Posts

Showing posts from January, 2020

یوسف بہادر تھا تحریر: زیرک بلوچ

Image
یوسف بہادر تھا تحریر: زیرک بلوچ
وہ انسان کبھی نہیں مرتا جو دوسروں کے لیے زندہ رہتا ہے، اس بے رحم جنگ میں حق نواز، عرفان، امیر جان، دلجان سمیت ہزاروں دوست شہید ہوئے، زاہد، ذاکر، دین جان سمیت ہزاروں دوست لاپتہ ہیں، ان سب کے درد کو دل میں لیتے ہوئے ہم سفر محو تھے، کہیں کوئی دوست کی شہادت کی خبر، کہیں دوستوں کی دشمن کے ہاتھوں لاپتہ ہونا۔ ہر دن کے غم ساتھ گذارتے گئے، شہید دودا میرہ بچپن کا دوست تھا، زندگی کے بہت سے سال ہم نے الگ گذارے، کچھ وقت پہلے دودا جان سے ملاقات ہوا، جب دودا جان شادی کی تیاریوں میں تھے۔ یہ منظر 30 جون 2019 کا تھا، جب یوسف جان کی شادی کا دن تھا، وہ کافی خوش نظر آیا، ہم دوستوں نے یوسف سے کہا دودا ابھی تو آپ کافی عرصے تک محاذ پر جانے کا ارادہ نہیں کروگے، یوسف جان نے ہنستے ہوئے کہا “نہیں یار، شادی ہمیں اس کام سے نہیں روک سکتا، اگر شادی ہمیں جنگ سےروک سکتا ہے، تو ہم کس بات کے جہد کار ہیں؟” شہید یوسف 3 ماہ بعد محاذ پر روانہ ہوتا ہے، کافی دوست یوسف سے کہتے ہیں کہ یوسف ابھی شادی ہوئی ہے کچھ عرصے بعد جاو۔ “نہیں یار کام بہت ہے، کام کرنا ہے، بہت سے دوستوں سے رابطہ …

شہید دودا؛ ایک مہربان بھائی تحریر: زرین بلوچ

Image
شہید دودا؛ ایک مہربان بھائی تحریر: زرین بلوچ
 بلوچستان پر جب بھی کوئی قابض ہوا ہے تو بلوچستان کے بہادر فرزندوں نے اپنے سرزمین کا دفاع کیا ہے، جب 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے شہادت کے بعد بلوچستان میں آزادی کا جنگ تیز ہوا تو شاید ہی ایسا کوئی گھر ہو جو اسکا حصہ نہ بنا ہو۔ اسی طرح میرا گھر بھی اس جنگ کا حصہ تھا، اس وقت میں چھوٹا تھا، مجھے یاد ہے میں گلی میں کھیل رہا تھا کہ گھر سے رونے کی آواز آنے لگی، میں بھی دوڑتے ہوئے جب گھر میں داخل ہوا تو ہر کوئی رو رہا تھا اور امی بےہوش پڑا تھا، پوچھنے پر پتا چلا کے کزن کا شہادت ہواہے، کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ تو بولا گیا کہ وہ مسلح جدوجہد کا حصہ تھا اور آج شہید ہوا ہے۔ پہلی بار میں نے اپنے گھر میں ایسا ماحول دیکھا تھا، اس کے بعد ایسا ماحول اکثر ہوا کرتا تھا۔ اب گھر ویران سا تھا کیونکہ جن سے گھر کی رونق تھی وہ گھر سے دور پہاڑوں پہ بسیرا کر بیٹھے تھے اور ہر کوئی ہم سے پوچھتا تھا فلانا کہاں ہے، کیا کر رہا ہے تو ہمیں جھوٹ بولنا پڑتا کے وہ خلیجی ممالک میں ہے اور وہ ہنستے ہوئے چلا جاتا۔ کچھ دنوں بعد پھر وہی شخص وہی سوال دہراتا اور ہم وہی جواب دیتے، پتہ نہیں ا…

شہید شفیع بلوچ سے وابستہ یادیں تحریر: چاکر بلوچ

Image
شہید شفیع بلوچ سے وابستہ یادیں تحریر: چاکر بلوچ  کافی عرصے سے شہید شفیع بلوچ کی شان میں کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجال ہے کہ قلم ہاتھ کا ساتھ دے، جب بھی کچھ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ہاتھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، ایسے لگتا ہے کہ بلکل ہاتھوں میں جان ہی نہیں کیوںکہ آج میں ایک ایسے شخصیت کے بارے میں لکھنے جارہا ہوں، جس نے تحریک سے قربت اور سرزمین سے وفاداری کو ہمارے دلوں میں اتارا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم غلام قوم ہیں اور غلام قوم کی کوئی وجود، کوئی پہچان نہیں ہوتا۔ آج اگر ہم اپنے حق سرزمین مادر وطن بلوچستان کے لیے نہیں اٹھیں گے تو سرزمین ہمیں قطعاً معاف نہیں کرے گا، کیوںکہ اگر ایک ماں بچے کو 9 ماہ تک اپنے پیٹ میں سنبھالتا ہے تو ان کے قدموں تلے جنت فرض ہوتی ہے، کیا یہ سرزمین ہمیں روز اول یعنی پیدائش کے دن سے لے کر ہمارے مرنے تک اس پر رہنے کا حق نہیں دیتا ہے تو کیا اس کا ہمارے اوپر کوئی حق نہیں ہوتا ؟ آج شاید کہیں کوئی غلطی، کمی یا کوتاہی نہ رہے جائے کہ میں شہید شفیع بلوچ کے خدمات، شان و شوکت میں نا انصافی کروں، شفیع بلوچ نے نہ صرف اپنے خاندان قبیلے میں اپنے لیے ایک مقام بنایا …

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ٹی بی پی کے ساتھ خصوصی انٹرویو

Image
حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی میں، یونیورسٹی انتظامیہ کے ہاتھوں طالبات کو حراساں کرنے کے اسکینڈل نے پورے بلوچستان کو چونکا دیا ہے۔ طالبات کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ انہیں بلیک میل اور حراساں کرتی رہی ہے۔ اس خبر نے بلوچ سماج میں ایک ہلچل مچادی اور ہر طرف سے ان افعال کی مذمت کی گئی۔ طلبہ و طالبات مسلسل اس واقعے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ان احتجاجوں کی سربراہی کرنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہیں۔ حال ہی میں دی بلوچستان پوسٹ نے انکا انٹرویو لیا تاکہ ہم اپنے قارئین تک طلبہ حراسگی اسکینڈل کی حقیقتِ حال لاسکیں۔دی بلوچستان پوسٹ: کچھ ذرائع کے مطابق، بلوچستان یونیورسٹی کے طالبات کو حراساں کرنے کا عمل سالوں سے جاری رہا ہے، لیکن ہمیشہ ایسے واقعات کو پردے کے پیچھے چھپایا گیا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ حالیہ اسکینڈل کے علاوہ اس کہانی میں اور کچھ بھی ہے؟ماہ رنگ بلوچ: یہ قصہ محض بلیک میلنگ اور حراساں کرنے کا نہیں، اگر ہم گذشتہ ایک دہائی سے یونیورسٹی سے طلباء سیاست کو ختم کرنے کی کوششوں کے پس منظر میں دیکھیں، تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں طالب علموں کو انکے …