دنیا کو بلوچستان میں قتل عام و جبری گمشدگیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے،ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ


کوئٹہ بلوچ قوم دوست و آزادی پسند رہنماڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے  کی ویب سائٹ ’’ ٹوئٹر‘‘ پر اپنے چند تازہ ترین ٹوئیٹ پیغام میں بلوچستان  میں ہزاراہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 
 میں بلوچستان میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ بلوچ تحریک آزادی کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے۔ 
 انہوں نے ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں حالیہ فوجی آپریشن میں  متعدد خواتین و بچوں کی گمشدگی پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی  اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے سوئی  بلوچستان میں انیس بلوچ خواتین و بچوں کو اغوا کیا ہے اور ایک بچے کو ماں  کے ساتھ قتل کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے چیمپیئن کہاں ہیں؟ 
 بلوچ رہنما نے کہا ہے کہ اب دنیا کو پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچستان  میں قتل عام، نسل کشی اور جبری گمشدگیوں پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔ 
 انہوں نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں ضلع کیچ میں چار دنوں سے جاری فوجی آپریشن  کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی فوج زعمران میں فضائی اور زمینی آپریشن میں  بلا تفریق بلوچوں کو قتل کر رہی ہے۔ ان جرائم کو نظر انداز کرنا اقوام  متحدہ کیلئے باعث شرم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل