شہداء کی بیش بہا جدوجہد تحریک آزادی کے لئے سر مایہ افتخار ہے جو قومیں اپنی شہدا کے قربانیوں کو بھول جاتے ہیں ان کا نام و نشان مٹ جاتاہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ


شہداء کی بیش بہا جدوجہد تحریک آزادی کے لئے سر مایہ افتخار ہے جو قومیں اپنی شہدا کے قربانیوں کو بھول جاتے ہیں ان کا نام و نشان مٹ جاتاہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

10 جنوری2017
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہید گل بہار شہیدصوب دار بلوچ شہید واحد بلوچ شہیداحمد داد بلوچ اور شہید نصیر کمالان کو قومی آزادی کے حصول کے لئے بے لوث اور رضاکارانہ جدوجہداورشہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی بیش بہا جدوجہد تحریک آزادی کے لئے سر مایہ افتخار ہے جو قومیں اپنی شہدا کے قربانیوں کو بھول جاتے ہیں ان کا نام و نشان مٹ جاتاہے جو قومیں اپنی شہدا ء کے خون کو تسلسل دیتے ہیں وہ اپنی منزل حاصل کرتے ہین ترجمان نے کہاکہ شہداء کو یاد کرنا آزادی کی قدر قیمت کو دہرانا ہے کہ آزادی کا حصول آسان نہیں قدم قدم پر تکالیف اور قربانیوں کے بحر کو عبور کرنا پڑتا ہے بلوچ تاریخ قربانیوں کے حوالہ سے بانجھ اور بنجر نہیں زرخیز ہے یہ شہداء کی جدوجہداور قربانیوں کی تاریخ ہے ترجمان نے کہاہے کہ ڈیرہ بگٹی نصیر آبادمیں ریاستی جارحیت نہتے بلوچ فرزندوں کا قتل عام اور بلوچ خواتین کا اغواء انسانی حقوق کی بدترین پائمالی ہے انسانی حقوق اور امن و انصاف کے دعویدار قوتین نہتے بلوچ فرزندوں کی شہادتوں خواتین کی اغواء اور بلوچستان میں جارحیت پر خاموش ہے انسانی حقوق کے دفاع میں بولنے والوں کی بلوچستان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر خاموشی المیہ ہے انسانی حقوق بدترین صورتحال کا آج بلوچ قوم کو سامناہے دنیا کے کئی اقوام کو اس صورتحال سے گزرنا پڑا ہے وہاں اقوام متحدہ اورانسانی حقوق علمبردار ممالک ان اقوام کی مدد کرتے ہوئے ان قوموں کو اس طرح کی صورتحال سے نجات میں مدد کی اور آج بلوچ قوم بھی عالمی اداروں سے اس قسم کی توقع اور امید رکھتے ہوئے امید کرتی ہے کہ عالمی برادری اپنی مفادات کی حد بندیوں سے آگے بڑھ کر بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کرکروڑون بلوچوں کے سیاسی و قومی مستقبل کا تعین کرنے میں بلوچ عوام کا آواز بنیں بلوچ مسئلہ علیحدگی یا کسی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ بلوچ قومی مسئلہ آزادی کا ہے ترجمان نے کہاکہ شہداء کی جدوجہد بلوچ قوم کے لئے علم مشعل اور روشنی ہے انہوں نے قربانی کے فلسفہ کو اپنی خون سے ایندھن دیکر جدوجہد کی شاندار روایت کو زندہ رکھتے ہوئے بلوچ سماج سے موقع پرستی مصلحت پرستی کے بیخ کنی کرتے ہوئے بلوچ قوم میں آزادی کے لئے بیداری اور شعور پیدا کی ۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل