نوری نصیر خان سے واجہ غلام محمد تک تحریر۔ سفر خان بلوچ

نوری نصیر خان سے واجہ غلام محمد تک تحریر۔ سفر خان بلوچ


ویبسٹر ڈکشنری کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ سے مراد ”رہنمائی کرنے کی اہلیت“ ہے۔ میرین کورز (Marine Corps) کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ لیڈر کا کام بھی ہر مسئلے کو تن تنہا حل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یاد رکھئے کہ ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کر کوئی نہیں آتا، سب اپنے ہاتھوں سے اپنی قائدانہ صلاحیت کو تعمیر کرتے ہیں لیڈروں میں یہ اہلیت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہدف کا تعین کریں، اس ہدف کو حاصل کرنے میں دوسروں کو اپنی اعانت کرنے پر آمادہ کریں، اور پھر اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اسے فتح سے ہمکنار کرادیں۔ مگر قیادت کی تعریف ہے کیا؟ قیادت کی کوئی ایک متعینہ تعریف نہیں ہے۔ ایک مؤثر لیڈر بننے کے لئے اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قیادت کے بارے میں چند عمومی تصورات اور تعریفات کچھ یوں ہیں: کسی گروہ، ٹیم یا تنظیم کا مقررہ سربراہ ایک لیڈر ہوتا ہے۔ لیڈر ایک کرشماتی فرد ہوتا ہے، جو عمدہ فیصلے کرنے اور دوسروں کو ایک مشترکہ مقصد حاصل کرنے کے لئے متحرک کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ بھرپور انداز میں دوسروں کو اپنی بات سمجھانے اور انہیں متحرک کرنے کا نام قیادت ہے۔ حقیقی لیڈر وہ ہوتے ہیں جن میں کسی معاشرے کے انفرادی ارکان کی اجتماعی خواہشات اور توقعات کا پتہ چلانے کے لئے ضروری مگر کمیاب ذہانت اور دوراندیشی کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، تب وہ انفرادی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے کر انہیں اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں شامل کرنے اور میڈیا کے ذریعے انہیں معاشرے کے مختلف طبقات کے سامنے ایسے انداز میں پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے جذبات کو تحریک ملے اور وہ اس کی حمایت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے اپنی تنظیم کے مقاصد کے حصول سے ہٹ کر، ایک لیڈر کی سب سے بڑی ذمہ داری نئے لیڈر تیار کرنا ہوتا ہے۔ حقیقی قیادت کا تقاضہ ہی یہی ہے کہ آپ اپنے ماتحتوں کو بھی لیڈر بنا دیں۔ حقیقی قیادت کا تقا ضہ ہی یہی ہے۔ درجہ بالا حوالہ جات کے نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے بلوچ تاریخ میں جنہوں نے صحیح معنوں میں ایک لیڈر کا کردار ادا کیا ہے، وہ ایک تو نوری نصیر خان ہیں اور دوسرے شہید واجہ غلام محمد، شاید میرے اس نقطہ نظر پر کوئی اعتراض بھی کرسکے، مگر جولیڈر کا تعریف ہوتا ہے، ہمیں ان دونوں کے علاوہ بلوچ تاریخ میں کوئی دوسرا نظیر نہیں مل سکتا، جنہوں نے ایک لیڈر کے جو تقاضات تھے انہیں پورا کیا ہو۔ شاید ہم نام بھی لیں،عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری، اکبر بگٹی یا کوئی اور تو جواب ایک ہی آئیگا نہیں نہیں بلکل نہیں۔ ایک لیڈر کی جوضروریات تھے، ان میں سے کسی نے پورا نہیں کیا۔ موجودہ دور میں جو لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو شاید وہ بھی نہیں ہونگے۔ ان میں سے حیر بیارکانام اگر آئیگا توجواب میں نہیں آئیگا، برہمداگ بگٹی جواب وہی ہے بلکل نہیں، اور ڈاکٹر اللہ نظر جواب یہی آئیگا بدقسمتی سے یہ بھی نہیں۔ پھر شاید آپ لوگ سوچ رہے ہونگے کہ میں شہید واجہ غلام محمد اور نوری نصیر کو کیوں لیڈر کے درجے پر فائز کررہا ہوں؟ بلوچ تاریخ کے اوراق کو اگر ہم باریک بینی سے دیکھ لیں اورہوش و حواس سے سوچیں تو ہمیں ان دونوں کے علاوہ کوئی دوسرا دیکھنے کو نصیب نہیں ہوگا جو ایک لیڈر کے تعریف پر پوری طرح اترتا ہو۔ بلوچ تاریخ میں نوری نصیر خان وہ واحد شخص ہے، جنہوں نے پورے بلوچ قوم کو ایک ساتھ منظم اور مضبوط کیا۔ یہ بات بھی نہیں کہ اس وقت حالت میں مشکلات یا رکاؤٹ موجودنہیں تھے، ایک جانب ہندوستان اور دوسری جانب افغانستان میں احمد شاہ ابدالی، اُس وقت اس خطے کے مضبوط شہنشاہؤں میں اس کا شمارا ہوتا تھا، جنہوں نے ہندوستان کے مراہٹہ سامراج کو تہس نہس کردیا تھا لیکن احمد شاہ ابدالی کی فوج بھی نوری نصیر کی لشکر کو جیت نہیں سکا، جب مستونگ پڑنگ آباد کے مقام پر جنگ چھڑگئی، جس میں شاہ ولی خان کی سربراہی میں ابدالی کی فوج کو شکست کاسامنا رہا، جب ابدالی کو اس کی خبر ملی تو وہ خود بہت بڑے لشکر کو لے کر مستونگ پہنچ گیا، کہتے ہیں اس جنگ میں نصیر خان نے دولاکھ پچاس ہزار کی فوج کی ایک عظیم جم غفیر اکھٹا کیا تھا۔ جب اس جنگ میں نتائج نکلنا مشکل ہوتا جارہا تھا تو ابدالی بعد ازاں گفت و شنید پہ مجبور ہوگیا اس حوالے سے تاریخ داں لکھتے ہیں احمد شاہ ابدالی ایک دور اندیش حکمران تھا، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نصیر خان جیسا قابل حکمران قلات میں کوئی اور نہیں ہے، نصیر خان ایک بہادر اور ذہین رہنما ہیں جوکہ حالات کی نزاکت کوسمجھنے میں بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد افغان اور بلوچوں کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا، جس کے بعد نصیر خان کے لئے افغان خطرہ ٹل گیا کیونکہ جو ریاست کا تشکیل کا کام تھا اس میں بار بار افغان رکاوٹ بنتے آرہے تھے، مکران پہ پہلا جو حملہ ہوا تھا اس میں افغان کی مداخلت سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا اور اس کے بعد نصیر خان نے مکران پہ حملہ کیا اور اس میں اسے کامیابی نصیب ہوئی (مکران کے اس حملے کے حوالے سے ہمارے کئی دوست اس پہ اختلاف رکھتے ہیں مگر وہ الگ بحث ہے اگرمیں اس بحث کو چھڑوں تو میرے مضمون کا جو متن ہے وہ ایک اور جانب جانے لگے گا) مکران کے علاوہ نصیر خان نے خاران اور لسبیلہ پہ حملے کئے اور اس طرح دنیا کے نقشے پہ جو بلوچ ریاست کا خواب تھا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ویسے بلوچ ہزاروں سال سے اس سرزمین پہ وجود رکھتے تھے مگر ایک متحدہ بلوچستان کا وجود نصیر خان کی سربراہی میں آیا۔ نصیر خان کے بعد انگریز سامراج کا دور حکومت ہو یا قابض پاکستان کے قبضے کے بعد، ہمیں ایک ایسا شخص یا لیڈر بلوچ تحریک میں نہیں ملا، جو پورے بلوچ قوم کو متحدہ کرنے میں کامیاب ہو۔ ہاں شہید واجہ غلام اگر کچھ اور سال زندہ رہتے تو شاید وہ ایک لیڈر کے جوضروریات ہیں انہیں پورا کرتے کیونکہ جو نظریہ بلوچستان کے آزادی کے حوالے سے شہید فدا کا تھا غیر پارلیمانی سیاست صرف اور صرف بلوچستان کی آزادی کے لئے جدوجہد تو اس عمل کو شہید واجہ غلام محمد نے شروع کیا اور مضبوطی کے ساتھ اس جدوجہد نے روز پکڑ لیا کہ دشمن پریشان ہوکر رہ گیا، بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے غیر پارلیمانی سیاست کے اعلان کے بعد بلوچ نیشنل فرنٹ کا قیام، اب یہ وہی وقت تھا کہ صدیوں بعد بلوچ کو اتحاد نصیب ہوا اور یہ سب شہید واجہ غلام محمد اور دوستوں کے محنت کے بدولت ممکن ہوا اور شہید واجہ غلام محمد کے قائدانہ صلاحیت کے بدولت ممکن ہوا تھا۔ لیکن کئی چیزیں واجہ غلام محمد اور نوری نصیر خان میں قدر مشترک تھے، میں نے اوپر لیڈر کے تعریف کے حوالے سے کچھ حوالے دیے تھے، جن میں ایک یہ تھا کہ حقیقی لیڈر کا تقاضا ہی یہی ہے کہ آپ اپنے ماتحتوں کو بھی لیڈر بنادیں، حقیقی قیادت کا تقاضا یہی ہے، واجہ غلام محمد نے اپنے ماتحت دوستوں کو لیڈری کا تقاضا پورا کرنے کا اہل بنایا تھا مگر نوری نصیر خان کے حوالے سے ہمیں کہیں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا ہے، واجہ غلام محمد کے اسی سوچ کی بدولت آج تک وہی کارواں جسکی شروعات انہوں نے کی تھی، آج تک رواں دواں ہے اور واجہ کا نظریہ زندہ ہے۔ واجہ غلام محمد کی شہادت کے بعد جب کئی دوستوں نے بی این ایم سے استعفٰی دیا اور کئی دوست کنارہ کش ہوئے۔ اگر شہید غلام محمد اپنے دوستوں کو یہ اہل نہیں بناتا کہ وہ ایک تنظیم اسکے بعد لاسکیں تو بی این ایم واجہ غلام کے شہادت بعد شاید اسی دن ختم ہوتا۔ اسی لئے کہتے ہیں لوگ تو قوموں کے اندر ہر روز پیدا ہوتے ہیں مگر ایک لیڈر کو پیدا ہونے میں صدیاں لگ جاتے ہیں





Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل