بی این ایم مرکزی کمیٹی اجلاس: (حصہ دوئم)۔۔ مختلف ایجنڈا زیربحث آئے اور اہم فیصلے کئے گئے۔

بی این ایم مرکزی کمیٹی اجلاس: (حصہ دوئم)۔۔ مختلف ایجنڈا زیربحث آئے اور اہم فیصلے کئے گئے۔

سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مراد بلوچ نے مرکزی کمیٹی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مرکزی کمیٹی کے اہم اجلاس میں زمینی حقائق ہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں ہم حالات کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیں اورممکن العمل حکمت عملی تیار کریں کیونکہ قومی تحریک کی پیش رفت سے حالات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔ بلوچ قومی تحریک آزادی کے عمومی صورت حال وہ نہیں جو چند سال پہلے تھی۔ ہم سب نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں کمٹمنٹ اور پختگی سے زیادہ آزادی کے خوبصورت لفظ اور خوبصورت نعروں میں ایک کشش تھا اور دشمن کی بربریت اس پیمانے پر نہیں تھی۔ اس لئے جلسے اور جلوس میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتے لیکن کسی بھی تحریک میں یہ مرحلہ مختصر ہوتا ہے۔ جب دشمن پاکستا ن جیسا انسانی اقدار سے محروم ریاست ہوتو یہ مرحلہ مزید مختصرہوجانا یقینی تھا۔ ہمیں شروع ہی سے اندازہ تھا کہ اس جنگ میں ہمارے گھر جلیں گے، ہمارے بھائی اور بیٹے قتل ہوں گے، ہمارے بچے زندانوں کی نذرہوں گے، کیونکہ ہم اس حقیقت سے بھی آشنا تھے کہ آزادی اور انقلابی جنگوں کے رد عمل قوت زیادہ تیزی سے ابھر کرسامنے آتا ہے۔ وہ ایک ریاست ہے، اس کے پاس وسائل ہیں، افواج اور سول ادارے ہیں، عدالت اور قانون اسی کے ہیں۔ وسائل پرکنٹرول ریاست کے پاس ہوتا ہے اور وہ بین ا لاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے لہٰذا رد عملی قوت زیادہ تیزی سے تیار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا ریاست پاکستان اور اس کی مقتدرہ قوتیں فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ بلوچ سرزمین پر اپنی قبضہ کو کسی بھی قیمت پر برقرار رکھیں اور اس کے لئے انہیں ہماری نسلیں تہہ تیغ کرنا پڑیں تو بھی پاکستان یہ کر گزرے گا۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ شاید بلوچستان میں بنگلہ دیش کی نسبت مظالم آگے بڑھیں۔ آج ہماری خواتین محفوظ نہیں ہیں، دشمن انہیں زندانوں میں اذیت سے دوچار کررہا ہے۔ پاکستان اپنی دہشت گردی سے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے آزادی کے اکثر جنگوں میں مماثلات ضرور ہوتے ہیں لیکن ہر جنگ کی طرح ہماری جنگ اورہماری سرزمین کے اپنے حقائق ہیں۔ ہم نہ چینیوں کے نقالی کرسکتے ہیں، نہ ویت نامی اور کیوبا وغیر کی۔ ان کی لٹریچر ہماری علم میں اضافہ کرسکتا ہے لیکن ہوبہو نقل ناممکن اور سیاسی عمل کے جزئیات سے لاعملی کا مظہر ہوتا ہے۔ کیونکہ ہرسماج کی طرح ہمارے سماج کی اپنی پیچیدگی، مسائل، مشکلات اورضروریا ت ہیں۔ بلوچ سماج نہ تو مکمل قبائلی ہے نہ نیم قبائلی۔ ہمارے پاس قبائلی، نیم قبائلی، جاگیردار، نیم جاگیردار، مڈل کلاس، سفید پوش، تنخواہ دار، خانہ بدوش، چھوٹے بڑے اور درمیانی درجے کے ٹھیکیدار جیسے طبقات موجود ہیں۔ ہمارے پاس کوئی نئی اوربڑی بورژوا طبقہ نہیں۔ الغرض ہماری سماج نابرابر اورمختلف طبقوں کا مجموعہ ہے۔ اس لئے ہم اپنا موازنہ چین، کیوبا، ویت نام جیسے ممالک سے نہیں کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹرمرادبلوچ نے کہا کہ انقلاب اور آزادی کی جنگوں میں دائمی لیڈرشپ نہیں ہوتا ہے۔ وہ مسلسل قتل ہو رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ سب سے پہلے ہدف بنتے ہیں۔ بی این ایم کے مرکزی قائدین مسلسل شہید ہو رہے ہیں۔ اسے ہم اپنی کمزوری کا نام نہیں دے سکتے بلکہ یہ انقلاب اور آزادی کے جنگوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی کارکن، کیڈر اور لیڈرشپ کی تحفظ کو یقینی بناکر آگے چلنا چایئے۔ اس سے ہم واقعتا ہم اپنی نقصانات کم کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ بلوچ اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قوم کی حیثیت سے قومی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس سے قبل تاریخ میں ہمیں ایسی مثال نہیں ملتی۔ سراوان، کوہستان، جھالاوان اور مکران میں ہم نے ٹکڑیوں کی صورت میں جنگیں ضرور لڑی ہیں لیکن قومی صورت میں نہیں۔ خان محراب خان نے انگریزوں کا مقابلہ کیا لیکن لشکریوں کی تعدا د کم تھی۔ آغاعبدالکریم کے لشکرمیں جنگجوؤں کی تعداد چھ سوسے زائد نہ تھی اور ان کی مزاحمت کی عمر بھی مختصر رہی۔ وہ ایک علامتی بغاوت تھا لیکن بعد اسمبلیوں کے ممبر بن گئے۔ بابو نوروز کا جنگ بھی نیم انقلابی تھا۔ ان کے ساتھی تختہ دار چڑھائے گئے لیکن جس خان کے لئے انہوں نے مزاحمت شروع کی تھی انہوں نے مراعات لے کر مغربی پاکستان کے گورنر کے مشیر بن گئے۔ تہتر میں بغاوت اور نیم انقلابی جنگ تھا۔ بغاوت اور انقلابی جنگوں میں بنیادی فرق منصوبہ بندی کا ہوتا ہے۔ بغاوت منتشر اور انقلابی جنگ منصوبہ بند ہوتا ہے۔ انقلاب اور آزادی کی جنگ منصوبہ بندی، تدبیر، اصول اور اداروں سے لڑی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر تحریکوں کی طرح ہماری تحریک بھی اپنے ارتقائی اور تطہیری عمل سے گزر رہا ہے۔ اس جنگ کے اوائل پہلے مرحلے میں یہی روش نظر آتا ہے۔ جب نواب اکبر خان پہاڑوں پر تھے تو دس ہزار لوگ ساتھ تھے۔ شہادت کے بعد ان کی تعداد نہایت کم ہوگئی۔ نواب خیر بخش مری کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ لیکن تطہیری عمل سے گزر کر کمیٹڈ لوگ آج جدوجہد کا حصہ ہیں اور یہ کریڈٹ پارٹی اور تنظیموں کو جاتا ہے جنہوں نے ماضی کے برعکس جدوجہد کو تسلسل دی ہے۔ آج بلوچ نیشنل موومنٹ جیسا ادارہ ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ ہماری تنظیم کامل ہے۔ ہم بھی تجربوں سے گزر رہے ہیں۔ ہاں تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن ذمہ داری لینا بہت ہی مشکل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ہر مرحلے خوداحتسابی کی ضرورت ہے۔ خوداحتسابی، خود تنقیدی اورخود کو نفی کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی رابطہ کاری میں کمزوری کا نشاندہی کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تنقید کرتے وقت ہمیں حقائق سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے۔
ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا پارٹی ناقدین بعض اوقات حقائق کے بجائے مفروضوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بلوچ نیشنل موومنٹ اپنے اغراض و مقاصد کی حصول میں آج بھی کامیاب ہے۔ آپ کے ڈائسپورہ میں اکثریت بلوچ نیشنل موومنٹ کے پلیٹ فارم سے سیاسی پناہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ دنیا نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ اپنی جدوجہد کی بدولت ریاستی مظالم کا شکار ہے۔ آج یورپی پارلیمان جیسے اداروں، امریکی وزیرخارجہ سمیت مختلف عالمی رائے عامہ پر اثر رکھنے والے شخصیات بلوچ مسئلے پر بات کرتے ہیں۔ آج دنیا میں کسی حد تک ہماری بات سنی جاتی ہے۔ یہ ہماری جدوجہد کا ثمر ضرور ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں ہم سے کیڈرٹوٹ چکاہے، کارکن اور قیادت کے درمیان رابطے کا فقدا ن ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پارٹی اورجدوجہد سے ناطے توڑنے والے جدوجہد میں آنے والے سختیوں اورمشکلات سے ناواقف تھے۔ ان میں پختگی نہ تھی۔ پارٹی آج بھی اپنے کارکن اور کیڈر سے مربوط ہے۔ پارٹی آج بھی بلوچ قوم کے اندرموجود ہے۔ آج بھی بلوچ کی ہمدردیاں دشمن کے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ہیں۔ چند روز کا واقعہ ہے کہ بریگیڈئر لیول کے آرمی آفیسر آواران اور جھاؤ میں ایک سروے میں تعاون کے عوض ایوارڈ کا اعلان کرتا ہے۔ اس سروے میں لوگوں سے یہی پوچھا جاتا ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود لوگ کیونکر جدوجہدکاروں کو مدد فراہم کررہے ہیں۔ یہ جہدکاراس مدد کے بدلے انہیں کیا دیتے ہیں۔ آرمی آفیسر خود اقرار کرتا ہے کہ یہ حیرانی کی بات ہے کہ آواران کے دولاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ مشکئے، جھاؤ، دشت، پروم سمیت مختلف علاقوں میں یہی صورت حال ہے لیکن لوگ پھر بھی جدوجہد سے جڑے ہیں۔ لاکھوں کی آبادی میں سے اگر چند سو لوگ دشمن کے لئے بولتے یا کام کرتے ہیں تو ہم اسے دشمن کی کامیابی نہیں سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تویہ ہماری تجزیے میں خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم جنگی حالات کا تجزیہ معمول کے حالات کے مطابق کررہے ہیں۔
ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ اکیسویں صدی کے آغاز پر دشمن نے بلوچ سرزمین کو ہڑپنے کے لئے دوررس اثرات کے حامل منصوبے شروع کئے۔ چین جیسے جدید سامراجی قوت کو شریکِ جرم میں بنایا جن کا بنیادی مقصد قبضے کو مستحکم اور بلوچ قومی شناخت اور وجود کو مٹانا تھا۔ یہ بلوچ مزاحمت کی قوت ہے کہ سی پیک جیسے منصوبے خطے میں طاقت کی توازن میں بگاڑ کا بنیادی سبب ضرور بن چکا ہے لیکن قومی تحریک نے پاکستان اورچین کے عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں۔ آج سی پیک نے دنیا کو دو حصوں کو بانٹ دیا ہے۔ اس میں ایک حصے کی قیادت چین اور ایک حصے کی قیادت امریکہ کے پاس ہے۔ اس کا مرکز بلوچستان ہے۔ آج چین جیونی میں نیول بیس تعمیر کرنے کے بارے میں بات کررہا ہے۔ صرف گوادرمیں چینیوں کی حفاظت کے لئے ایک بریگیڈ سے زیادہ فوج تعینات ہے۔ لیکن اس کے باوجود کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہا ہے۔ جن سرمایہ کاروں نے 2004 کو زمین خریدی تھی وہ آج پشیمان اور مزید سرمایہ لگانے سے خوف زدہ ہیں۔ صرف چند چینیوں نے سرمایہ ضرور لگایا ہے لیکن کوئی یورپی، امریکی، جاپانی یا دیگر ممالک کے سرمایہ کار یہاں آنے سے گریزاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ سی پیک کے تمام منصوبے ہوا میں معلق کیوں ہوچکے ہیں؟ کیا یہ سب کسی بیرونی دباؤ کے تحت ہورہا ہے؟ نہیں یہ بلوچ جدوجہد کی کامیابی ہے جس نے سی پیک کو ناکام بنادی ہے۔ سرمایہ کار کی مثال چڑیا کی ہوتی ہے جو جنگی صورت حال میں کسی بھی عنوان پر سرمایہ کاری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ ہزاروں لوگوں کی قتل، سینکڑوں گاؤں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کے باوجود پاکستان اور چین بلوچ سرزمین پر اپنے منصوبے روبہ عمل نہیں لاسکے ہیں۔ یہ بلوچ جدوجہد کی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا جب ہم حالات کے مطابق حکمت عملیوں میں تبدیلی کا قائل ہیں تو پارٹی اداروں کی ہیئت و ساخت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چایئے کہ حالات میں یکسر تبدیلی اوردشمن کی جبر کا مقابلہ کس طرح کرنا چایئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری لائن آف ایکشن یہی ہو کہ ہم اپنے ساتھیوں کی اجتماعات کم سے کم کریں۔ ہماری سرزمین وسیع ہے۔ بہتر حکمت عملی سے ہم اپنے کارکن اور کیڈرکو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لوگوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ ہم کوشش کریں کہ اپنے اداروں کی حجم میں تخفیف کریں تاکہ آئندہ ہماری نشستوں میں آسانی ہو اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں رازداری سے کام کرنا چاہئے، جہاں اورجس صورت حال میں کارکن کام کرتے ہیں یا اداروں کی حجم یا افراد کی تعداد کچھ بھی ہو لیکن اسے رازداری ہی بچا سکتا ہے۔ ہماری نشست و برخاست اورسرگرمیاں ہر صورت میں رازداری میں ہوں۔
ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ پارٹی افرادی قوت کی کثرت سے نہیں مربوط پختہ پالیسیوں اور رابطہ کاری سے قومی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایک انقلابی پارٹی کے لئے خطہ اورعالمی حالات کا ادراک، معاملات کو اپنی نظر سے دیکھنے اور رازداری مقدم ہونا چاہئے۔ انقلاب و آزادی کے آرکیٹکٹ کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہمیں ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ بڑی طاقت ہمیشہ پراکسی بناتے ہیں۔ ہرجنگ زدہ خطوں میں انہیں پراکسیوں کی تلاش ہوتی ہے۔ لیکن خودداری، اپنے اور اپنے دشمن کی طاقت کا ادراک، حالات کی سوجھ بوجھ اورقومی قوت پر انحصار ہمیں کسی دوسرے تیسرے طاقت کی پراکسی بننے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ہمیں متحارب قوتوں اور عالمی مفادات کے درمیان متوازن اور جامع پالیسی کی ضرور ت ہے۔ جب ہم نے متوازن پالیسی اور حکمت عملی کے درمیان توازن کھو دیا تو ہماری جدوجہد کی بقا داؤ پر لگ جائے گا۔
مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ نے کہا تحریک کے نئے ابھار میں بلوچ سیاسی قیادت کی حکمت عملی ہمیں کامیاب نظر آتا ہے۔ موبلائزیشن کے عمل اور تحریک کی شدت نے دشمن کے افواج اور دیگر عسکری اداروں کو ان کی معمول کے حالات کی مستقر، کیمپ یا کنٹونمنٹ سے نکال کر بلوچستان کے کونے کونے میں پھیلا دیا ہے۔ یہ کام دشمن نے خوشی سے نہیں بلکہ بلوچ جد وجہد کی شدت سے مجبور ہو کر کیا ہے۔
دل مراد بلوچ نے دشمن کی بربریت پر بات کرتے ہوئے کہا دشمن کی بربریت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں سیاسی کارکن اور جہد کار دشمن کے نشانے پر تھے۔ پھرسیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور کیڈر کو اٹھاکر لاپتہ کرتا، یا قتل کرتا تھا۔ اس کے بعد اس کا خاندان ہدف تھا یا صرف اسی کا گھر جلایا جاتا تھا۔ لیکن بربریت کے دوسرے مرحلے میں دشمن نے جارحیت کی نئی حدیں پارکرلیں اور بلوچ قوم کو ”اجتماعی سزا“ کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس میں دشمن نے جہدکار اور عام لوگوں کی تمیز وفرق مٹادی ہے۔ اجتماعی سزا کا مطلب ہی یہی ہے کہ بلوچ قوم آج بھی جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہے۔ بلوچ قوم آج بھی تحریک میں منظم کردار ادا کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن بلوچ قوم کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنا رہا ہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا جب ہم ماضی کی بات کرتے ہیں کہ ماضی میں ادارہ نہ تھے۔ کمزورویاں، خامیاں تھیں۔ بعض اوقات ہم حد سے زیادہ ناقد بن جاتے ہیں تو میں اسے مناسب نہیں سمجھتا ہوں بلکہ ہمیں فخر کے ساتھ ماضی کیکمزوریوں، خامیوں کو قبول کرکے آگے بڑھنا چاہئے۔ کیونکہ ماضی ہمارا ورثہ ہے۔ اگر اس مرحلے پر ہمارا رویہ بھی ماضی کے پیش روؤں کے مماثل رہا یا خدانخواستہ ہم اسی طریقہ کار پر چلے تو آئندہ نسلوں کے الفاظ ہمارے لئے مختلف نہیں ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں آج صورت حال مختلف ہے۔ آج بلوچ قوم کے پا س بلوچ نیشنل موومنٹ جیسا ادارہ موجودہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ قومی تحریک کا سب سے بڑا سیاسی ادارہ ہے۔ اس کا تجزیہ ہم یوں کرسکتے ہیں کہ جب بی این ایف بنا تو اس میں نو پارٹی اور تنظیم تھے۔ مسلح تنظیمیں اس کے علاوہ تھیں۔ اس کے بعد بھی پارٹی بن گئے لیکن یہ سب آج کہاں ہیں؟ ایک دو کے نام شاید باقی ہیں لیکن دوسروں کا وجود بھی نہ رہا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ آج بھی موجود ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ اپنے اداروں، اپنے لیڈرشپ، اپنے کارکنوں، اپنے کیڈر اور دوزواہ کے ساتھ بلوچستان اور بلوچستان سے باہر دنیا کے بعض ممالک میں موجود اور سرگرم عمل ہے۔ یہ حقیقت ہمیں ماضی سے ممتاز ومنفرد بناتا ہے۔ یہ بی این ایم کی کامیابی ہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ کے کردار کے لئے ہم ایک اور تجزیہ بھی کرسکتے ہیں۔ موجودہ تحریک میں دو بیانیہ سامنے آئے۔ پہلا بلوچ نیشنل موومنٹ اوربلوچ نیشنل موومنٹ کے اتحادیوں کا تھا کہ جدوجہد کی کامیابی کے لئے پارٹی اور پارٹی ادارے لازم وملزوم ہیں تو دوسرا بیانیہ یہ تھا کہ پارٹی کا مطلب گروپ بندی ہے۔ اس سے دھڑا بندی وجود میں آتا ہے۔ لہٰذا تحریک یک قطبی یا یک مرکزیت کا حامل ہو اور جناب سردار صاحب کے ہاتھ میں اس کی باگ ڈور ہو باقی سب ان کے پیروکار بن جائیں لیکن بلوچ نیشنل موومنٹ اور اس کے اتحادیوں نے اس بیانئے کی مزاحمت کی۔ یہ ہماری کامیابی ہے کہ اس بیانئے کے خالق بھی اس امر مجبور ہوئے اور انہوں نے اپنی بیانیہ تبدیل کرکے جدوجہد میں پارٹی کی اہمیت تسلیم کی۔ ایک سیاسی سرکل کی داغ بیل ڈالی۔ یہ ہماری بیانئے کی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج سرزمین اور سرزمین سے باہر سب سے زیادہ افرادی قوت، سب سے زیادہ تعلیم یافتہ کیڈر، سب سے زیادہ دوزاہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے پاس ہے۔ ضرورت بہترین مینجمنٹ کی ہے۔ لیکن وسائل اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مثبت رویے ہی بہترین ٹیم ورک کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس پر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے دل مراد بلوچ نے کہا کہ یہ ہماری رویوں کی ناپختگی ہے یا کچھ لوگ دانستہ ایسا کرتے ہیں کہ ہمیں خطے میں متحارب قوتوں پر کھلے عام پالیسی دینے کا شوق ہوتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ بیس سالہ جنگ میں خطے کی مضبوط ترین اسٹیک ہولڈر طالبان نے کبھی بلوچ کے مسئلے پر اعلانیہ اپنا موقف سامنے لایا یا کبھی کشمیریوں نے بلوچ مسئلے پر لب کشائی کی لیکن ہم سے ہروقت یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم اعلانیہ اپنی موقف سامنے لائیں۔ میری گزارش ہے کہ ہمیں اپنی سیاسی قیادت پر اعتماد ہونا چاہئے۔ ہمیں پارٹی پر بھروسہ ہونا چاہئے کہ وہ کس طاقت، فریق، دھڑے سے کس سطح اور کس پیمانے کے تعلقات استوار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر امریکہ خطے سے جارہا ہے۔ حالات تیزی سے تبدیل ہوتے نظر آتے ہیں لیکن میں سمجھتاہوں کہ امریکہ نے اس خطے میں دوررس نتائج کے حامل حکمت تیارکی ہے اور امریکہ کی بظاہر انخلاء اس کی خطے میں مضبوط موجودگی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ سووویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ آج بھی انخلاء کے بعد خطے میں تبدیلی کے خواہاں قوت بساط پر اپنی چال چل سکتے ہیں۔ ممکنہ صورت حال کا تجزیہ اور پیشگی تیاری ہماری قیادت کے ویژن پر انحصار کرتا ہے۔
مرکزی فنانس سیکریٹری ناصربلوچ نے کہا پاکستانی قبضے کے بعد بلوچ جدوجہد کے تمام مرحلوں میں بنیادی کمزوری یہ تھا کہ ایک وہ ادارتی شکل نہیں اختیار کرسکے اور دوئم یہ کہ چند ایک مخصوص علاقوں تک محدود رہے۔ نواب نوروز خان اور آغا عبدالکریم جیسے پیش روؤں کے وقت میں حالات اور ان کی سکت و قوت شاید یہی تھی۔ وہ جدوجہد کو ہمہ گیر بنیادوں پر منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ماضی کی کمزوری، تجربات اور شکست وریخت سے سبق حاصل کرکے دوہزار کے بعد شروع ہونے والی جدوجہد ہمیں ادارتی صورت میں نظر آتا ہے۔ ماضی کے تجربا ت کی روشنی میں شروع ہونے والی جدوجہد نشیب و فراز کے باوجود ہم تسلسل سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں تک موبلائزیشن کے لئے بی این ایم کے کردار پر سوال اٹھانے والے زمینی حقائق نظر انداز کررہے ہیں آج بھی موبلائزیشن کا عمل مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ ابتدائی دنوں کی طرح کام کے خواہاں لوگوں کو نہ تو ریاستی بربریت کا اندازہ ہے اور نہ زمین حقائق سے تعلق۔ محض خواہش کے گھوڑے دوڑانے سے سیاسی عمل کامیاب نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے لئے مستقل مزاجی کے ساتھ کام کی ضرورت ہے۔ حالات کے مطابق ہمیں نظرثانی شدہ حکمت عملیوں پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ رابطوں کے شکوہ کناں یہ تک نہیں سمجھتے کہ آج ہمارے اسیر سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد غیر محفوظ رابطہ کاری کے ذرائع استعمال کرنے کی وجہ دشمن کے زندانوں میں قید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ کارکن گھر گھر جاکر لوگوں تک پارٹی پیغام پہنچاتے تھے۔ ہر گاؤں میں کارنر میٹنگ ہقتے تھے۔ جلسے اور جلوس ہوتے تھے۔ قومی جدوجہد اور موبلائزیشن کے لئے بی این ایم اپنی قیادت کی قربانی دے چکا ہے۔ ہماری مرکزی رہنما اور کارکن زندانوں میں قید ہیں۔ آج بھی بلوچ کا قومی مزاج سیاسی ہے۔ آج دشمن کے ہزارہا بربریت اورہزارہا حربوں کے باوجود لوگ جدوجہد سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی جڑت کی قیمت اجتماعی سزا کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ ہماری دشمن کی ناکامی کی واضح ثبوت ہے۔ آج سرزمین ہماری سیاسی کارکنوں اور کیڈر کے لئے نہایت تنگ کی جاچکی ہے۔ لہٰذا ہمیں زمینی حالات کومدنظر رکھ کر آگے کی ضرورت ہے۔
ڈپٹی سیکریٹری استاد بابل لطیف نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ اپنی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ آج کامیابی سے تحریک میں اپنا حصہ ادا کررہا ہے۔ ہماری بلوچ سرزمین اور خطے کی سیاست پر گہری نظر ہے لیکن ہمارے لئے ہماری قومی مفادات مقدم ہیں۔ بلوچ مزاحمت میں موجود پوزیشن پارٹی کے خلاف چلنے والے طوفانی پروپیگنڈہ کا مقاصد میں اہم آزاد بلوچستان کے لئے بی این ایم کی منشور اور عوامی حکومت کے پروگرام سے خائف لوگ تھے۔ لیکن بی این ایم اور بی این ایم کی قیادت نے ایسے تمام حربے ناکام بنا دیئے۔
مرکزی کمیٹی اجلاس میں تمام اراکین نے بحث و مباحثے میں حصہ لیا، اورمختلف فیصلے کئے گئے جنہیں سرکولر کے ذریعے پارٹی ذیلی اداروں کو بھیجا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل