تمپ سے کچھ روز پہلے ایف سی نے جاسم بلوچ، ابراہیم بلوچ اور بالاچ بلوچ نام کے تین نوجوان اٹھائے گئے اور جبری گمشدہ کردئیے گئے



بلوچ نوجوانوں کو غائب کیا جارہا ہے
مین سٹریم میڈیا بلوچ جبری گمشدگیوں کی خبروں کا مکمل بلیک آوٹ کیے ہوئے ہے
جیو کی ٹیم شام کے شہر حلب میں پہنچ گئی ہے مگر بلوچستان کے علاقوں تک نہیں پہنچ پاتی
یہ بلوچستان کے علاقے تمپ میں ایف سی کا ھیڈ کوارٹر ہے
تمپ سے کچھ روز پہلے ایف سی نے جاسم بلوچ، ابراہیم بلوچ اور بالاچ بلوچ نام کے تین نوجوان اٹھائے گئے اور جبری گمشدہ کردئیے گئے
جاسم بلوچ کے معذور والد ایف سی کے ہیڈکوارٹر کے سامنے بیٹھے ہیں
تینوں جبری گمشدہ نوجوانوں کے خاندان کی عورتیں بھی ایف سی کے ھیڈ کوارٹر کے سامنے بیٹھی ہیں
ایف سی کے نوجوان جب گاڑیوں میں نکلے تو انھوں نے ان سے اپنے پیاروں کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔خواتین گاڑیوں کے پیچھے بھی بھاگیں لیکن کسی نے رکنے کی ذحمت گوارا نہیں کی
یہ متاثرہ بلوچ خاندان صرف یہ پوچھتے ہیں کہ ان کے بچوں کا جرم کیا ہے اور ان کا کوئی جرم ہے تو ان پہ مقدمہ باقاعدہ کسی عدالت میں کیوں نہیں چلایا جاتا؟ ان کے بچوں کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل