حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کشت و خون بدستور جاری ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

لندن  بلوچ قومی رہنما اور قائد بلوچ ریپبلکن پارٹی نواب براہمدغ بگٹی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹریوں میں کہا ہے کہ جب بھی کوئی نیا جنرل یا حکومتی نمائدہ آیا ہے وہ یہی کہتا رہا ہے کہ عوام نے آزادی پسندوں کو مسترد کردیا ہے اور عوام ان کے ساتھ ہے مزاکرات اور بات چیت کے حوالے سوال پر ان کا کہنا تھا بلوچستان بھر میں آپریشن اسی طرح جاری ہے مسخ شدہ لاشوں کا ملنا بھی جاری ہے بلکہ ان میں مزید تیزی لائی جارہی ہے انھونے مزید کہا کہ جنرل مشرف کے جانے اور کیانی کے آنے پر بھی بلکل اسی طرح کی باتیں کی گئی کہ تبدیلی آئی ہے مائینڈ سیٹ چینج ہوا ہے اب شاید حالات ٹھیک ہونگے مگر اس کے بعد آپریشن میں تیزی لائی گئی اور کشت وخون میں بھی اضافہ کیا گیا پہلے لوگوں کو پکڑ کر ٹارچر کر کے چھوڑ دیتے تھے پھر ان کو مار کر ان کی لاشوں کو مسخ کر کے پھکنا شروع کیا جو اب تک جاری ہے ایک سوال کے جواب میں بلوچ رہنما کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی لوگ ہے اور سیاسی طریقے سے ہی مسائل کا حال چاہتے ہیں آپریشن فوج نے شروع کیا اور طاقت ور بھی وہی ہے انھونے نے مزید کہا کہ مجھے حالات ٹھیک ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے کیونکہ لوگوں کا لاپتہ ہونا ابھی تک جاری ہے، مسخ شدہ لاشوں کے  ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے تو حالات میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ کیا آرمی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پچھلے دس پندرہ سالوں سے جاری آپریشن میں ان کو شکست ہوئی ہے نواب  براہمدغ بگٹی کا کہنا تھاکہ آرمی کرپشن میں ملوث ہے لوگوں کے زمینوں پر قبضے کررہی ہے جہاں پر سمگلنگ ہورہی ہے آرمی شامل ہے بھتہ خوری میں ملوث ہے تو ان حالات میں آپ اندازہ لگائے کہ حالات ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا ہونگے؟ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مسائل شدید سے شدید تر ہوچکے ہیں اب تو مزید زیادہ یا کمی کی کنجائش نہیں ہے یہاں پر تو ہماری نسل کشی کی جارہی ہے ہمارے لوگوں پر بمباری کی جارہی ہے ہمارے اوپر جنگی طیاروں کا استعمال ہورا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل