فورسز طویل عرصے سے بلاتفریق بلوچ قوم کی قتل عام میں مصروف ہیں، بی ایس او آزاد

کوئٹہ  بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے  مختلف علاقوں میں جاری فوجی کاروائیوں کے دوران نہتے لوگوں کی اغواء اور  گھروں میں لوٹ مار کرنے کو بلوچ نسل کشی کی تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا فورسز  طویل عرصے سے بلاتفریق قتل عام میں مصروف ہیں۔ آزادی کی تحریک سے خوف زدہ  ریاستی مشینری اور بلوچستان میں موجود بیرونی سرمایہ کار خوف کو عوام کے  خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں، لیکن ان تمام تر جبری کاروائیوں کے  باوجود بلوچ عوام اپنے فطری حق آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد سے دستبردار  نہیں ہوئے ہیں۔ترجمان نے جھاؤ، پنجگور، خضدار، اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں  جاری آپریشنوں کے دوران عام لوگوں کی گرفتاریوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے  کہا کہ بلوچستان میں قابض ریاست اپنی وجود کو بندوق کے زور پر قائم رکھ رہی  ہے۔دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بلوچستان میں نام نہاد صوبائی  اسمبلی قائم کی گئی ہے لیکن ان کٹھ پتلی اراکین اسمبلی کے لئے احکامات ایف  سی اور آرمی کی طرف سے آتے ہیں۔نیشنل پارٹی قیادت اور نام نہاد سردار بلوچ  عوام کے نمائندے نہیں بلکہ ریاستی فورسز کے سول ادارے ہیں، پارلیمانی  پارٹیوں اور قبیلوں کا نام استعمال کرنے والے سرداروں کے خلاف بلوچ عوام نے  اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ریاست کے مقامی نمائندوں کی سربراہی میں بننے والی  ڈیتھ اسکواڈز اور مذہبی شدت پسندی کی گروہیں بلوچ قتل میں باقاعدہ طور پر  شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نسل کشی کے لئے فوجی قوت کے استعمال کے  ساتھ ساتھ ریاست تعلیم اور روزگار کے پہلے سے موجود محدود ذرائع کو بھی  اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے۔جس سے عام لوگوں کی معیشت اور تعلیم پر انتہائی  منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا  کہ بلوچ قومی مستقبل کو درپیش تمام چیلنجز کا حل بلوچ قومی ریاست کی بحالی  سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کی بلوچ نسل کشی پر خاموشی کو تنقید  کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زمہ دار ممالک کی خاموشی بلوچ نسل کشی کی  کاروائیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا سبب بن رہا ہے۔ عالمی اداروں کی زمہ  داری ہے کہ بلوچستان سے لاپتہ ہزاروں لوگوں کی بازیابی، جبری نکل مکانی  کرنے والے لوگوں کی آبادکاری اور بلوچ مسئلے کے پرامن حل کے لئے کردار ادا  کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کی ضیاع سے بچا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل