرنے والوں کی تعداد چار لاکھ 32 ہزار سے بڑھ گئی۔مہلک وائرس سے برازیل میں مزید 890، امریکا 702، میکسیکو 504، برطانیہ میں 181، بھارت میں مزید 309 اور چلی میں 231 افراد لقمہ اجل بنے، برطانیہ میں 181 اور ایران میں 71 اموات ہوئیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے اگر مریضوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا، اور قواعد و ضوابط پر عمل نہ کیا گیا تو ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل