علی ۔۔۔۔۔۔ تحریر : عالیان یوسف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


علی ۔۔۔۔۔۔

تحریر : عالیان یوسف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غالباً چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ اپنے وطن کی مٹی کی مقدس خاک چھانتے ہوئے کبھی یہاں پڑاؤ اور کبھی وہاں مسکن بنانے کے جاری سفر میں ہیں لشکرء خاک نشینان کے دسیوں ہمراہ بھی ہم سفر ہیں، ہم جس علاقے میں محو سفر ہیں ہم سب کیلئے یہ پہاڑ اور رہگزر اجنبی ہیں سوائے اپنی مٹی کی خوشبو کے، وہ خوشبو جس سے صدیوں کا رشتہ ہے اسی رشتے اور مہروان تعلق نے ہم سے پہلے کہیوں کو اس سفر کو جاری رکھنے کا درس دیا اور آج یہ سفر ہمارے ناتواں کندھوں پہ ہے، وطن اپنا پہاڑ اپنے لوگ اپنے، لیکن ہم ناشناسا ہیں، یہ لوگ یہ بلوچ یہ پاوال جنکی شناخت کو بچانے اور اپنی ملکیت پر راج کرنے کے احساس دلانے کا ہم نے بار گراں اٹھایا ہے اپنی زند میں مگن ہیں،
راستے اجنبی ہوں تو تصورات وتخیلات بہترین ساتھی ثابت ہوتے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ نئے راستوں پر گامزن ہونا نہی ابتداء ہےاپنے مقصد و منزل کو پانے کے لئے ، ایک آزاد وطن میں اپنی شناخت، ملکیت، ثقافت، زبان کے ساتھ خود داری سے جینے کا مقصد، جسے ہم نے اپنی نا اہلی سے ماضی میں کھو دیا ہے، تصورات مجھے ماضی کے دریچوں میں سیر کروانے لے چلتے ہیں میں سیر کا لطف اٹھاتا ہوں واپس حال میں لانے والی آواز ایک گونج ہوتی ہے ایک بلوچ چرواہے کی جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر سے دور کسی دوسری پہاڑی پربکری چرانے والے دوست سے کوکار میں ہم کلام ہوتا ہے،
تین دن اوردو راتوں کے سفر کے بعد کچھ اور اپنے جیسے خاک نشینوں سے سرراہ ملاقات ہوتی ہیں،،،،،،،،،،.
میری نظریں ان نہے آنے والے ساتھیوں کے چہروں پہ مرکوز ہیں، کوشش کرتا ہوں کہ چہروں پر جمی گرد کے نیچے پڑے جھریوں میں گزرے وقتوں کے'کم' آسودگی اور زیادہ مشکلات کا مشاہدہ کر سکوں ان ساتھیوں سے ملاقات کی مختلف اوقات ومقام ہیں، کسی سے آٹھ سال بعد اور کسی سے کچھ کم وقتوں بعد ملاقات ہورہی ہے، جسطرح میں نے کہا کہ ملاقات سرراہ ہورہی ہے تو کھڑے کھڑے بلوچی حال احوال ہوتی ہے عرصوں کے تکالیف، مشکلات و نقصانات کو دس پندرہ منٹ میں سمیٹا نہیں جا سکتا، مل رہے ہیں پھر سے جدا ہونے کیلئے، حالات کچھ ایسے ہیں کہ زیادہ دیر یہاں کھڑے رہ کر بات نہیں ہوسکتی، میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں کہ کسی ساتھی سے پانی کا بوتل مانگ لوں اور پیاس بجھاؤں، چھوٹے قد گندمی رنگت کا ایک جوان جسکے ہاتھ میں پانی کی بوتل ہے میرے آنکھوں میں پیاسے سوال کو پڑھ لیتا ہے اور آگے بڑھ کر پانی کی بوتل میرے ہاتھ میں تھما دیتا ہے، میں تھکے تھکے سے انداز میں اس کی خیریت دریافت کرتا ہوں وہ ایک مدہم مسکراہٹ کے ساتھ ٹھیک ہوں کہہ کر جلدی جلدی میں اپنی چیزوں جو کہ سفر میں کام آتے ہیں کے سمیٹنے میں لگ جاتا ہے, میں دل ہی دل میں اچھا محسوس نہیں کرتا،اس رویے کو نظراندازی کا رویہ سمجھتا ہوں پھر خود ہی خود کو تسلی دے دیتا ہوں کہ جلدی میں ہے، یہ نوجوان میرے لیے انجان نہیں ہے جو آنکھوں کے سوالات کو پڑھ سکے وہ انجان نہیں ہو سکتا، ابھی کوئی ایک سال پہلے جب وطن کی خاک تیز گامی کی وجہ سے جوتوں سے اڑ اڑ کرخاکی دستار کے رنگ کو مزیدخاک زدہ بنا رہا تھا تو یہی نوجوان ہمارا راہ بلد تھا، اوراسی رات جب چاندنی پورے آب و تاب کے ساتھ پہاڑی راستوں کو روشن کر کے کسی شاعر سے کچھ کہنے، لکھنے اور گنگنانے کا شدت سے تقاضا کررہی تھی تو اسی نوجوان کی رہبری میں ہم چار دوست دوسرے پیدل جانے والے دوستوں کی بنسبت کچھ دیر کے لیے موٹر سائیکل کی سواری کا مزہ اٹھاتے رہے، ایک دو گھنٹے کی ایسی سفر کا لطف وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جس نے اگست کے مہینے میں مختلف پہاڑی جڑی بوٹیوں کی خوشبو بسی خنک ہواؤں کے لمس کو اپنے چہرے پر محسوس کیا ہو، ایسی حالت میں چودھویں کا چاند اس مخمور کیفیت کو دو آتشہ کردیتا ہے، ایسا موسم ایسی کیفیت اور ایسے لمحے کتنے انمول ہیں،
یہ ایک سال پہلے کی یادیں ہیں اس سے بھی پانچ سال پہلے میں ایک مواصلاتی رابطے کے ذریعے حکم وصول کرتا ہوں کہ ایک دوست جو کچھ روز پہلے ظلمتوں اور اندھیروں میں چند مہینے گزار کر خوش قسمتی سے روشنیوں میں واپس آیا ہے، قلی کیمپ اور زندان جو بلوچوں کی آواز ءآزادی کو خاموش کرنے کا بدنام زمانہ زریعہ گردانے جاتے ہیں انھیں اندھیری گلیوں سے یہ ثابت قدم نکلا ہے اس سے رابطہ کر کےاسے ساتھیوں کے پاس پہنچا دو میں اپنے دل میں شک وسوسے محسوس کرنے کے باوجود حکم بجا لاتا ہوں اور اس نوجوان سے ایک طے شدہ مقام پر ملاقات ہوتی ہے میری ذہنی کیفیت ایسی ہے کہ میں نے اس نوجوان سے ملاقات سے پہلے اس کے حوالے سے کچھ خودساختہ شکوک و شبہات پال رکھے ہیں اس لیے دوران ملاقات میرے سوالات کے جواب میں وہ اپنے زندان کی کہانی کوگرچہ لفظ بہ لفظ سناتے ہیں لیکن میں مطمئن نہیں ہو پاتا، میرے ذہنی کیفیت پر میرے منفی سوچ کے اثرات ہیں بعض لوگ اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو رکھنے میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو شخص بینی کے ہنر میں یکتا سمجھنے والے کی غرور کو خاک میں ملا دیتے ہیں، دوسرے دن میں غیر مطمئن انداز میں اسکو ساتھیوں کے پاس پہنچا دیتا ہوں، اگر میں اس کے ساتھ اپنے رویے کو انتہائی دوستانہ کہوں تو یہ مبالغہ آرائی ہوگی،،
اس پہلی ملاقات کے بعد پھرکہی روز شب ہر طرح کے موسموں میں ہم ایک ساتھ ہوتے ہیں اس نوجوان کی وہی مہارت ہے اسکے چہرے سے اندر کے کیفیت اور اتارچڑھاو کو پڑھنا ممکن نہیں، وہی مدہم مسکراہٹ اسکی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرکے وہ ہمیں ہر ہنر پر یکتا، راست اور برحق ہونے کے زعم میں مبتلا کردیتا ہے وقت گزرتا رہتا ہے اور درمیان میں ایک سال کی جدائی کے بعد پھر ہماری ملاقات دس پندرہ منٹ کیلئے وہیں پہ ہوجاتی ہے جسکا ذکر میں نے پہلے کیا،
یہ علی ہے کاکا ہے سلیمان ہے جسکی شہادت سے چند لمحے پہلے خاکء وطن پر نظریں جمائے گہری سوچ میں گم زخموں سے چور لہو میں تر بتر والی تصویر میرے سامنے ہے کچھ دیر میں وہ شہادت کو گلے لگا کر مٹی کی چادر اوڑھ کر سونے والا ہے گہری نیند،،علی ۔۔۔۔۔۔
تحریر : عالیان یوسف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غالباً چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ اپنے وطن کی مٹی کی مقدس خاک چھانتے ہوئے کبھی یہاں پڑاؤ اور کبھی وہاں مسکن بنانے کے جاری سفر میں ہیں لشکرء خاک نشینان کے دسیوں ہمراہ بھی ہم سفر ہیں، ہم جس علاقے میں محو سفر ہیں ہم سب کیلئے یہ پہاڑ اور رہگزر اجنبی ہیں سوائے اپنی مٹی کی خوشبو کے، وہ خوشبو جس سے صدیوں کا رشتہ ہے اسی رشتے اور مہروان تعلق نے ہم سے پہلے کہیوں کو اس سفر کو جاری رکھنے کا درس دیا اور آج یہ سفر ہمارے ناتواں کندھوں پہ ہے، وطن اپنا پہاڑ اپنے لوگ اپنے، لیکن ہم ناشناسا ہیں، یہ لوگ یہ بلوچ یہ پاوال جنکی شناخت کو بچانے اور اپنی ملکیت پر راج کرنے کے احساس دلانے کا ہم نے بار گراں اٹھایا ہے اپنی زند میں مگن ہیں،
راستے اجنبی ہوں تو تصورات وتخیلات بہترین ساتھی ثابت ہوتے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ نئے راستوں پر گامزن ہونا نہی ابتداء ہےاپنے مقصد و منزل کو پانے کے لئے ، ایک آزاد وطن میں اپنی شناخت، ملکیت، ثقافت، زبان کے ساتھ خود داری سے جینے کا مقصد، جسے ہم نے اپنی نا اہلی سے ماضی میں کھو دیا ہے، تصورات مجھے ماضی کے دریچوں میں سیر کروانے لے چلتے ہیں میں سیر کا لطف اٹھاتا ہوں واپس حال میں لانے والی آواز ایک گونج ہوتی ہے ایک بلوچ چرواہے کی جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر سے دور کسی دوسری پہاڑی پربکری چرانے والے دوست سے کوکار میں ہم کلام ہوتا ہے،
تین دن اوردو راتوں کے سفر کے بعد کچھ اور اپنے جیسے خاک نشینوں سے سرراہ ملاقات ہوتی ہیں،،،،،،،،،،.
میری نظریں ان نہے آنے والے ساتھیوں کے چہروں پہ مرکوز ہیں، کوشش کرتا ہوں کہ چہروں پر جمی گرد کے نیچے پڑے جھریوں میں گزرے وقتوں کے'کم' آسودگی اور زیادہ مشکلات کا مشاہدہ کر سکوں ان ساتھیوں سے ملاقات کی مختلف اوقات ومقام ہیں، کسی سے آٹھ سال بعد اور کسی سے کچھ کم وقتوں بعد ملاقات ہورہی ہے، جسطرح میں نے کہا کہ ملاقات سرراہ ہورہی ہے تو کھڑے کھڑے بلوچی حال احوال ہوتی ہے عرصوں کے تکالیف، مشکلات و نقصانات کو دس پندرہ منٹ میں سمیٹا نہیں جا سکتا، مل رہے ہیں پھر سے جدا ہونے کیلئے، حالات کچھ ایسے ہیں کہ زیادہ دیر یہاں کھڑے رہ کر بات نہیں ہوسکتی، میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں کہ کسی ساتھی سے پانی کا بوتل مانگ لوں اور پیاس بجھاؤں، چھوٹے قد گندمی رنگت کا ایک جوان جسکے ہاتھ میں پانی کی بوتل ہے میرے آنکھوں میں پیاسے سوال کو پڑھ لیتا ہے اور آگے بڑھ کر پانی کی بوتل میرے ہاتھ میں تھما دیتا ہے، میں تھکے تھکے سے انداز میں اس کی خیریت دریافت کرتا ہوں وہ ایک مدہم مسکراہٹ کے ساتھ ٹھیک ہوں کہہ کر جلدی جلدی میں اپنی چیزوں جو کہ سفر میں کام آتے ہیں کے سمیٹنے میں لگ جاتا ہے, میں دل ہی دل میں اچھا محسوس نہیں کرتا،اس رویے کو نظراندازی کا رویہ سمجھتا ہوں پھر خود ہی خود کو تسلی دے دیتا ہوں کہ جلدی میں ہے، یہ نوجوان میرے لیے انجان نہیں ہے جو آنکھوں کے سوالات کو پڑھ سکے وہ انجان نہیں ہو سکتا، ابھی کوئی ایک سال پہلے جب وطن کی خاک تیز گامی کی وجہ سے جوتوں سے اڑ اڑ کرخاکی دستار کے رنگ کو مزیدخاک زدہ بنا رہا تھا تو یہی نوجوان ہمارا راہ بلد تھا، اوراسی رات جب چاندنی پورے آب و تاب کے ساتھ پہاڑی راستوں کو روشن کر کے کسی شاعر سے کچھ کہنے، لکھنے اور گنگنانے کا شدت سے تقاضا کررہی تھی تو اسی نوجوان کی رہبری میں ہم چار دوست دوسرے پیدل جانے والے دوستوں کی بنسبت کچھ دیر کے لیے موٹر سائیکل کی سواری کا مزہ اٹھاتے رہے، ایک دو گھنٹے کی ایسی سفر کا لطف وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جس نے اگست کے مہینے میں مختلف پہاڑی جڑی بوٹیوں کی خوشبو بسی خنک ہواؤں کے لمس کو اپنے چہرے پر محسوس کیا ہو، ایسی حالت میں چودھویں کا چاند اس مخمور کیفیت کو دو آتشہ کردیتا ہے، ایسا موسم ایسی کیفیت اور ایسے لمحے کتنے انمول ہیں،
یہ ایک سال پہلے کی یادیں ہیں اس سے بھی پانچ سال پہلے میں ایک مواصلاتی رابطے کے ذریعے حکم وصول کرتا ہوں کہ ایک دوست جو کچھ روز پہلے ظلمتوں اور اندھیروں میں چند مہینے گزار کر خوش قسمتی سے روشنیوں میں واپس آیا ہے، قلی کیمپ اور زندان جو بلوچوں کی آواز ءآزادی کو خاموش کرنے کا بدنام زمانہ زریعہ گردانے جاتے ہیں انھیں اندھیری گلیوں سے یہ ثابت قدم نکلا ہے اس سے رابطہ کر کےاسے ساتھیوں کے پاس پہنچا دو میں اپنے دل میں شک وسوسے محسوس کرنے کے باوجود حکم بجا لاتا ہوں اور اس نوجوان سے ایک طے شدہ مقام پر ملاقات ہوتی ہے میری ذہنی کیفیت ایسی ہے کہ میں نے اس نوجوان سے ملاقات سے پہلے اس کے حوالے سے کچھ خودساختہ شکوک و شبہات پال رکھے ہیں اس لیے دوران ملاقات میرے سوالات کے جواب میں وہ اپنے زندان کی کہانی کوگرچہ لفظ بہ لفظ سناتے ہیں لیکن میں مطمئن نہیں ہو پاتا، میرے ذہنی کیفیت پر میرے منفی سوچ کے اثرات ہیں بعض لوگ اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو رکھنے میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو شخص بینی کے ہنر میں یکتا سمجھنے والے کی غرور کو خاک میں ملا دیتے ہیں، دوسرے دن میں غیر مطمئن انداز میں اسکو ساتھیوں کے پاس پہنچا دیتا ہوں، اگر میں اس کے ساتھ اپنے رویے کو انتہائی دوستانہ کہوں تو یہ مبالغہ آرائی ہوگی،،
اس پہلی ملاقات کے بعد پھرکہی روز شب ہر طرح کے موسموں میں ہم ایک ساتھ ہوتے ہیں اس نوجوان کی وہی مہارت ہے اسکے چہرے سے اندر کے کیفیت اور اتارچڑھاو کو پڑھنا ممکن نہیں، وہی مدہم مسکراہٹ اسکی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرکے وہ ہمیں ہر ہنر پر یکتا، راست اور برحق ہونے کے زعم میں مبتلا کردیتا ہے وقت گزرتا رہتا ہے اور درمیان میں ایک سال کی جدائی کے بعد پھر ہماری ملاقات دس پندرہ منٹ کیلئے وہیں پہ ہوجاتی ہے جسکا ذکر میں نے پہلے کیا،
یہ علی ہے کاکا ہے سلیمان ہے جسکی شہادت سے چند لمحے پہلے خاکء وطن پر نظریں جمائے گہری سوچ میں گم زخموں سے چور لہو میں تر بتر والی تصویر میرے سامنے ہے کچھ دیر میں وہ شہادت کو گلے لگا کر مٹی کی چادر اوڑھ کر سونے والا ہے گہری نیند،،

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل