شہید یوسف جان کا نظریہ و فکر - تحریر: مرشد بلوچ


شہید یوسف جان کا نظریہ و فکر - تحریر: مرشد بلوچ


تحاریک اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس سوچ، نظریہ اور فکر سے لیس کرداروں کو ہم جابجا دنیا کے تحاریک میں دیکھتے ہیں۔بسا اوقات اس سوچ کے عامل افراد کی قربانیوں کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ کونسا جذبہ ہے جو ان کرداروں کو ناقابل یقین کارنامے سرانجام دینے کی جانب اکساتا ہے۔ ان کے ان کارناموں کو جو کسی عام انسان کے لیے ناقابل یقین امر ہیں یہ ناقابل عمل ہی انہیں سماج میں دوسروں سے منفرد بناتا ہے اور ان کی یہی انفرادیت ہی انہیں تاریخ میں تخت مینا پہ پہنچاتی ہے۔ دنیا کے دیگر تحریکوں کی مانند بلوچ قومی تحریک میں بھی ہم یرمقام پہ عظمت کے ان پیامبروں کے انمٹ کارناموں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر قومی آزادی کے لئے خود کو مسکراتے مسکراتے فدا کرتے۔ اور آج میرے سامنے اُن کا مسکراتا ہوا چہرا صاف دکھائی دے رہا اور لگتا ہے کہ وہ میرے روبرو ہے، وہ مجھ سے ہمکلام ہے، میرے کانوں میں اس کی باتیں اذان کی گونج رہے ہیں، وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے اُن بااعتماد لیڈروں نے فرض ،قرض، عشق آزادی، غلامی ،لیننزم ،مارکسزم ،نظریات ،وطن دوستی کے علوم سے آشناء کیے اور ان رہنماوں سے ایک رہنماء جس نے مجھے جینے کا سلیقہ سکھایا، جس نے کہا کہ اگر ابدی زندگی کی تمنا رکھتے ہو تو اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہو اس وقت تک جب تک کہ تیرے لہو سے لہو سے یہ سرزمین سیراب نہ ہو۔ زندگی میں لوح آزادی روشن کرنے والا کوئی اور نہیں انکے اپنے گھر میں پیدا ہونے والا بڑا بھائی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن {آزاد} کےاسیر رہنماء زاہد بلوچ ہے جو گزشتہ چھ سالوں سے پاکستان کے عقوبت خانوں میں قوم و وطن کے روشن مستقبل کے لیے اذیت سہہ رہا ہے۔ یوسف مسکرارہاہے اس کی مسکراہٹ اس بات کی جانکاری دے رہا ہے کہ میں زاہد کی تعلیمات کی لاج رکھ دی وہ تعلیمات جن میں انسان خود کو مقصد عظیم پہ نثار کرتا ہے، وہ تعلیمات جن پہ عمل ہی اجتماعی شعور کا ذریعہ ہے ہاں جان تو چلی جائے گی اس سفر میں پر زندگی کا سفر کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ اس سوچ کے ساتھ جسمانی طور پر رخصت ہونے کے ساتھ انہی راہوں پہ کارواں محوسفر ہونگے اور یہ سفر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ منزل کا حصول ممکن نہ ہو۔۔۔ یوسف کرد اسی کارواں کا داعی تھا وہ یوسف جس کا جنم بلوچستان کے علاقہ نال حاجی الی بخش کے گھر ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں اورمڈل و میٹرک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے حاصل کیے یوسف بلوچ سن 2012 میں بلوچ قومی تحریک آزادی میں ایک مسلح مزاحمتی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت اپنے فرائض ادا کرتارہا۔ میری ملاقات یوسف جان سے کب اور کہاں ہوئی مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔میں نے یوسف کو اپریل 2013 میں جاءآہو سورگر کے پہاڑوں میں بی ایل ایف کے ایک کیمپ میں دیکھا۔میں بزات خود وہاں یوسف کے اخلاق ،مہر ودوستی ،پارٹی کے نظم وضبط کی پابندی سے بہت متا ثر ہوا۔ وہ ایک سادہ مزاج اور مضبوط ڈسپلن کا مالک سرمچار تھا، ہر وقت انکے چہرے پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھا وہ کبھی بالگتر کے پہاڑوں میں ،کبھی زامران ، کبھی شاشان ،اور کبھی بولان و شور کے پہاڑوں میں دشمن کے خلاف برسر پیکار رہا ۔کچھ مدت کےبعد یعنی سال 2014 میں کچھ مدت کے بعد بی ایل ایف چھوڑ کر ایک اور بلوچ مزاحمتی تنظیم بلوچ ،لبریشن، آرمی میں شامل ہو گیا ۔یوسف جان خود نظم و ضبط کا پابند انقلابی تھا اوردوسروں کوبھی پاپند رہنے کی ہدایت کرتاتھا۔وہ فوجی اصولوں کا اتنا پابند تھا جیسے اس کی رازداری کی مثال دی جاسکتی ہے کہ شہادت سے قبل اس کا اصلی نام کسی کو معلوم نہ تھا یعنی وہ اس قدر رازدار اور انقلابی اصولوں پہ کاربند تھا۔ اُس نایاب اور مسکرانے والا دوست سے ملاقات کا سلسلہ چلتا رہا ۔ تقربیاں 5 مہینے قبل ایک نا معلوم جگہ پہ ہماری ملاقات ہوئی اور میں یہ نہیں جانتا تھا کہ اس دوست سے یہ آخری ملاقات ثابت ہو گی- اس ملاقات میں کافی باتیں ہوئیں اس ضمن میں ہم نے جنگ،آزادی ،غلامی اور جُہد آزادی پہ نئے چیلنجز، پہ گفت وشنید کرتے رہیں اس ملاقات کے وہ الوداعی الفاظ جو یوسف کے لبوں سے نکلیں کہ ہماری بقاء اسی جنگ میں ہے ۔اگر ہم خوشی خوشی اپنے عزیز و رشتہ داروں کے ساتھ یہاں وہاں رہتے رہے تو ہم اپنی مقصد سے روز بہ روز دور ہو جاتے رہینگے۔ اس ملاقات کے کچھ مدت بعد یوسف جان(دودا بلوچ) اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ زامران بلیدہ وگردنواہ میں اپنی تنظیمی کاموں مصروف ہوگیا۔ 29 جنوری 2020کے دن فیس بک دیکھ رہا تھا تو اچانک ایک خبر میرے سامنے سے گزرا تو جلدی میں نے لنک کو کلک کیا اور خبر کو بلند آواز سے پڑھا۔ کہ بلیدہ کے علاقے ناگ میں سرمچاروں اور ریاست کے مہذہبی شدت پسندگروہ اور ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں کے درمیان میں شدید نوعیت کی جھڑپیں دونوں طرف سے نقصانات کی اطلاعات۔۔میں نے پوری خبر پڑھ لی۔اس خبر کی تصدیق کے لیے میں چند ایک دوستوں سے رابطہ کیا تو وہاں سے یہ دردناک اطلاع ملی کہ دودا جان چند ساتھیوں کے ساتھ وطن پہ قربان ہوگئے۔اس کے باوجود پہ یقین کرنا میرے لیے محال تھا پر شام کے 5 بجے دشمن نے شہیدوں کے تصویریں شائع کیں جن میں شہید یوسف کرد عرف دودا کے علاوہ جھاءآہو کوہڑو سے تعلق رکھنے والا بی ایل اے کا جانثار سرمچار ناجد عرف سلیم، سامی سے تعلق رکھنے والا بی ایل ایف کا جوان سال ساتھی دولت رسول عرف بابا باران ،بلیدہ زامران سے تعلق رکھنے والا میران عرف دادجان اور گوادر سے تعلق رکھنے والا بی ایل اے کا جانباز دوست شکیل عرف ماما جنید بلوچ کی تصوریں تھیں۔آج شہدائے بلیدہ ہمارے درمیان میں موجود نہیں وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہیں لیکن اُنکے دیے ہوئے تعلیمات اور نظریات ہمارے رہنمائی کررہے ہیں۔ ان کی تعلیمات جو اجتماعی سوچ کو ہی مقصد کی کامیابی تصور کرتے تھے لہذا ہمیں اسی سوچ کو جو قومی بقاء کا ضامن ہے اسے پروان چڑھانا ہوگا کہ شہداء کا نظریہ اور فکر یہی ہے۔ آخر میں ان تمام شہیدوں کوسرخ سلام پیش کرتا ہوں۔ اور اپنی کم علمی پہ ۔۔۔بلوچ راجی آجوئی سنگر "کا آپریشن اسریچ "کو ان نو عمر شہیدوں کے نام کرتا ہوں ۔اور ان شہیدوں میں سے ایک شہید ناجد عرف سلیم کی ماں "ماس زیبا" بلکہ سارے شہیدوں کی ماں ہے۔ وہ بڑے فخریہ انداز سے تمام شہیدوں کو شہادت پہ مبارک باد دیتی ہوئی کہہ رہی ہے کہ جہد آزادی اور سر زمین سے عشق کیلئے میری پاس اور چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔اگر مادر بلوچستان نے چاہا تو ان بچوں کو سر زمین کیلئے قربان کرونگی ۔سلام ہے ایسی بہادر ماں کو جس نے اپنے لخت جگر قربان کیا اور مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔یہی دراصل اجتماعی سوچ کی نشانی ہے جس قوم اور وطن کے قربانیوں کا درس شامل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل