شہداے کوہ سلیمان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔بی۔ایس۔ایف

کوئٹہ بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے شہدائے کوہ سلیمان کو قومی جدوجہد میں بے لوث کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہ شہداء کی جدوجہد کا نعم البدل آزادی ہے پارلیمنٹ اور دیگر ریاستی مراعات نہیں شہداء کوہ سلیمان کی جدوجہد بھی ایک مقصد کی نشاندہی تھی وہ مقصد آذادی ہے ان کی قربانیوں اور کوششوں کوفراموش نہیں کیا جاسکتا ان کی جدوجہد دانش اور موقف انہی کوششوں کا جز وہے جس کے لئے بلوچ فرزند ہمیشہ فکری و جسمانی طور پر میدان عمل میں رہے ان کی آزادی خواہ کوششیں قومی اثاثہ ہے ان کا کردار ہر صورت میں خراج تحسین کے لائق ہے شہداء کو یاد کرنے کا مقصد ان کے فکر و فلسفہ کو ان کو دہرانا ہے ان کی یاد ان سے تجدید عہد ہے شہداء کو یاد کرکے ان کے فکر سے انحراف ان کی یاد دہانی نہیں بلکہ شہداء کے نام لے کر بلوچ قوم کو بیوقوف بنانے کی مترادف ہے کیونکہ شہداء نے نہ تو پارلیمنٹ کے لئے جدوجہد کی اور نہ وہ اتنی بڑی قربانیاں دیکر معمولی مراعات کی مانگ کی وہ تمام تر سختیوں کے باوجود اپنی موقف پر سمجھوتہ نہ کی ترجمان نے کہاکہ کوہ سلیمان کے محاذ پر لڑنے والے بلوچ شہداء کا کردار تاریخ میں سنہرے حروف میں یاد کئے جائیں گے ان کی قربانی فکر و فلسفہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ترجمان نے بولان مستونگ کردگاپ اور دیگر علاقوں میں جاری ریاستی کریک ڈاؤن کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اقوام متحدہ اور حق و انصاف کی داعی اور انسانی حقوق کی چیمپیئن بلوچ نسل کشی اور بلوچ فرزندوں اور خواتین کی حراستی گرفتاری پرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جو کہ ایک المیہ سے کم نہیں گزشتہ دنوں حیر دین سمالانی اور اس کے اہلیہ اور دیگر بلوچ خواتین کی حراستی گرفتاری اور کردگاپ سے بلوچ فرزندوں کی گرفتاری انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کی منہ پر طمانچہ ہے ترجمان نے کہاکہ ریاستی اپنی نوآبادیاتی مفادات کے حصول کے لئے بلوچ آزادی کی اصولی موقف کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ بلوچ قوم جتنی بھی قربانیان دے رہی ہیں ان قربانیوں کا حاصل وصول بلوچ قومی آزادی شناخت اور بقاء سے مشروط ہے اس کے علاوہ بلوچ قوم کے پاس دوسرا موقف نہیں اگر کوئی بلوچ قوم کا نام لے کر بلوچ موقف کو مراعات اور پیکجز سے منسوب کرتاہے یہ ان کا زاتی اور گروہی کا موقف ہوگا بلوچ قوم کا نہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ نسل کشی اور بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا کرنے کی مزموم کوشش المیہ ہے عالمی برادری بلوچ نسل کشی کے تدارک اور خطے میں خونریزی کے خاتمہ کے لئے بلوچ قومی مسئلہ کی تاریخی اور زمینی حل کو اہمیت دیکر پیش رفت کا باقائدہ آغاز کریں

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل