کمانڈر بابا درویش کو سرخ سلام،پاکستان دہشت گردی پھیلانے کا اہم کردار ہے، بی ایل ایف


کوئٹہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان  میں پاکستانی فوج کی غیرانسانی افعال دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی  ہونی چاہئیں۔ پاکستان دنیا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پیسے بٹور  کر دہشت گرد گروہوں کی آبیاری میں مصروف ہے۔ یہی دہشت گرد مذہب اوردوسرے  ناموں سے بلوچستان اور ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہیں۔  انہی گروہوں سے مل کر پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے زعمران میں چار دن  مسلسل بمباری کی اور زمینی فوج نے آپریشن کرکے کئی دکان، گھروں اور فصلات  کو جلایا۔ دس جنوری کو جاسوسی طیاروں کی پرواز کے بعد گیارہ جنوری کی صبح  سات بجے نو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے زعمران کے مختلف علاقوں میں شیلنگ کی۔ ان  میں چار کوبرا ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔ ان کا نشانہ دشتک ، ڈیلکک اور قرب  و جوار کے علاقے تھے۔ ہیلی کاپٹروں سے فوجی کمانڈوز بھی اُتارے گئے، جنہوں  نے بی ایل ایف کے ایک کیمپ کو گھیرنے کی کوشش کی۔ جس میں بی ایل ایف کے  کمانڈر محمدجان عرف بابا درویش نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو  گھیراؤ سے نکال کر خود جام شہادت نوش کی۔ ہم بابا درویش کو ان کی گران قدر  خدمات اور شہادت پر سرخ سلا م اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بابا درویش ایک  دہائی سے زائد عرصے سے بی ایل ایف سے وابستہ ہیں اور بلو چ قومی آزادی کی  جد وجہد میں دشمن پاکستان کی سامنے کئی محاذوں پر مادر وطن بلوچستان کی  دفاع کی ہے۔ اسی راہ میں شہید ہوکر ہمیشہ کیلئے سرخرو ہوگئے۔ انہوں نے  بالگتر، تمپ، مند، کولواہ اور زعمران سمیت کئی علاقوں میں بلوچ جہدکاروں کی  کمان کی ہے اور دشمن کی شکست دی ہے۔ آخری لمحے میں بھی انہوں نے دشمن کے  سامنے دیوار کھڑی کرکے اپنے کئی ساتھیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے۔  گہرام بلوچ نے کہا کہ دشمن قابض فوج نو ہیلی کاپٹروں اور ساٹھ سے زائد  گاڑیوں کے ساتھ بلوچ سرمچاروں پر حملہ آور ہوکر ناکامی کے بعد عام آبادیوں  کو نشانہ بنایا۔ جس میں بلوچ مزدوروں کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور دکانوں  کو جلا کر اپنی شکست کا غصہ نہتے شہریوں پر اُتارا، جو ہمیشہ سے اس غیر  فطری ملک کا وطیرہ رہا ہے۔ جو جنگی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ کل  سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں پاکستان آرمی کی بل نگور کیمپ پر  راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی  نقصان پہنچایا۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل