شہید یوسف جان و ساتھیوں کی کامرانی تحریر: حاجی بلوچ


شہید یوسف جان و ساتھیوں کی کامرانی تحریر: حاجی بلوچ


مجھے تو بہت جمیل ، دلکش ، اور حسین خوبرو لگ رہا ہے، کامیابی و کامرانی اور فتحیابی کا رشتہ شہید یوسف عرف دودا جان اور ساتھیوں کے ساتھ، کیا آپ کو بھی سندر لگ رہا ہے ان کا رشتہ، اپنائیت ،اور آپس داری؟ ہاں بلکل! لیکن میں ایک بات بتاتا چلوں یہ کامیابی اور کامرانی وہ کامیابی اور کامرانی نہیں جو انسان امتحان میں یا کوئی بازی و کھیل میں حاصل کرتا ہے، جو صرف اپنے دائرے تک، اور اپنے مطلب یا غرض تک، یا مفاد تک، صرف علاقائی حوالے تک ہوتا ہے، بلکہ یہ وہ خوبصورت کامیابی اور فتحیابی ہے، جو صرف خوش بخت، خوش قسمت ، اور صاحب نصیب والوں کو ملتی ہے، جو انتیس جنوری دو ہزار بیس کو شہید یوسف عرف دودا جان کو چار ساتھیوں سمیت نصیب ہوا۔ ایک ایسی کامیابی جو علاقائی و قومی بلکہ ملک گیر انٹرنیشنل کامیابی کامرانی اور اقبال مندی ہے، جسے ہر قوم اپنے لیے ہمت افضائی، ہمت انگیزی، حوصلہ داری و دل بڈی سمجھتی ہے، جو ابھی تک غلامی یا محکومی کے شکار ہیں، جو اس غلیظ غلامی، محکومی سے مستقل نجات و چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی آزادی، خود اختیاری و خودمختاری کی شکل و صورت کو دنیا کے سامنے لانا، پیش کرنا، ظاہر و نمایاں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان سب کے لیے شہید یوسف عرف دودا اور ساتھی آج روز روشن کی طرح بہادری ،جرات مندی، شجاعت ، مردانگی کا ایک کردار و نمونہ یا مثال بن چکے ہیں۔ خاص طور پر بلوچ قوم اور بلوچ نوجوانوں کے لیے ایک سبق ، درس، وعظ یا نصیحت و ہدایت ہیں کہ بلوچ نوجوان اپنی قومی پہچان و شناخت کو، اور اپنی بقا اور وجود کو فنا ہونے سے بچائیں، شہید یوسف اور ساتھیوں کی قربانی، شہادت آج بلوچ نوجوانوں سے مخاطب ہیں، اگر بلوچ قوم نے خاص طور پر بلوچ نوجوانوں نے اپنی آزادی کی جد وجہد ، دوڑ دھوپ میں ایک ایمان دارانہ، مخلصانہ، سر توڑ کوشش، انتہائی زیادہ محنت نہ کیا ، اور ایک مثالی کردار ادا نہ کیا ، تو بلوچ قومی شناخت و پہچان کو ، اور بلوچ قومی بقا یا وجود کو کوئی نہیں بچا سکتا، سوائے یا بجز خود بلوچ قوم کے۔ اگر ابھی بھی ہم اپنے ہاتھ گالوں پر رکھ کر، یا کمر پر کس کر ، صرف تماشائی بنے رہے، نظارہ کرتے رہے ، اور اس انتظار یا چشم براہ ہوتے رہے کہ اب ظالم ، سفاک کے ہاتھوں کونسے دوست ، کس ماں کے لخت جگر، ماں کی ممتا ، باپ کا سایہ ، بہن کا سہارا ، اور گھر کا روشن چراغ ، شہید ہونے والا ہے، یا ظالموں کے ہاتھوں اغوا ہونے والا ہے، تو میرے خیال میں آج بلوچ قوم کی سب سے بڑی تباہی، بربادی نقصان کا کارن، سبب، علت ہماری منتظر تماشائی بنے رہنے سے ہوئی ہے۔ آج اگر پینتالیس ہزار لوگ دشمن ، ظالم آئی ایس آئی ، ایم آئی یا ان کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ یا حواریوں کے ٹارچر سیلوں میں پتہ نہیں کیسی کیسی اذیت سہہ رہے ہیں، برداشت کررہے ہیں، دس یا پندرہ ہزار شہید کیئے گئے ہیں، ان سب کے کارن، وجہ، ہماری لا تعلقی، لب بستہ اور خاموش تماشائی دیکھنے سے اتنی بڑی نوعیت کا نقصان ہوا ہے، اب اتنی بڑی نوعیت کی تباہی، نقصان کا مداوا، علاج، چارہ صرف و صرف بے شمار قربانی، بے انتہاء محنت کر کے اپنی جدو جہد میں مضبوطی ، شدت اور تیزی لانے سے ہوگا ، تاکہ جلد سے جلد بلوچ قوم اور بلوچ وطن دنیا میں دوبارہ اپنی آزاد و خود مختار، قانونی حیثیت اپنی شان و وقار کو بحال کرنے میں فتحیاب رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل