بی ایل ایف نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ  بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مختلف حملوں کی  ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ پیر کے روزضلع پنجگور کے علاقے گچک میں  نایاب پرندے تلور کی شکار کرنے والی متحدہ عرب امارات دبئی کے عرب شیوخ کی  سیکورٹی پرسرمچاروں نے حملہ کیا، جس سے سیکورٹی پسپا اور شیوخ کی گاڑیوں کو  نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے شیوخ کو قدیم آپسی تعلقات اورروایات کی بنیاد پر  چھوڑ دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ قابض پاکستان سے بلوچستان میں شکار  کیلئے کوئی بھی علاقہ لیز کے طور پر نہیں لیں گے، کیونکہ یہ ایک مقبوضہ  علاقہ ہے اور بلوچ اس قبضے کے خلاف سات دہائیوں سے مزاحمت کررہے ہیں۔  پنجگور گچک میں سرمچاروں نے تنبیہہ کے بعد عرب شیوخ کو چھوڑ دیا۔ گہرام  بلوچ نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی ہوشاب اور کولواہ حملوں کے بعد عرب شیوخ کو  خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستان کے کسی دھوکہ میں نہ آئیں ۔ کیونکہ مقبوضہ  بلوچستان حالت جنگ میں ہے اور بلوچ قوم پر غیر انسانی بربریت اور مظالم  ڈھائی جارہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان پر بھروسہ کرنا اور شکار جیسی تفریح  کرنا غیر انسانی ، غیر جمہوری فعل ہے۔ عرب دنیا کو بلوچستان اور بلوچ قوم  کے ساتھ قدیم تعلقات کی بناپر بلوچوں پر ہونے والی مظالم پر پاکستان کے  خلاف نہ صرف آواز بلند کرنی چاہئے بلکہ عملاََبلوچ قوم کی مدد کی جائی۔  گہرام بلوچ نے کہا کل شام کیچ کے علاقے شاپک میں بارگ کوہ پر قائم آرمی چیک  پوسٹ اور مورچوں پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے بھاری جانی و  مالی نقصان پہنچایا۔ آج مشکے میں میانی قلات کے رہائشی ریاستی مخبر محمد  حسن عرف حسو کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ وہ بلوچوں کے خلاف ریاستی ظلم و تشدد  میں پاکستانی فوج کے ساتھ تھا۔ کئی دفعہ سمجھانے اور تنبیہہ کے باوجود وہ  اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے ۔ ایسے لوگوں کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ وہ  پاکستانی چالوں میں آکر بلوچ قوم کے خلاف آلہ کار نہ بنیں۔ یہ پاکستان کی  سازش ہے کہ وہ بلوچ کے ہاتھوں بلوچ کا خون کروائے۔ اور ہم قومی آزادی کی  راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی شخص کو معاف نہیں کریں گے ۔ اُس کا تعلق  چاہے کسی بھی قوم و ذات سے ہو۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل