جرمنی سے ڈی پورٹ ہونے والے دو بلوچ فرزند نعیم بلوچ اور قابوس بلوچ تاحال لاپتہ ۔


جرمنی  گزشتہ سال جرمنی سے ملک بدری پر دو بلوچ فرزند کراچی ایئرپورٹ سے ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ نعیم ولد حاجی چاکر اور قابوس ولد عبدالکریم بلوچ نے خود بلوچستان جانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر جرمن حکام نے عمل در آمد کرتے ہوئے ڈلسر،کیچ کے رہائشی نعیم اور چاکر کو ملک بدر کر دیا تھا۔دونوں افراد کو 14مئی 2016ء جرمنی کے وقت کے مطابق 16:30منٹ پر ملک بدر کر دیا گیا تھا جو کراچی ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد پُراسرار طورپر لاپتہ ہوگئے ہیں۔جبکہ انکے رشتے دار انہیں لینے کراچی ایئر پورٹ بھی پہنچ گئے تھے جنہوں نے ایف آئی کے اہلکاروں کو انکی رہائی کے لیے بھاری رقم بھی ادا کی ہے ۔جس کے باوجود دونوں افراد کو فیڈرل ا ینویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کر دیا ۔خیال کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں افراد کو پاکسانی خفیہ اداروں کے حوالے کیا گیا ہے جنہیں طویل مدت گزرنے کے باوجود قید میں رکھا گیا ہے جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
واضح رہے اس وقت سینکڑوں بلوچ سیاسی کارکن جرمنی سمیت یورپ میں سیاسی پناہ کی تلاش میں ہیں جن کی زندگیوں کو بلوچستان میں پاکستانی آئی ایس آئی اور انکے بنائے ہوئے جہادی تنظیموں سے خطرہ ہے ۔
چونکہ یورپ میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی مہاجر معاش کی تلاش میں آئے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستانی زیر تسلط بلوچستان سے بہت کم بلوچ سیاسی کارکن یورپ پہنچ چکے ہیں اور انکو شکایت ہے کہ یہاں بلوچی زبان کے ٹرانلسٹر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی انکے مترجم ہیں اور پاکستانی ہمارے کیس کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں ۔
جرمنی میں پناہ کے متلاشی بلوچ سیاسی کارکن خوفزدہ ہیں کہ انکے کیس رجکٹ ہونے کی صورت میں وہ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں کی طرح پاکستانی حفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہوکر مار دیے جائیں گے ۔
جرمنی میں مقیم بلوچ سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان جہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہورہی ہے اور 20 ہزار بلوچ سیاسی کارکن لاپتہ 6 ہزار کے قریب مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں اور جہاں میڈیا مکمل بلیک آوٹ ہے  جرمن حکام بلوچ سیاسی کارکنوں کی کیسوں کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی فیصلہ سنا دے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل