نصیرآباد میں فوجی آپریشن دوران متعدد خواتین کو حراست بعد کیمپ منتقل کردیاگیا،بی آر پی

کوئٹہ بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری ہونے  والے بیان میں کہا ہے کہ ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ نسل کشی اور  بلوچستان کے طول و عرض میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔  فوجی آپریشن، اغواہ نما گرفتاریاں اور مسخ شدہ لاشوں کے پھینکنے میں ہر  گزرتے روز کے ساتھ تیزی لائی جارہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ریاستی فورسز نے  مظالم اور جنگی جرائم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے نہتے بلوچ خواتین اور  بچوں کے اغواہ کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے جو کہ بنگلادیش میں پاکستان  آرمی کی جانب سے کی جانے والی انسانیت سوز واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں  اسی آرمی نے لاکھوں بنگالیوں کے قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ تیس لاکھ  بنگالی خواتین اور بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے  قتل کردیا تھا۔ شیرمحمد بگٹی نے کہا کہ گزشتہ تین روز سے نصیرآباد اور ڈیرہ  بگٹی میں فوجی کاروائی کی جارہی ہے جہاں معصوم بلوچ آبادی کو نشانہ بنا کر  ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ نصیرآباد کے علاقے چھتر بمقام کنڈی  سے ریاستی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے آٹھ  خواتین کو ان کے نو بچوں کے ہمراہ اغواہ کرنے کے بعد فوجی چھاونی منتقل  کردیا ہے جن میں سے کچھ کی شناخت ناز خاتوں زوجہ چاکر بگٹی، روز بی بی بنت  چاکر بگٹی، حمید ولد چاکر بگٹی عمر تین سال، رمضان ولد چاکر بگٹی عمر 9  مہینے، بختو بی بی زوجہ صدیق بگٹی، اور زرناز بنت صدیق بگٹی کے ناموں سے  ہوئی ہے۔ اسی طرح ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہوئے چھ بے  گناہ بلوچوں کو شہید، دس کو زخمی اور درجنوں کو اغواہ کرلیا ہے۔ سوئی کے  علاقے اوچ میں ریاستی فورسز نے نہتے آبادی کو نشانہ بناکر گھروں میں لوٹ  مار کرکے انہیں آگ لگادی۔ گھروں پر حملے کے دوران فورسز نے چھ معصوم بلوچوں  کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے چھلنی کردیا اور دس دیگر کو زخمی کردیا۔  شہید ہونے والوں کی شناخت ریحان ولد لاشاری بگٹی، گل محمد ولد یعقوب بگٹی،  قادو ولد گھنڑا بگٹی، پہلو ولد باری بگٹی، غفور ولد سوالی بگٹی، اور میوا  ولد پہردین بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ کاروائی کے دوران اب تک سترہ بے گناہ  افراد کو اغواہ کیا جاچکا ہے جبکہ تین روز جاری آپریشن میں اب تک بھی  گھروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں آج ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔  اسی طرح مند، تمپ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ریاستی فورسز کی  جانب سے نہتے بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں جانی و  مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ بی آر پی بین الاقوامی برادری، میڈیا اور انسانی  حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری جنگی جرائم کا  فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی روک تھام کیلئے کردار ادا کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل