زامران میں دوسرے روز بھی ریاستی بربریت جاری


کوئٹہ ضلع کیچ و ضلع آواران کے مختلف علاقوں میں برے پیمانے پرزمینی  وفضائی آپریشن جاری ،متعدد علاقے محاصرے میں ،جیٹ طیاروں کی آبادیوں پر  بمباری ،بڑی تعداد میں گرفتاریوں اور ہلاکتوں کا خدشہ۔تفصیلات کے مطابق ضلع  آواران اور ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں گذشتہ دو دنوں سے پاکستانی فوج کی  زمینی وفضائی آپریشن جاری ہے۔بڑے پیمانے کے اس آپریشن میں جیٹ طیارے اور  ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں،زمینی فوج نے تمام علاقوں کو محاصرے میں لیا ہوا  ہے ۔دونوں اضلاع کے لوگ گذشتہ دو دنوں سے محصور ہیں ۔مذکورہ علاقوں کی  داخلی و خارجی راست بند ہیں۔آپریشن زدہ علاقوں کے مواصلاتی نظام بھی بند  کردیا گیا ہے ۔ضلع آواران کے جن علاقوں میں آپریشن ہورہی ہے ان میں  کنزیلگ،سیاہ گزی ،ہارونی ڈن،تیرتیج،گورستانی ،راکن،چیدگی شامل ہیں جو مکمل  پاکستانی فوج کے محاصرے میں ہیں ۔آواران کے علاقے بزدادگندکور میں پاکستانی  فوج نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی،خواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا  جبکہ گھروں کے قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے ۔ضلع کیچ کے زامران ، بالگتر اور  انکے گردونواحی قصبے گذشتہ دو دنوں سے فوج کے محاصرے میں ہیں فضائی  بمبارمنٹ سے ہلاکتوں کے خدشے کا اظہار کیا جارہاہے۔اطلاعات ہیں کہ تربت شہر  سے 8 جیٹ طیارے زامران اور بالگترکی جانب پرواز کر گئے ہیں۔فوج نے تمام  موبائل نیٹ ورک بند کردیئے ہیں جس سیمزیدصورتحال و تفصیلات سے رسائی ممکن  نہیں ہوپارہی ہے ۔واضع رہے کہ گذشتہ روز ہوشاپ اور تل کے درمیان پاکستانی  فوج نے ایک ساٹھ سالہ بزرگ سوالی گہرام کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیاجو تل  کا رہائشی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل