سنگت سلیمان.......... ...................... تحریر.. بیرگیر بلوچ


.. .. سنگت سلیمان..........
...................... تحریر.. بیرگیر بلوچ

ایک خواہش میں تھی سینکڑوں آندھیاں
پل میں بکھر گئی سب ہی

شروعات کہاں سے کروں اس غزل سے جس نے پل بھر میں سب کچھ ختم کردیا یا علی کاکا کے اس بچپن سے جو ہنستا مسکراتا اپنے ہم عمر دوستوں کو چڑاتے گزرا اسکے معصوم لہجے سے شروعات کروں جس میں ہنستے مسکراتے وہ اپنے بچپن کے باتیں سنایا کرتا تھا یا اسکے مسکراتے چہرے سے جس میں اطمنان ہی بکھرا ہوا تھا کبھی ملا نہیں تھا میں اس انسان سے مجھے نہیں معلوم کہاں سے شروعات کروں یا اس پہلے ملاقات سے جس سے پہلے وہ سلیمان تھا جسے بس اتنا جانتے تھے کہ ایک سنگت دشمن کے ٹارچر سیلون میں اذیتیں سہہ رہا ہے پورے ایک سال دشمن کے قید خانے میں ٹارچر سہتا رہا ٹارچر لکھنے سننے میں جتنا تکلیف دہ ہے اس سے تکلیف دہ اس میں کٹی ایک شام ہوتی ہے جس میں سلیمان ایک سال گزار کر اب آنے والا تھا. جو دشمن کے چنگل سے نکل کر گھر جانے سے پہلے ہی اپنے سنگتوں کو پہنچنا چاہا وہ چاہتا تو یہی تک رک جاتا اس نے دشمن کے زور کو دیکھا تھا اس نے ان کالی راتوں کو دیکھا تھا جہاں بس چیخ و پکار گونجتی ہیں اس نے دیواروں کو خون سے لت پت دیکھی تھی جو کسی کے لیے بھی موت کے منظر سے زیادہ دردناک ہوسکتا ہے اگر کے اسکے سینے میں سلیمان جیسا کلیجہ نہ ہو وہ اپنے ان دنوں کا زکر ایسے پرسکون لہجے میں کرتا اس کے لہجے سے ہی معلوم ہوتا کہ کن دشوار زندگی کو کس بہادری سے جیت کر آیا تھا وہ ہنس کر اپنے گرفتار ہونے کے واقعہ کو بیان کرتا تھا جس پر ہم اسکا مزاق اڑایا کرتے تھے
سلیمان علی یا کاکا یا پھر میرے یار کا تکیہ کلام اونداھی بس مسکراتے رہنا
کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو انتے کم عرصے میں اتنا مکمل کر دیکھائے خود کو کے ہر کام نا مکمل لگ جائے ایسوں کے سوا جو ہر کام میں آگے ہوا کرتے ہیں جن کے چہرے پر تھکان ٹکتی ہی نہیں تھی جن کے قہقہوں میں زندگی کے رنگ ملتے ہیں جن کے ساتھ میں لمحے موتی مانند ہوا کرتے ہیں. جو نہایت ہی خوش مزاج سنگتوں میں سنگت جیسا سنجیدہ ماحول میں غور کرنے والا اپنے فیصلے پر ڈٹ کر کھڑا رہنے والا. ہر مسئلہ پر دوستوں سے مشورہ کرنا اور پھر ان باتوں پر خوب سوچنا. کبھی کسی شئے کو کام و مقصد پے ترجیح نہ دی جب جس وقت تنظیم نے جو فیصلہ کیا اسکے ساتھ کھڑا رہا. میں نے کم عرصہ میں اسکو بہت قریب سے دیکھا تھا ہم کہیں بھی جاتے اکثر ساتھ میں رہتے سفر میں اکثر اسے کمک کار پایا مجلس میں اسے رونگ سجاتے دیکھا گھاٹ پر اسے زمہدار سپاہی بنتے دیکھا مشکل حالت میں بھی پرسکون پایا
بس ایک کمی تھی یا لحاظ تھا یہ سمجھ نا مشکل تھا اس سے ملنے تک مگر وہ بھی بس رہے ہی گیا
علی شروعات اس غزل سے کرتے ہیں جہاں جُگ( خیمہ ) میں بیٹے جگجیت سنگھ کے گانے سنا کرتے تھے جب مبائل میں غزلوں کے سیوا کچھ ہوا نہیں کرتا تھا

شام ہونے کو ہے...
لال سورج سمندر میں کھونے کو ہیں..........
مگر شام کبھی ہوتی ہی نہ تھی اور جگجیت کے گانے ساری رات بجتے رہتے اندھیرے میں دیوان لگا رہتا بس سنگت حئی کے آواز کے ساتھ آپ کا آواز قہقہہ لگاتے خیمے میں گونج تا رہتا اور دنیا جہاں کو سمٹ کر ہم اپنے گفتگو میں کھوئے رہتے. وہی خیمہ جسے سنگت حئی کے بعد کبھی دیکھا ہی نہیں شاید ان غضبناک یادوں کو مٹانے کے لیے اسے ہٹایا گیا یا کچھ اور میں جان نہ پایا مگر وہ راتیں وہ محفلیں رات بھر کا یہی سلسلہ صبح پھر شروع ہوتا اور زندگی آپ جیسے یاروں کے بیچ ہر تلخی، مشکل، کھٹن، حالت میں بھی پرسکون ہوا کرتا تھا کبھی لکڑیاں چننے پانی بھرنے یا نہانے جاتے یا کسی خیمے کی مرمت کرتے وقت ہر لمحہ غزل ایک کے بعد ایک کرکے چلا کرتے تھے اور باتوں کا سلسلہ چلتا رہتا. اس پیج ہر لفظ کو گنگا کر اس میں کھو جانا اس میں خود کو تلاش کرنا نہ جانے کہاں لیجاتا تھا آپ کو کبھی جان نہیں سکا کسی لیلا کے عشق میں مبتلا آپ نہ تھے مگر پھر بھی ان الفاظون میں کہیں کھو جاتے تھے. ان لفظوں میں کیا ڈھونڈتے تھے آپ اور ہم معلوم نہیں پر آج اور آج کے بعد ان لفظوں میں مجھے تیرا ہی تلاش رہے گا تلاش ایسی نہیں جو کھو گئے ہو
تم تو آج بھی ہو میرے ہم کوپہ ہم قدم گدان کے اردگرد پارود کے ہر پہلو میں رات کی سرد تھرتھراہتی گاٹھ پے مورچہ زن صبح سورج کے کرنوں کے ساتھ شام ہوتے ہوتے چوٹی پر غزلیں سنتے ہوئے تم آج بھی ہو مسکراتے پرسکون چہرے کے ساتھ میرے پہلو میں بیٹھے ہوئے جیسے خیمہ میں ساتھ تھے حئی کے ساتھ ہر لمحہ تم ساتھ تھے اس آخری ملاقات کے وقت اسکے بعد اس آخری فون تک جس میں گلہ تھا آپ سے کے مجھ سے نہ ملنے آئے نہ ہی مجھے وہاں بلا سکے. بس آپ کا ایک ہی جواب تھا سنگت تنظیم نے مجھے کہیں اور بھیجا ہم پھر ملینگے ضرور مگر آپ پھر کبھی ملے ہی نہیں. امید بس امید ہی رہی مگر تم پھر بھی ساتھ ہو
تمارے کہنے پہ غزلوں کا ایک فولڈر بناکے رکھا تھا جو تم نے کہا تھا. اب اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑ گئی ہے اب یہی رہے گئے تمارے یادیں میرے لیے.
بس یہی یادیں ہی ہے انکے سوا اور کچھ نہ میری بساط ہے آپ کے لیے وہ الفاظ پیدا کرنے کی اور نہ ہی میں لفظوں کے اس لڑی کو سمجھ سکتا ہوں جو آپ کے شان میں مکمل اتر جائے جو میں محسوس کر رہا ہوں وہ گر لکھنا آتا تو کیا ہی بات تھی میں گر تمہیں لفظوں سے کاغز پہ اتار سکتا تو اداس کاغذ بھی آپ کے مسکراہٹ کے ساتھ مسکرا پڑتا قلم کی نوک اس تھکان کو لکھتے لکھتے تھک جاتا جو مسلسل رات بھر چلنے سے چور آرام کرنے کو تھوڑی دیر بیٹ جاتا مگر حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹتا.
مجھے یاد ہے وہ سفر جب 18 گھنٹے مسلسل پیدل چلنے کے بعد رات قریب دو ڈھائی بجے ایک جگہ عارضی سکون کے لیے بیٹھے تو آپ میرے زانوں پے سر رکھ کر ہنستے ہوئے کہنے لگے. چی گویرا کہتے ہیں کہ گوریلا کو ہر 6 گھنٹے سفر کے بعد آرام کرنا چاہئے مگر ہماری حالت یہ ہے کہ 6 گھنٹہ بھی نہیں مل رہے آرام کرنے کو سفر جاری تھا آپ بھی جانتے تھے ہم بھی سفر پھر شروع ہوا تب نیند کا ایسا غلبہ تھا کے سیدھے راستے سے بھی چلتے چلتے آنکھ بند ہوجاتی اور راستے سے بھٹک جاتے تھکن تھا نیند تھی بے آرامی تھی مگر شکایت نہیں تھا گلہ نہیں تھا ہار تھی ہی نہیں چلنا ہے تو بس چلتے ہی رہتے کبھی کسی بات پر کسی سے لہجہ تلخ نہیں ہوا بس کوہی ان غزلوں کو ڈلیٹ نہ کردیا ہوتا.
انسان کو جاننے کے لیے سفر گر لازمی ہے تو یہ بھی ہوا تھا سنگت سلیمان کے ساتھ چالیس دن کا وہ سفر جس میں کچھ اور سنگت ساتھ تھے کہیں مشکلوں سے گزرے کہیں نئے لوگ تھے کہیں نئے راستے مگر سلیمان و سنگت حئی جیسے دوستوں کے ساتھ قلات کے وہ سنگلاخ چٹانیں وہ سفر کی تھکان وہ مشکل حالات کبھی حاوی ہو ہی نہ سکے ان چالیس دنوں میں مسلسل چلنا ہی تھا تھکان بھی تھی پیر سوجھ گئے تھے مگر آپ کے چہرے سے مسکان گئی نہیں تھی. سفر بہت سارے ہوئے لمبی سفر تھی مگر رات بھر زہری مولہ کے نہر میں جلتے رہنا بڑا دشوار گزار تھا پانی میں گھٹنوں تک اتر کر چلنا تھا سفر رات میں ہر ایک کے پھسل کر گرنے پر رکنے کا موقع پاتے اور اسکا مزاق اڑاتے اور پھر تھوڑی سفر اسی ہنسی میں کٹ جاتی رات جب چاند پہاڑی کی چوٹی سے نکل کر نہر میں روشنی پھیلاتی رہی تب سفر کچھ آسان لگنے لگا. آج بھی چاند نکلتا ہے وہ نہر آج بھی اسی آب و تاب سے بہتی ہوگی مگر آج اس میں وہ سکون نہیں جو مسلسل چلنے کے باوجود آپ جیسے دوستوں کے ساتھ پرسکون ہوا کرتا تھا. میری گھٹ کے پہلو میں وہ گدان آج بھی آباد ہوگا مگر آپ جیسے مسافر اسے صدیوں تک نہیں ملینگے
رات کو کتنے ہی دیر پڑاو ڈالتے سلیمان صبح سورج کے ساتھ ہی جاگ جاتا میں بذات خود اسکے اس عادت سے حیران تھا جہاں نیند ایسی گھیری آتی تھکاوٹ کے وجہ سے وہی سورج کے پہلی کرن کے ساتھ سلیمان جاگ جاتا تھا. اسے سورج کے کسی کِرن کا انتظار تھا یا سورج کی روشنی میں نیند کی عادت نہیں تھی میں نہیں جان سکا مگر وہ سویرے ہی جاگ جاتا اور خود کام میں لگ جاتا چائے بناتا یا سفر پہ تیار ہونے کے لیے سامان باندھتا ہم میں سب سے پہلے تیار رہتا چالیس دن کے پل پل کی یادیں تازہ ہوتے جا رہے ہیں مگر بیان کرنے والے الفاظ نہیں اور نہ ہی اتنا بڑا لکھاری ہوں.
بس وہ اتار نا چاہ رہا ہوں جو کل سے فیسبک کھولنے نہیں دے رہا تمہیں مسکراتے ہوئے الوداع کیا تھا تم اب بھی مسکرا کے ملے مجھے نہیں معلوم کیا لکھوں مجھے شروعات ہی نہیں مل رہی میرے الفاظوں سے پہلے بہت پہلے شروعات کیا تھا آپ نے اس ہجوم سے جس میں نارے گونجتے تھے.... آزاد بلوچستان زندہ باد.. اس موڑ سے جہاں سے آپ نے زندان کے بعد رخ گھر کے بجائے کیمپ کے طرف موڑا تھا. اس فیصلے سے جہاں آپ کا ساتھی سفر کو الوداع کرکے آسائشوں بھری زندگی کے تلاش میں نکلا تھا اور آپ تن تنہا واپس اس سفر کے جانب نکل کر اپنے مقام کو پہنچ گئے
آپ اپنے قول پہ ڈٹے رہے ہر سنگت یہی کرتا آرہا ہے ہر ایک اپنے مقصد کے اس آخری سیڑھی کو مسکراتے گزار رہا ہے جہاں سے پھولوں کی یہ خوشبو ہر گرفت سے نکل کر چاروں سمت پھیل رہی ہے. جو آنے والے کہیں نسلوں تک محسوس کیا جائے گا خضدار سے لیکر باغبانہ زہری پارود کے ہر چوٹی پر آپ کے قدموں کے نشان آپ کے ہونے کا ثبوت دینگے.
میں بزات خود اس آخری فون کال تک کا گواہ ہوں کہ آپ کبھی اپنے سوچ اپنے فیصلے سے مایوس یا شکایت تک نہیں رکھتے تھے گھنٹو فون پر باتیں کرتے رہتے تھے. مگر ہمیشہ کے طرح بس مزاق ہی کیا کرتے تھے. کبھی کسی سے گلا نہیں رہا ہاں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوا کرتی تھی پر وہ نہ آپ پر حاوی تھے نہ مجھ پر آپ درگزر کرنے کا ہنر جانتے تھے
علی کہاں سے شروعات کروں وہاں جہاں جگ کے کسی کونے آپ حئی بیٹے کسی ریڈیو یا ڈیوائس کو ٹھیک کرنے میں لگے رہتے یا وہاں سے جب آپ عرفان ایک نہے بات میں الجھے جُگ میں مستیاں کرتے نظر آتے یا اس مسکراتے لمحے سے جب کسی سنگت کو چھیڑتے ہوئے قہقہے لگاتےیا اس لمحے سے جہاں سنجیدہ محفل کو انتہائی غور سے سنتے اور کسی بھی کام کے لیے پہلے سے تیار رہتے مشکل کام مخلص کے زمہ آتا ہے یہ سنا تھا پر آپ کو دیکھ کر یہ بات ثابت ہو گیا تھا.

یا وہاں سے شروع کروں جہاں سے تم نے اب جاکے شروع کردیا یہاں سے دور ایک الگ جہاں میں جہاں امیر، حق نواز، شکور، امتیاز، عرفان، جاوید، حئی، اور کہی سنگتوں سے ملکر ایک نئی دنیا نئ محفل نیا جہاں بسا گئے ہو وہ منزل اسکا راستہ اس پہ چلنے والے اور بھی ہونگے وہاں تک آنے والے وہی کبھی آکر ملاقات ہوجائے گی یہ راستہ ہی ایسا ہیں جس پر لہو کے نشان تازہ رکھنے پڑتے ہیں یہ فلسفہ تم نے پا لیا اور اس میں کامیاب ہوگئے
معلوم نہیں موت آنے کی اصل عمر کیا ہونی چاہیے مگر آپ جیسے دوستوں کا اس قدر ایک ایک کرکے چلے جانے سے جو خلا پیدا ہوجاتی ہے وہ کسی بھی حسین لمحے سے مٹائے نہیں جاتے آپ کا بدل آجوئی ہیں ایک قوم کی آسودگی ہماری پہچان ہمارے نسلوں کو غلامی سے آزادی مگر کیا اسکے بعد مل پاوگے؟؟
تم آج بھی دور ہوکر دور نہیں ہو بس وہ مسکان وہ باتیں وہ معصوم چہرہ اب تصویروں و یادوں میں ملینگے جو میرے زیست کا سامان ہونگے جن میں میرا سلیمان میرے ساتھ غزل سنتا ہوا گنگناتا رہے گا
وہ ملاقات جس میں تمہیں آنا تھا
اب مجھے آنا ہوگا قدموں کی سمت اسی جانب ہے ملنا تو ہوگا.

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل