اظہر چاکر کے اہلِ خانہ کی بی ایل ایف کے قیادت سے اپیل


کوئٹہ بی ایل ایف کے ہاتھوں قتل ہوئے اظہر چاکر کے اہلِ خانہ نے بیان جاری کرتے ہو ئے کہا ہے کہ تربت کے تحصیل تمپ کے علاقے کوہاڈ میں 4جنوری2017کی رات کو 9 بجے بی ایل اے کے ہاتھوں مارے جانے والے نجیب مولداد کا چھوٹا بھائی میران مولداد اور اس کی داماد مجاہد اور بی ایل ایف کے کمانڈر الطاف یوسف عرف ریحان نے اظہر چاکر کو اغواء کیا اغواء ہونے کے فوراً بعد ہم نے بی ایل ایف کے اہم عہدادروں سے رابطہ کیا کہ آپ کے کمانڈار ریحان اور نجیب مولداد کا بھائی میران نے اپنے بھائی کی ہلاکت کے ردعمل میں اغواء کیا جبکہ اسی دوران بی ایل اے نے نجیب کو اغوا کیا تو نجیب مولداد کے خاندان والوں نے ہم لوگوں کو دھمکی دینا شروع کیا۔ ہمارے پورے خاندان کو دھمکی دیا کہ اگر نجیب کو کچھ ہوا اس کے ذمہ دارتم لوگ ہوگے اور نجیب کا بدلہ تم لوگوں سے ضرور لیا جائیگاجو ہمارا خدشہ صیح ثابت ہوا ۔نجیب کی ہلاکت کے بعد ہمارے بھائی کو نجیب مولداد کا چھوٹا بھائی میران مولداد اور اس کے داماد مجاہد اور الطاف یوسف عرف ریحان نے اغواء کیا ۔

تو ہم لوگوں نے بی ایل ایف کے اہم عہداروں سے رابطہ کیا تو بی ایل ایف کے ذمہ دار دوستوں نے ہم لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ ہم نے آپ لوگوں کے مسئلے کو مرکز میں پہنچا دیا ہے اور آپ لوگوں کیساتھ ضرور انصاف ہوگا ۔جبکہ 12جنوری2017کو دشت کے علاقے کترنز میں اظہر چاکر تشددزدہ لاش بر آمد ہوئی۔ہم بی ایل ایف سے امیدیں لگائے ہوئے تھے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائیگا ۔اظہر چاکر ایک سیاسی سوچ رکھنے والا انسان تھا جو 90ء کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تمپ زون کا صدر رہہ چکا تھا۔

لہذا ہم بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے اعلیٰ قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ چاکر اظہر کے قتل کی تحقیقات کی جائے اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں تاکہ ہمارے خاندان کے خدشات دور ہوسکیں کہ کیوں اور کس بنیاد پر چاکر اظہر کو شہید کیا گیا ہے۔

منجانب اہلِ خانہ اظہر بلوچ

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل