آہ امیر! وہ حساب آج چُکا دیا تحریر: حکمت یار بلوچ

آہ امیر! وہ حساب آج چُکا دیا تحریر: حکمت یار بلوچ




دشوار گذار راستوں اور گھاٹیوں کے تنگ زاویے ، فرحت انقلاب سے لبریز، پرانی وضع قطع کے ساتھ، دشمنان وطن کیلئے آتش فشاں اور وطن کے سرمچاران کے لیے لمّہ وطن کا صحت آفرین مقام، شور پارود کے پہاڑ جس کے سینے میں کئی شہداء جسمانی لحاظ سے اور کئی شہداء کی روحانی یادیں وابستہ ہیں۔ بلوچ قوم کئی منفرد خصوصیات کی حامل قوم ہے۔ ان خصوصیات کی وجہ سے بلوچ قوم کو بہتر فوائد کے ساتھ ساتھ بدترین نقصانات بھی اٹھانے پڑے ہیں۔ بلوچ قوم کو بیرونی قبضہ گیروں سے زیادہ مار آستین نے نقصان پہنچایا ہے۔ لارڈ کی بھگی کھنچنے والے تو تاریخ ہی رقم کرگئے۔ دور جدید میں بھی بلوچ قوم انہیں مسائل کا شکار ہیں۔ اس مسئلے کے ساتھ ساتھ ایک اور مسئلہ جو ہمارے اندر سرائیت کرگئی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم بذات خود عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ وہ ماضی کو فخر سے یاد کرنا ہے۔ بیشک ہمارے اسلاف نے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ مگر ہمارا اپنا کردار کیا ہے؟ ہم دوسروں کے چبائے ہوئے نوالوں پر کب تک وقت گذارتے رہیں گے؟ ہم موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ بلوچ قومی تحریک میں ایسے ہزاروں فرزندان وطن پیدا ہوئے ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے انقلابی انکے پائے خاک تک نہیں پہنچ سکتے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں ذمینی حقائق دنیا کے دوسرے نوآبادیاتوں سے قدر مختلف اور پیچیدہ ہے۔ امیر الملک انہی فرزندان وطن میں سے ایک چمکتے ستارے تھے۔ بالاد میں چلتن، تیکھا ناک نقشہ، بھوری اور سیاہ رنگ کی آمیزش سے بنی آنکھیں، درمیان سے مانگ نکالنے والا نوجوان اکثر داڑھی منڈواتے تھے۔ نورا، نوروز ، اور لونگ خان جیسے بہادروں کی سرزمین جھالاوان کے علاقے توتک میں جنم لینے والا عظیم اور بہادر سپوت امیرالملک ان چنیدہ سرمچاروں میں سے ایک تھے۔ جو ایک کارتوس بچا کر جیب میں الگ رکھتے ۔۔۔۔ دشمن پر بجلی کی سی تیزی کے ساتھ جھپٹتے اور برق رفتاری سے واپس لوٹ جاتے تھے۔ 7 اپریل 2014 کو شور پارود میں ہونے والے فوجی آپریشن میں امیرالملک اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن کے ساتھ دوبدو لڑرہے تھے۔ وہیں دل جان ٹک تیر دوسرے ساتھیوں کو محفوظ مقام کی جانب لے جانے کے لیے راستہ نکال رہے تھے۔(یاد رہےاسی موقع پہ دل نے دشمن کی ہیلی کاپٹر مار گرائی تھی) شدید لڑائی کے بعد جب کارتوس ختم ہو گئے، تو جیب میں رکھی آخری کارتوس سے امیر نے اپنے جسم پہ وار کرکے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔۔۔۔ پھلین امیر کی روحانی تسکین کے لیے اسکے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عملی جدوجہد میں شریک ہونا چاہیئے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل