Posts

Showing posts from August, 2019

اروندھتی کی پاکستان بارے موقف ان کی انسانی حقوق سے کمٹمنٹ کو مشکوک بناتا ہے- ڈاکٹر اللہ نذر

Image
اروندھتی کی پاکستان بارے موقف ان کی انسانی حقوق سے کمٹمنٹ کو مشکوک بناتا ہے- ڈاکٹر اللہ نذربلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے معروف ہندوستانی ادیب ارون دھتی رائے کے پاکستان سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ رائے صاحبہ انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر لکھتی ہیں۔ جانکاری رکھتی ہیں۔ اور ایک دن بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو سامنے لائیں گی۔ لیکن انہوں نے حقائق کو یکسر جھٹلا کر خطے کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنے کے بجائے جہالت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ ارون دھتی رائے کی لاعلمی باعث حیرت ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی بربریت کسی تعریف و تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ میں چند ایک حقائق ارون دھتی رائے کے سامنے رکھتا ہوں۔ اول یہ کہ یہ پاکستان کی فوج تھی جس نے 27 مارچ 1948 کو برطانوی راج سے نوآزاد بلوچستان پر چڑھائی کرکے نہ صرف ہماری آزادی سلب کرلی بلکہ بلوچ نسل کشی کا آغاز کردیا جو کہ آج تک جاری ہے۔ اور اس میں وقت کے ساتھ شدت آرہی ہے۔ اس وقت تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ قتل کئے جا چکے ہی…

قربانی دے رہے ہیں ، جہد آزادی کو دبانا ممکن نہیں – بشیر زیب بلوچ

Image
قربانی دے رہے ہیں ، جہد آزادی کو دبانا ممکن نہیں – بشیر زیب بلوچ پاکستان آرمی کی ظلم و بربریت ہمیں جہد آزادی سے دستبردار نہیں کرسکے گا۔ بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ نے سوشل میڈیا کے ویب سائٹ ٹویئٹر پر اپنے ایک مختصر پیغام میں کہا کہ پاکستان کہہ رہا کہ آٹھ ملین کشمیریوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن پاکستان یہ بھول جاتا ہے کہ پچاس ملین بلوچوں کا خاتمہ اور ان کے آزادی کی جدوجہد کو دبانا بھی ممکن نہیں ہے  انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آزادی کےلیے قربانی دی ہے اور آگے بھی دیتے رہیں گے ۔ بی ایل اے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی کی ظلم و جبر ہمیں آزادی کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کرسکے گا ۔ واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پاکستان بھارت کے خلاف سیاسی و سفارتی سطح پہ سرگرم ہے، اور خود پاکستان کے اندر میڈیا میں اس موقف کو بار بار دہرایا جاتا ہے کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد جائز ہے لیکن بلوچستان میں پاکستانی قبضے کے خلاف ہونے والے جدوجہد کو پاکستان دہشت گردی قرار دے رہا ہے ۔ دوسری جانب بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے کر امریکی صدر…

ہم بہت بہادر ہیں ۔۔تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر۔

Image
ہم بہت بہادر ہیں ۔۔تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر۔۔چلیں آج ہماری بہادری اور غیرت کے چند واقعات سنیں۔آپ نے میر چاکر خان رند اور میر گہرام خان لاشاری کا نام سناہوگا۔یہ چار پانچ سو سال پہلے کامختصر واقعہ ہے کہ ایک غیربلوچ گوہر نامی جتنی عورت کی اونٹوں کی خاطر دو نہایت طاقتور بلوچ سرداروں میر چاکر خان رند اور میر گوہرام لاشاری کے درمیان 30 سالہ خوفناک اور خونی لڑائی ہوئی۔اس لڑائی میں بقول مورخین تقریبا30 ہزار بلوچ مفت میں مارے گئے۔ہزاروں ماوں کی گود اجڑ گئے۔ہزاروں بچے یتیم ہوئے۔ہزاروں بہنیں بیوہ ہوگئیں۔بلوچ قوم پارہ پارہ ہوگئی۔وجہ؟؟صرف ایک،،باہوٹ،،عورت گوہر کی چند اونٹوں کے مارے جانے کی وجہ سے۔۔کیونکہ ہم بہت بہادر اور غیرت مند ہیں۔تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس وقت بلوچ قوم کی لشکرکی08ہزار تھی۔جو ایک دوسرے کو چند اونٹوں کی خاطر قتل کررہے تھے۔دوسری جانب مغلوں کی لشکر کی تعدار صرف18ہزار تھی اور انھوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا۔ہم 80000 تھے لیکن ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے۔کیونکہ ہم غیرت مند اور بہادر ہیں۔۔آپ قلات کے بلوچ خان حکمرانوں کی تاریخ دیکھیں کہ کس طرح باپ نے بیٹے اور بھائی نے بھا…