پاکستان میں ایجنسیاں جبری گمشدگیوں کی ذمہ دار ہیں، عاصمہ جہانگیر


سلام  آباد پاکستان میں حقوق انسانی کی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر  نے کہا ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ لوگوں کو ایجنسیاں ہی اٹھاتی ہیں اور  باہر سے کوئی نہیں آتا۔عاصمہ جہانگیر نے پاکستان میں حالیہ جبری گمشدگیوں  پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری  نثار علی خان عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سامنے  بیبس ہیں تو انھیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔وزیراعظم اور وزیر داخلہ سمیت  عوام کے منتخب نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو  خفیہ قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سے گریز کرنا چاہیے کیوکہ آج کا نوجوان اپنے  حقوق سے واقف ہے۔بی بی سی کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے عاصمہ  جہانگیر نے زیادہ تر مبینہ جبری گمشدگیوں کا سبب چین پاکستان اقتصادی  راہداری (سی پیک) پر تنقید کو قرار دیا۔'یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ  جہاں کسی نے سی پیک کا ذکر کیا وہاں ایجنسیاں آگ بگولہ ہو جاتی ہیں۔'عاصمہ  جہانگیر کا کہنا تھا کہ ویسے تو پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بڑی  تعریف کی جاتی ہے کہ وہ دنیا میں بہترین ہیں۔ ’اگر ایسا ہے تو لوگ بازیاب  کیوں نہیں کروائے جا سکتے؟‘ان کے بقول ایجنسیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ لوگ  ترقی کے خلاف نہیں ہیں، مگر وہ ایسی ترقی چاہتے ہیں جس کا فائدہ عام آدمی  کو پہنچے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ بھی اس منصوبے سے متاثر ہو رہے ہیں  انھیں اس کا فائدہ بھی ملنا چاہیے۔ 'گلگت بلتستان کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ  سی پیک کے خلاف نہیں ہیں، مگر ان کے روزگار کا سہارا ان کے چھوٹے چھوٹے باغ  ہیں اس کا کوئی متبادل ملنا چاہیے۔ اسی طرح گوادر والوں کو گوادر میں  روزگار ملنا چاہیے۔'عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا دہشت گردوں سے بھی قانون کے  دائرے میں رہ کر نمٹا جائے۔ ہم نے تو فوجی عدالتوں کو بھی قبول کر لیا  تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں پر گمشدگیوں کے معاملات کا سارا بوجھ نہیں  ڈالا جا سکتا کیونکہ اگر گمشدہ افراد کو وزیر داخلہ اور وزیراعظم بازیاب  نہیں کروا سکتے تو پھر سپریم کورٹ کیا کر سکتی ہے۔'میں سمجھتی ہوں کہ کسی  جج کے لیے وہ بڑا مشکل لمحہ ہوتا ہو گا جب وہ سوچتا ہو گا کہ وہ احکامات تو  دے دے، لیکن اگر عمل درآمد نہ ہوا تو اس سے ادارے کا وقار مجروح ہو  گا۔'پاکستان میں حالیہ گمشدگیوں کے بارے میں ایک سوال پر عاصمہ جہانگیر نے  کہا کہ حکومت اور پس پردہ قوتوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل  میڈیا کے دور میں لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔مذہبی  رواداری میں کمی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے  مقابلے میں انڈیا میں مذہبی رواداری کے لحاظ سے صورت حال زیادہ خراب  ہے۔'وہاں مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایک بڑی جمہوریت کو مذہب  کے نام پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ حال یہ ہے کہ اب جب وہاں مسلمانوں کے خلاف  کوئی بات کی جاتی ہے تو شرمندگی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔'امریکہ میں ڈونلڈ  ٹرمپ کے اقتدار میں آنے میں مذہب کے کردار پر ایک سوال کے جواب میں انھوں  نے کہا کہ مذہبی جنون نے نئی جمہوریتوں کو تو نقصان پہنچایا ہی تھا اب تو  پرانی جمہوریتیں بھی اس کا شکار ہیں۔ ان کے بقول یورپ میں بھی یہی رجحان  دیکھنے میں آ رہا ہے۔عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ مسئلہ مذہب کا نہیں بلکہ  مذہبی جنون کا ہے، چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والوں میں پایا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل