Posts

Showing posts from February, 2020

’’جدائی کا احساس دلانے والی اداس رات‘‘ Shaheed Commander Ali Sher Kurd Baloch

Image
’’جدائی کا احساس دلانے والی اداس رات‘‘ Shaheed Commander Ali Sher Kurd Baloch

’’جدائی کا احساس دلانے والی اداس رات‘‘ Shaheed Commander Ali Sher Kurd Baloch وہ ایک اداس رات تھی تنہاءی میں بیٹھ کر ایک کونے میں اس شخص کے بارے میں سوچ رہا تھا جوجاتے وقت کہتا تھا کہ “رخصت اف اوار ان سنگت” لیکن وہ رخصت کیے بغیر ہمیشہ کے لیے کچھ اس ادا سے بچھڑ گیا کے رت ہی بدل گءی ، وہ شخص ایک پورے کارواں کو ایک قوم کو اداس کر گیا ۔ دل میں ان کی جداءی پر ایک چھبن سی محسوس ہورہی تھی یادوں کی سمندر میں غوطہ زن ہو گیا ان کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد آیا ، جب ہم مایوس ہوتے تو وہ ہمیں بٹھاتے اور سیاہ چاءے کی پیالی تھماتے اور امید بندھاتے ، ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہوگیا ہو ، کون اس کی جگہ لے گا؟ دل ہی دل میں خود سے سوال کیا تب خود ہی برجستہ دل بیقرار کو خود جواب دیا کے کوءی نہیں اس کی جگہ لے سکتا ۔ کہاں سے ڈھونڈ کر لاءے گے ہم تجھے اب ؟ اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ ان کی آواز اچانک کانوں سے ٹکراءی کے رخصت اف اوارن سنگت ۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے درد کے جس کا پیمانہ نہ تھا جداءی کے احساس کا دکھ جو مسلسل طویل…

شہید یوسف جان کا نظریہ و فکر - تحریر: مرشد بلوچ

Image
شہید یوسف جان کا نظریہ و فکر - تحریر: مرشد بلوچ
تحاریک اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس سوچ، نظریہ اور فکر سے لیس کرداروں کو ہم جابجا دنیا کے تحاریک میں دیکھتے ہیں۔بسا اوقات اس سوچ کے عامل افراد کی قربانیوں کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ کونسا جذبہ ہے جو ان کرداروں کو ناقابل یقین کارنامے سرانجام دینے کی جانب اکساتا ہے۔ ان کے ان کارناموں کو جو کسی عام انسان کے لیے ناقابل یقین امر ہیں یہ ناقابل عمل ہی انہیں سماج میں دوسروں سے منفرد بناتا ہے اور ان کی یہی انفرادیت ہی انہیں تاریخ میں تخت مینا پہ پہنچاتی ہے۔ دنیا کے دیگر تحریکوں کی مانند بلوچ قومی تحریک میں بھی ہم یرمقام پہ عظمت کے ان پیامبروں کے انمٹ کارناموں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر قومی آزادی کے لئے خود کو مسکراتے مسکراتے فدا کرتے۔ اور آج میرے سامنے اُن کا مسکراتا ہوا چہرا صاف دکھائی دے رہا اور لگتا ہے کہ وہ میرے روبرو ہے، وہ مجھ سے ہمکلام ہے، میرے کانوں میں اس کی باتیں اذان کی گونج رہے ہیں، وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے اُن بااعتماد لیڈروں نے فرض ،قرض،…

شہید یوسف جان و ساتھیوں کی کامرانی تحریر: حاجی بلوچ

Image
شہید یوسف جان و ساتھیوں کی کامرانی تحریر: حاجی بلوچ
مجھے تو بہت جمیل ، دلکش ، اور حسین خوبرو لگ رہا ہے، کامیابی و کامرانی اور فتحیابی کا رشتہ شہید یوسف عرف دودا جان اور ساتھیوں کے ساتھ، کیا آپ کو بھی سندر لگ رہا ہے ان کا رشتہ، اپنائیت ،اور آپس داری؟ ہاں بلکل! لیکن میں ایک بات بتاتا چلوں یہ کامیابی اور کامرانی وہ کامیابی اور کامرانی نہیں جو انسان امتحان میں یا کوئی بازی و کھیل میں حاصل کرتا ہے، جو صرف اپنے دائرے تک، اور اپنے مطلب یا غرض تک، یا مفاد تک، صرف علاقائی حوالے تک ہوتا ہے، بلکہ یہ وہ خوبصورت کامیابی اور فتحیابی ہے، جو صرف خوش بخت، خوش قسمت ، اور صاحب نصیب والوں کو ملتی ہے، جو انتیس جنوری دو ہزار بیس کو شہید یوسف عرف دودا جان کو چار ساتھیوں سمیت نصیب ہوا۔ ایک ایسی کامیابی جو علاقائی و قومی بلکہ ملک گیر انٹرنیشنل کامیابی کامرانی اور اقبال مندی ہے، جسے ہر قوم اپنے لیے ہمت افضائی، ہمت انگیزی، حوصلہ داری و دل بڈی سمجھتی ہے، جو ابھی تک غلامی یا محکومی کے شکار ہیں، جو اس غلیظ غلامی، محکومی سے مستقل نجات و چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی آزادی، خود اختیاری و خودمختاری کی شکل …

رسم دلیری کا پاسبان (شہید یوسف بلوچ) تحریر:۔ ڈاکٹرجلال بلوچ

Image
رسم دلیری کا پاسبان (شہید یوسف بلوچ) تحریر:۔ ڈاکٹرجلال بلوچ

     کس نام سے پکاروں مادروطن کے ان فرزندوں کو جو دیوانہ وار خود کو سپردِ زمین کرتے ہیں؟ ان کی وطن سے والہانہ مہر و وفا کی تاریخ کیسے رقم کریں جہاں ”عشق ِوطن“ کے سامنے ہیچ نظرآجائے عشقِ مجنوں؟ وطن اور قوم کے لیے جان نچاور کرنے کی ان کی بیقراری جس میں وہ ان ساربانوں کو بھی مات دیں جو کارواں کو منزل پہ صحیح و سالم پہنچانے کے لیے راہ تلاش کرنے میں خود سے بیگانہ ہوجاتے ہیں ایسی سوچ بیان کرنے کے لیے ان موتیوں کی تلاش میں کہاں صحرانوردی کروں کہ وہ الفاظ مل جائیں جو ایسی ہستیوں کے شایان شان ہوں؟ یقیناً الفاظ کے موجودہ ذخیرے میں ایسے خزینہ الفاط کی قحط ہے جنہیں ادا کرتے ہوئے ان ہستیوں کے کردار کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔۔۔پر نہ جانے ایسی ہستیوں کے لیے کب الفاظ کے وہ موتی تخلیق ہونگے جو ان کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوں۔۔۔ایسی ہستیوں کی ترجمانی جو ان پگڈنڈیوں پہ نقشِ چھوڑرہے ہیں جو منزل کی جانب جاتے ہیں۔۔۔ عظمت کے ان پیامبروں کے لیے جو مسکراتے ہوئے لہو کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔۔۔ اور وطن کے ان سرفروشوں کے لیے ج…

پاکستانی ٹارچر سیلوں سے شہید نصیر بنگلزئی کا آخری پیغام – نوروز بلوچ

Image
پاکستانی ٹارچر سیلوں سے شہید نصیر بنگلزئی کا آخری پیغام – نوروز بلوچ

پاکستانی ٹارچر سیلوں سے شہید نصیر بنگلزئی کا آخری پیغام تحریر۔ نوروز بلوچ شہید نصیر بنگلزئی مستونگ کے علاقے اسپلنجی کا رہنے والا تھا وہ بہادر اور وطن پہ جان قربان کرنے والا سرمچار تھا، انکی ہر وقت یہی کوشش تھی کہ وطن کی آزادی کی راہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ڈال دوں اور وطن اور اپنی ماں بہنوں کی عزت پہ ہاتھ ڈالنے والوں کو زیادہ سے زیادہ جہنم رسید کرسکوں۔ اسی سوچ نے اسے ایک عام شہری سے سرمچار بنا دیا اور اس نے یونائیٹڈ بلوچ آرمی(UBA) جوائن کر لیا۔ سرمچار بنتے ہی اس سے اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور ایمانداری کے ساتھ سنبھال لیں۔ وہ شہید نورزیب کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ساتھی تھا کچھ وقت تک علاقائی کام سنبھالنے کے بعد جب تنظیم کے ساتھیوں نے انکی لگن، ایمانداری اور مخلصی کو دیکھی تو انہوں نے اسے شال کے کاموں کو سنبھالنے کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ بات تنظیمی سطح پہ طے ہونے کے بعد نصیر جان کو بتایا گیا تو نصیر جان نے خوشی کا اظہار کرکے اسے خوشی خوشی قبول کرلیا اور کچھ دنوں بعد شال کی طرف چل پڑا، شال میں نصیر…