بی ایل ایف نے فورسز قافلے حملہ و ریاستی مخبر اظہر کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مختلف واقعات کی ذمہ  داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کے روزسرمچاروں نے کیچ کے تحصیل بلیدہ میں  زیردان کے مقام پر پاکستانی فوج کے قافلے پر راکٹوں، خود کارو بھاری  ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ قافلے  میں شامل سترہ گاڑیوں میں دو فوجی گاڑیوں کوراکٹوں کا نشانہ بن کر بری طرح  نقصان پہنچایا ہے۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ تمپ سے ریاستی مخبر اظہر ولد چاکر  کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ، تفتیش اور اقبال جرم کے بعد موت کی سزا دیدی ہے۔  اُس نے اعتراف کیا ہے کہ مجھے ہوتمان نے ایم آئی میں بھرتی کرایا۔اس نے  کئی آپریشنوں میں قابض ریاست کی رہنمائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جمیگ  میں آپریشن کیلئے فوجی بکتر بند گاڑی نے مجھے گھر سے ساتھ لیااور واپسی پر  گھر کے پیچھے اُتارا۔ جس کیلئے مجھے اور میرے ساتھی کو تربت میں ہوتمان نے  ایک لاکھ روپے دیئے۔ کوہاڑ میں محمد بلوچ کے گھر آپریشن کرایا۔ کوہاڑ ہی  میں آزادی پسند تنظیم کے کارکن کے گھر میں آپریشن کرایا۔ ریاستی مخبر نے  اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جس کے لئے تربت میں صوبیدار اکبر نے مجھے پچاس  ہزار روپے دیئے۔ اکبر نے میری نیٹ ورک کو تمپ پل آباد میں آزادی پسندوں کی  مخبری کیلئے ایک لاکھ روپے دیئے ہیں۔ اُس نے اعتراف کیا کہ ایک اور بلوچ کو  گرفتار کرانے پر مجھے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ان کے علاوہ دوسرے  اعترافات بھی کئے ہیں اور اپنے نیٹ ورک میں شامل ساتھیوں کے نام بتائے ہیں۔  ہم انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان انسانیت دشمن کرتوتوں سے باز آکر  پاکستان جیسے غیر فطری ملک، جو بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے کا ساتھ نہ دیں۔  بصور ت دیگر انہیں بھی یہی سزا دی جائیگی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل