پاکستانی فوج بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیوں میں مصروف ہے،بی آر پی

کوئٹہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے بلیدہ، زمران  سمیت کیچ اور آواران میں جاری فوجی آپریشنوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے  کہ پاکستانی فوج نے کیچ کے علاقے زامران میں پچھلے چار دنوں سے آپریشن کے  دوران سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہے۔ ترجمان نے کہا  کہ آج فورسز نے بلیدہ کے علاقے الندور میں گھر گھر تلاشی کے دوران کاشتکار  طبقے سمیت متعدد بلوچ فرزندوں کو اغوا کے بعد لاپتہ کردیا ہے لاپتہ ہونے  والوں میں صدام بلوچ، ملا عبدل خالق بلوچ، امین جان، خدا بخش جبکہ تین دیگر  کاشتکار بھی شامل ہے جبکہ ایک پندرہ سالہ نوجوان اسد ولد محمد بلوچ کو  فائرنگ کر کے شہید کردیا۔ اسد بولنے کی صلاحیت سے محروم تھا جسے فورسز کے  اہلکاروں نے بے دردی سے فائرنگ کر کے شہید کردیا جبکہ عبدل کریم بلوچ کے  گھر سمیت درجنوں گھروں کو بھی پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے نظر آتش کردیا  ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی سے لیکر گوادر تک  کونے کونے میں پاکستانی افواج نے اپنے کاروائیوں میں اضافہ کردیا ہے جو  بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ان کے سرزمین اور وسائل پر قبضہ کرنے کے  پنجابی منصوبہ ہے مگر ایسے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی اب  ہونگے۔ شیر محمد بگٹی نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی افواج کی  جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہے اس بارے میں ہم نے  ہیومن راٹس کمیشن آف پاکستان کے چیرپرسن محترمہ زہرہ یوسف سے بھی بات کی  اور ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد سے خواتین کے اغوا کے بارے میں تفصیلی رپورٹ  بھی ان کو فراہم کی مگر تاحال ان کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا جو بالکل  افسوس ناک ہے۔ ترجمان نے عالمی انسانی حقوق کے ادروں بشمول اقوام متحدہ سے  اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں اور  جنگی جرائم کو روکنے کیلئے اقدامات کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل