جان نثار و مخلص سپاہی شہید سلیمان عرف علی بلوچ مہراب مہر

جان نثار و مخلص سپاہی شہید سلیمان عرف علی بلوچ
مہراب مہر

زندگی کے حسین پل کتنی تیزی سے گزرتے ہیں کاش کہ کرب و تکلیف کے لحمے بھی ایسے ہی گذرتے ۔آنسووں کے ساتھ پختہ حوصلہ رکھ کر آگے کی جانب پیش قدمی کرنے والے ایک اور جانباز و جانثار ساتھی یوں ہی بچھڑا کہ پل بھر اسکی شہادت کا گمان ہی نہیں ہوتا۔ایسے بے لوث ساتھی کیوں جلدی بچھٹرتے ہیں ؟وقت کی رفتار تیز ہوگئی ہے یا ہم سست روی کا شکار ہیں خدا ہی جانے یا حوصلہ پانے کا وہ جوش و جوزہ ہی نہیں رہا۔ علی کون تھا؟ کس کا بیٹا تھا جس ماں نے ایسے سپوت کو جنا ہے وہ دنیا کی عظیم ماوں میں شمار ہوگا۔ خاموش طبع محنتی مخلص لائق ایماندار ساتھی جس نے پہلے دن سے جہد میں قدم رکھا ۔اپنے بے لوث و جانثار جذبے کے ساتھ قومی آزادی کا سوگند لیکر مرتے دم تک اپنے فکر و فلسفے پر کاربند رہا۔ دنیا ئی زندگی اسی دن ترک کردی تھی جب ان نے جہد کو اپنا مقصد جانا تھا۔ ایسے ایماندار ساتھی جو 2009سے لیکر 2016کے آخری دنوں تک مسلسل وطن کی خاک چھانتا رہا۔ ہر میدان میں وہ اول صف کے ساتھیوں میں اپنی بہادری و جانثاری کی وجہ سے پیش پیش رہا۔ اس نے کھبی پیچے مڑ کر نہیں دیکھا۔جرائت و بہادری کی داستان لیکر وہ ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار ہوتا رہا ۔ وہ ایک ایسا کردار تھا جو اپنے محنت خلوص و ایمانداری کا انمول نمونہ تھا ۔وہ ایک علیحدہ شخصیت کا مالک تھا۔ وہ ایک سپاہی کے بھیس میں بلوچ قومی جہد آزادی کے کاروان میں شامل ہوا اور مرتے دم تک وہ اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا۔ آج شور و پارود سمیت بلوچستان سوگوار ہے کہ ان کا ایک عظیم فرزند ان سے چھن چکا ہے ۔اب وہ راستے وہ وادیاں وہ تپتا ریگستان خون کے آنسو رو رہا ہوگا کہ وطن کا ایک اور محافظ اسکی حفاظت خلوص کے ساتھ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔ موت آنی ہے پر جس اندازمیں سنگت سلیمان عرف علی موت سے رو برو ہوتے ہیں اس پر موت بھی شرمندہ ہے کہ شہید سلیمان نے موت کو مات دے دی۔ اس پر خدا کے فرشتے بھی عش عش کرتے ہونگے کہ وطن کی محبت میں دیوانہ یہ نوجوان زخمی حالت میں کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد دشمن کو شکست دیکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بحفاظت نکل جاتے ہیں وہ موت سے رو برو ہوکر اپنے سنجیدہ طبعیت کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہیں۔ایسے نادر کردار ہی قوم کی زینت بنتے ہیں قوم کی زندگی سنوارنے والے کردار ہی مادر وطن پر اپنی جان نچاور کرتے ہیں۔شہید سلیمان 2009کو بی ایل اے کے پلیٹ فار م سے جدوجہد شروع کی اور انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے وہ ایک ایسے پرخلوص ساتھی تھے کہ ہر وقت شہید صدام و شہید جاوید کے ساتھ کسی محاذ پر ہوتے تھے وہ اوتاک میں کم ہی دکھائی دیتے تھے ہر وقت کوئی نہ کوئی قومی ذمہ داری اسکے کندھوں پر لدا ہوا تھا لاغر بند سنجیدہ چہر ہ و مضبوط حوصلہ و ہمت کے ساتھ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے وہ شہری محاذ میں رہے وہاں بھی اپنے ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے شہری محاذ میں 2010کو ایک واقعے میں گرفتار ہوئے ریاستی ٹارچر سیل کی صعوبتیں برداشت کی جب جیل سے رہائی پائی وہ گھر کی طرف لوٹنے کی بجائے اپنی حقیقی گھر کی طرف چل پڑے اور پہاڑوں میں دوستوں سے بغل گیر ہوئے۔ 2010سے لیکر اپنی شہادت کے دن تک وہ مسلسل کام کرتے رہے ۔وہ رخصتی پر گئے وہاں بھی وہ کوئی نہ کوئی منصوبہ بناتے اور دشمن پر وار کرتے وہ اپنی بلند حوصلہ و ہمت کے ساتھ وہ دوستوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے ۔ شور سے لیکر بولان تک وہ کئی محاذوں پر صف اول کے سپاہیوں میں رہے اور دیدہ دلیری و بہادری کے ساتھ لڑے۔ وہ ایک ایسے سپاہی تھے وہ جنگ کے ہنر کو جانتے تھے جو جنگ کی باریکیوں سے واقف تھے وہ ایک انجنئیر بھی تھے موٹرسائیکل کی مرمت ہو یا کسی مخابرے کی یا کسی ریڈیو کی خرابی ہو۔ وہ ہر کام کو کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے خاموش طبع انسان تھے بہت ہی کم بولتے تھے لیکن کسی بھی مسئلے پر جب اسکی رائے سامنے آتی تو وہ اٹل ہی ہوتی۔ کیونکہ اس نے جنگ کی ہر باریکی کو سمجھ چکا تھا اور اس سے بخوبی واقف تھا ۔وہ اتنے سالوں میں کھبی بھی کسی بھی مسئلے پر تذذب کا شکار نہ ہوئے بلکہ ہر مسئلے میں پڑنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے دوستوں کی آمد کی بات ہو یا کسی عسکری کاروائی کی وہ ہر کام میں پیش پیش تھے ۔یہ اس کا خلوص ہی تھا کہ اسے ہر کام میں ماہر بنا دیاتھا ۔ جب بھی نظریں پہاڑوں پر پڑتے ہیں تو نجانے کیوں یہی ایک ہی دوست ہمیشہ یاد آتا تھا۔ حالانکہ نہ اس سے اتنی قربت تھی اور نہ ہی اتنے قریب رہے تھے یہ اسکی محنت و خلوص ہی ہے جس نے ہر سرمچار کو آشکبار کر دیا ہے ہر ساتھی اپنے اندر ایک سمندر ہی ہوتا ہے اور سمندر کی گہرائی کو جاننا اور اسے بیان کرنا مجھ سمیت کسی کے بس کی بات نہیں ۔ کیونکہ انکے کردار خلوص و ایماندار ی قربانی کا پیمانہ اپنا ہی ہوتا ہے اور وہ اپنے ہی من میں اپنے قربانی کو ناپتے ہیں اور اس حد تک جاتے ہیں جس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے شہید سلیمان عرف علی ایسے ہی ایک ساتھی تھے جس نے وطن کی آزادی کی خاطر اپنی ہر خواہش و ہر ضرورت کو قربان کردی اور خلوص کے ساتھ اپنے فکر پر ڈٹے رہے آج بلوچ تحریک جس کھٹن دور سے گزر رہی ہے اسے شہید سلیمان جیسے نڈر سپوت ہی نکال رہے ہیں۔ چاروں طرف دشمن کے بیچوں بیچ دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے کام کو ترتیب دینے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں شہید سلیمان عرف علی جیسے ہی کردارکر سکتے ہیں۔شہید سلیمان باغبانہ خضدار میں پیدا ہوئے تھے بچپن غریبی میں گزری جوانی میں قدم رکھتے ہی بلوچ وطن کی آزادی کے لیے میدان جنگ کا حصہ بنے اور خلوص و ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے رہے۔شہید سلیما ن تو ایسے انداز میں بچھڑا کہ گمان ہی نہیں ہوتا سنجیدہ چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سے رخصت ہف ہوار اوں سنگت کہتے ہوئے تو چلا گیا وہ جوتے تیرے پاوں میں جو جوتے ہے ابھی تک پٹے ہی نہیں کہ تو وطن کے بہار کو دیکھنے سے پہلے ہی رخصت ہوا تیری جدائی کا نہ غم ہے نہ افسوس۔ کیونکہ یہ تو آزادی کے اس پرکھٹن راستے کا ہی دین ہے کہ پھول اس حسین راستے پر قربان ہوتے جاتے ہیں اور وطن کی آبیاری کرتے ہیں۔آج ایک طرف لوگ وطن کی ننگ و آبرو سے بے نیاز اپنی مدہوش زندگی میں گم سم ہو کر اپنی شناخت و اپنی پہچان کو داؤ پر لگا چکے ہیں کسی نوجوان بزرگ یا کماش کو یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ زندگی کی خوبصورتی وطن کے ساتھ ہے جو لوگ وطن کے سچے عاشق ہوتے ہیں وہ وطن کے عشق میں مدہوش ہو کر شہید سلیمان و دیگر شہیدا کی طرف وطن کی آزادی کے لیے جہد کرتے ہیں ۔ گلہ کسی سے نہیں اور نہ ہی تو کسی سے خفا ہے تو نے صدق دل سے وطن کو چاہا وطن کو مان سمان دیا ۔ وطن بھی اپنے ایسے سچے عاشقوں کو اپنی سینے میں پھول کی طرح رکھے گا ۔شہید سلیمان تیرے خون کا ہر قطرہ جو اس بے بسی و لاچاری میں اپنی گلزمین پر گر کر جم رہا تھا تو سرزمین خدا وند سے اپنے سچے عاشق کی داستان بیان کر رہا تھا۔ زندگی لحموں میں ہی بدل جاتی ہے لیکن ان لحموں کو بدلنے والے سلیمان عرف علی اب نہیں رہے علی گوریلا جنگ کا مایاناز سپاہی تھا فطرت میں وہ نرم دل و معصوم طبعت کا مالک تھے صبر و برداشت کی داستان رقم کرتا تھا ۔ ایک معصوم خاموش طبع با صبر ایماندار ساتھی دنیا کی دھندلکوں کو سمجھنے کے بعد اپنی وطن پر قربان ہونے کا فیصلہ کرکے مرتے دم تک اپنے فلسفے پر قائم رہا ایسے انسان کیسے کسی کو مار سکتے ہیں ایسے معصوم لوگ کیسے بے رحم بن سکتے ہیں ایسے انسان کیسے اپنے گھر بار چھوڑ کر در بدر کی زندگی گزارنے کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں۔ سوچ کر جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیونکہ وطن کی غلامی کو ایسے ہی حساس طبعیت کے مالک لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ایسے ہی لوگ وطن و گھر بار کا فرق سمجھ پاتے ہیں ایسے ہی لوگ ذات و اجتماع کے مفادات کا تعین کرنے کا ہنر رکھتے ہیں اور ایسے ہی کردار رحم دلی و بے رحمی خوشی و غم میں تمیز کر سکتے ہیں اور ایسے ہی لوگ وطن پر مرمٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ شہید سلیمان جس انداز سے جہد میں نمودار ہوا اور اس دوران جس مخلصی و ایمانداری کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دیتا رہا وہ لائق تحسین ہے وہ کسی کے تعریف کے محتاج نہیں۔ اس کا عمل اسکی قربانیاں اسکی گواہی دینگے کہ وطن کا یہ گبرو جوان اپنے خون کے آخری قطرے تک دشمن سے لڑتا رہا اور شہادت کا جام نوش کر گیا۔ شہید سلیمان ایک ہے یا دو۔ دونوں سلیمان ہے دونوں نے ایک ہی جذبہ و حوصلے کے تحت گلزمین کو اپنے خون سے رنگین کر کے چلے گئے دونوں نے موت کو شکست دے کر امر ہوگئے مشکے کے تپتے یا قلات کے یخ بستہ پہاڑ ہوں ہر جگہ ایسے ہی دلیر و بہادر سپاہیوں نے وطن کی تاریخ اپنے خون سے لکھی ہے اب شور کے چشمے آپکے ہاتھوں کی لحمس کو محسوس نہیں کر سکیں گے وہ آبشار آپکے بدن کے پیسنے کی خوشبو کو اپنے اندر نہیں سمو سکیں گے اب وہ جڑی بوٹیاں آپ کے پیروں کی آہٹ نہیں سن سکیں گے وہ درخت جو آپکی تھکاوٹ کو مات دے دیتے تھے اب وہ آپ کے حسین و سنجیدہ چہرے کے پیچے وطن سے محبت کے درد کو نہیں دیکھ سکیں گے ۔اب بھیڑ بکریاں جو آپ کو دور سے دیکھ کر آنکھیں ٹکا کر آپکے ہر حرکت کا جائزہ لیتے تھے وہ اب آپ کی کمی کو محسوس کرینگے وہ دوست جو رات کو آپ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ تھکے ہارے ٹوٹے بندن و بلند حوصلے کے ساتھ آئیں گے وہ اب آپ کو کھبی نہ دیکھ سکیں گے لیکن ہر لحمے ہر گھڑی آپ کی باتیں آپ کی سنجیدہ و حساس طبعیت ان کو آپ کے ہر عمل و ہر کام کی یاد دلاتا رہے گا۔اور انکے حوصلوں کو مزید توانا کرتا رہے گا۔وہ بھی آپ کی شہادت کا سوگند لے کر وطن کی آزادی کے فکر پر مزید محکم و مضبوط حوصلہ کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اوروطن کا ہر چشمہ و ہر آبشار اب زمین کے اندر آپ کے بدن کی خوشبو کو اپنے اندر سمو لے گا ہر درخت آپ کی قربانیوں کا گواہ بنے گا ہر پہاڑ آپکے بلند حوصلوں کی داستان بیان کرے گا۔ہر راستہ آپکے خواب و خیالوں و آپ کے قربانیوں کی سنہرلے حروف میں رقم کرتا رہے گا شہید سلیمان آپ مرے نہیں آپ وطن کے ساتھ اپنے عشق کی وجہ سے گل مل گئے ہیں۔آپ وطن کے ہوگئے اور وطن آپ کا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل