شاہ لطیف کی شاعری میں بلوچ، بلوچی اور براہوئی زبان ! پناہ بلوچ

شاہ لطیف کی شاعری میں بلوچ، بلوچی اور براہوئی زبان !

پناہ بلوچ

شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ (18-11-1689__01-01-1752) سندھ کے نام ور صوفی، محقق اور شاعر ہیں۔ سندھ کے لوگ عقیدتاً اسے’’لاکھینٹرو لطیف‘‘،’’لطیف گھوٹ‘‘،’’بھٹائی‘‘اور’’بھٹ جوشاہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ وہ شہرہ آفاق کتاب’’ شاہ جو رسالو‘‘ کے تخلیق کارہیں۔ یہ کتاب سندھی ادب کا انتہائی اہم شہہ پارہ شمار ہوتی ہے۔ شاہ لطیف سندھی ادب کے میدان میں کلیدی حیثیت کے مالک ہیں۔ محققین کے مطابق وہ حضرت محمد صلعم،جلال الدین محمد بلخی المعروف مولانا رومی، ابو حمید بن ابوبکر ابراہیم المعروف فرید الدین عطار، ابو محمدمصلح الدین بن عبداﷲ شیرازی المعروف شیخ سعدی اور شاہ حسین سے متاثر تھے۔

شاہ جو رسالو جس کو ارنسٹ ٹرمپ’’ دیوان‘‘ کہتے ہیں۔ جس کواسی نے ترتیب دے کر تصحیح کر کے1866 میں لی پنگ جرمنی سے شائع کیا۔ ان کے بعد اس پر مرزا محمد قلیچ بیگ، علامہ غلام مصطفی ،کلیان آڈوانی، دین محمد وفائی، ڈاکٹر گربخشانی، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، پیر حسام الدین راشدی، علامہ آئی آئی قاضی، ایلسیا قاضی، جی ایم سید، بھیرومل آڈوانی، علامہ محمد شاہانی، ودیگر درجنوں علما، دانش وروں،محققین اور ادیبوں نے تحقیق وتدوین کرتے ہوئے قلم کشائی کی ہے۔

شاہ جو رسالو میں روایتی طور پر تیس سُربتائے گئے ہیں، جن میں کلیانڑ، ایمن کلیانڑ، کھمبھاٹ، سُری راگ، سامونڈی، سونہٹری، سسئی آبری، معذوری، دیسی، کوہیاری، حسینی، لیلاں چنیسر،مومل رانٹروں، مارئی، کاموڈ، گھاتُو، سورٹھ، کیڈارو، سارنگ، آسا، ریپا، کھاہوڑی، بروّو سندھی، رام کلی، کاپاتی، پورب، کریال، پربھاتی، ڈہر اور بلاول شامل ہیں۔ ان سُروں کے درمیان اور شاہ جو رسالو میں سات محبت کی داستانیں مارئی، مومل، سسئی، نوری، سو ہنی، سورٹھ اور لیلانامی خواتین کے کرداروں کی جرات،بہادری، ہمت، پیار، اخوت اور وطن کے محبت کے جذبے کو احسن طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں عربی، فارسی، ہندی، بلوچی، براہوئی، سرائیکی اور دیگر زبانوں کے بامعنی الفاظ موجود ہیں، لیکن پانچ سروں، سُرسسئی آبری، سُرمعذوری، سردیسی، سُرکوہیاری اور سرحسینی میں کیچ کے ہوت بلوچ شہزادے’’دوستین المعروف پنّوں‘‘ یاسسئی پنوں کے محبت کی داستان پرتفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ بلوچوں کی بہادری، جوانمردی اور اول العزمی کاخوب ذکر کیا، اِن سُروں میں انہوں نے بلوچی زبان کے الفاظ کثرت کے ساتھ استعمال کیے ہیں، دلکش بات یہ ہے کہ جب کیچ اور بھنبھور کے تعلق، میر عالی ہوت کے بیٹے پنّوں کے عشق اور سسئی کی چاہت، محبت، عشق اور جدائی کے لمحات کی آہ وزاری اورتکالیف کو بیان کرتا ہے تو وہ بلوچستان کے بلوچوں کی دوسری بڑی زبان براہوئی کے الفاظ کو بھی پنوں کے بارے میں کہے گئے اشعار میں استعمال کرتاہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں، ؂
؂
جِے کر رَوان رَوش مرَوشی محبوب ڈے
مَناکشی مولدِی، دیما پنہوں دوش
تھئی گوانکاں منی گوش، سُنڑیں ماں سُکھیِ تھیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؂
دَاسا دَاکا دَاڑے ہَنداڑے ھُئام
ہُر داسا ہِن حال جا‘ ہتے ہوت ڈِٹھام
پَذیرِی اِیندام، پائے پیچ پریت جو

شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ نے اپنے رسالوکے ہر سُر اور ہر واقعے کو بیان کرتے ہوئے وہاں بولی جانے والی زبان کے لفظوں، لہجوں اور استعاروں ، وہاں کے ماحول، وہاں کے چرند پرند، معاشی اور معاشرتی حالات کی عکس کشی کی ہے۔ جب وہ پنوں کا ذکر کرتے ہیں تو اسے بلوچ، باروچا، جت، ہوت، جام ،عاری،عاریانی، کیچی اور کوہیار کے نام سے پکارتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ؂

لے گئے میرے پریتم کو، وہ ظالم دیور جام
دیا تھا آن کے ہوت پنہل کو ’’آری‘‘ کا پیغام
سب نے ایسی کی تھی سازش، ڈالا تھا اک دام
دھوکے سے وہ لے گئے سکھیو! میرا ہوت وریام
ظلم کے لیے ہرگام اٹھایا، ان شہہ زور جتوں نے
(شاہ جورسالو۔آغاسلیم)

اس شعر میں وہ دوستین یعنی پنّوں کے بھائیوں کو جام لکھتا ہے ساتھ ہی پنوں کے والد’’ میر عالی‘‘ کو ’’ آری‘‘ لکھتا ہے، پھر انہیں شہہ زور جت بھی کہتا ہے۔ ایک دوسرے شعر میں وہ لکھتے ہیں: ؂

راہ یار میں آڑے آئے، یہ اونچے کہسار
برفت اور بروہی لے گئے، میرا وہ کوہیار
روتی ہوں اے یار، کہ دیکھوں تیری صورت
(شاہ جو رسالو۔آغا سلیم)

اس شعر میں وہ پنّوں کے بھائیوں کو برفت اور بروہی بھی کہتا ہے۔واضح رہے کہ وہ پنوں کو کوہیار بھی کہتا ہے ، کوہیار کے لفظی معنیٰ پہاڑوں کے دوست کے ہیں، لیکن میر نصیر خان احمد زئی کے مطابق 854 ق م سے قبل خضدار کا نام امیر غضدار کرد کے حاکم بننے سے غضدار پڑا جو پھر قصدار، قزدار سے بدلتے بدلتے خضدار ہوا جب کہ اس سے قبل خضدار کا نام کوہیار تھا۔ شاہ عبداللطیف کے ایک پورے سُرکا نام کوہیاری ہے۔

جن سُروں میں ان کا ذکر کرتے ہیں تو بلوچستان کے پہاڑوں، پہاڑی چوٹیوں، آب وہَوا، ماحول کا دلکش انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ کیچ کے والی کے بیٹے کے لیے کہے گئے اشعار میں بلوچی زبان کے ساتھ ساتھ براہوئی زبان کے الفاظ کو استعمال کرتے ہیں۔ ان الفاظ کے استعمال اس جانب واضح اشارہ کرتے ہیں وہ براہوئی زبان کو بھی بلوچوں کی زبان مانتے ہوئے اس داستان کے ہیرو پنوں کو اس کے دونوں زبانوں یعنی بلوچی اور براہوئی میں بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پنوں کے بھائیوں کو ہوت آری کی اولاد، جام کوہیار، جت، باروچا، خان باروچا، بلوچ کے ساتھ ساتھ برفت اور بروہی بھی لکھتے ہیں۔

سندھ کے نام ور سیاسی رہنما اور دانش ور جی ایم سید نے بھی لطیف کے کلام کا خوب صورتی سے جائزہ لیا ہے اور "پیغامِ لطیف" کے نام سے کتاب شائع کرائی۔ وہ اپنی کتاب میں یوں رقم طراز ہیں:

’’شاہ کو بلوچ قبیلہ سے کچھ خاص لگاؤ ہوگیا تھا۔وہ ان کی بہادری، اولالعزمی،قول وزبان کی پختگی اور قائدانہ صلاحیتوں کامشاہدہ کرچکے تھے اور کلہوڑوں کی مذہب کے نام پر خود سر اور فسطائی حکومت اور اس کی منافقانہ پالیسیوں سے بیزار ہوچکے تھے۔ چنانچہ وہ بلوچوں کے ذریعے سندھ میں تبدیلی کی علامتیں دیکھنے لگے تھے، اور اس کے لیے بلوچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور ان کی ہمت افزائی کرنے پر مستعد ہوگئے تھے۔ شاہ صاحب کے کلام کے پورے پانچ سُربلوچوں کے قصے،کہانیوں،کرداروں اور ان کی تعریفوں سے پُرہیں۔ بلوچوں کی توصیف میں ان کے بعض مصرعے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ چند ایک ملاحظہ ہوں۔ ؂

؂ بِرَہ آ ءُُ بلوچ جی، بھیڑی کیُس باند
بلوچ کی محبت نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا ہے

؂
باروچانڑی ذات مناں مُور نہ وِسرے
یہ بلوچ ذات، دل سے اس کی یاد فراموش ہی نہیں ہوتی

؂
کوجو آیُس کوڈ۔ باروچانڑی ذات سیں
بلوچ سے دوستی رکھنے کے بعد ہی مجھے عشق کا مطلب سمجھ میں آیا ہے

؂ آہیاں کمینٹری ذات۔ بلوچی نہ جُڑاں
میں تو کم ذات ہوں، بلوچوں ( جو اعلیٰ نسل کے ہیں) کے کسی طرح ہم پلہ نہیں ہوسکتی
؂
ڈٹھا جے بلوچ، موں جیءں اکھیئن سیں
کاش کہ تُو میرے محبوب بلوچ کو میری نگاہوں سے دیکھ سکے
؂
جے ہی۔ جے۔ تے ہی۔ تہ بہ بانہی باروچل جی
میں جیسی بھی ہوں، مجھے اس پر فخر ہے کہ میں بلوچ کی کنیز ہوں

ایک جگہ پر بلوچوں کی سیاسی قیادت کے بارے میں واضح اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

؂ جن ہِں جو آری جام اگ وانڑ، تَں ہں کھے کانہے باکھ بہر جی
جس کا آری جام(بلوچ) قائد ہو اسے کسی طرح کا کوئی اندیشہ نہیں ستاتا

شاہ صاحب کی یہ امیدیں اور پیش گوئیاں جلد ہی پوری ہوگئیں۔ کلہوڑوں کی حکومت ختم ہوئی اور ان کی جگہ بلوچ حکمران ہوگئے۔ بلوچوں سے دیرینہ لگاؤ کا ایک جگہ اس طرح اظہار کرتے ہیں:

؂ جَڈّ ڈَاں کُن فیکون، چئیِ نیو آریانڑی ارواح

جس وقت اﷲ تعالیٰ نے یہ دنیا پیدا کی، اسی وقت میرامَن،روح اور دل بلوچ نے لے لیا

بلوچوں سے ملنے یا تعلق رکھنے میں وہ خاص خوشی محسوس کرتے تھے چنانچہ فرماتے ہیں:

؂ اَچے آری جام جو وَنڑ وَنڑ مَنجھاں وَاس
مجھے ہر شاخ وشجر سے آری جام(بلوچ) کی خوشبو آتی ہے

؂ پَسندے ئیِ پُنہوں کھے اکھین کیَو آرام
میری آنکھیں روزِ اول سے بے چین وپریشاں تھیں لیکن جیسے ہی پنہوں پر نظر پڑی انہیں آرام آگیا

ایک اور جگہ دل کی گہرائیوں سے بلوچوں کو ان لفظوں میں دعادیتے ہیں:

؂ اﷲ آریچن کھے کُوسو لگے نہ واءُُ
اے اﷲ! بلوچوں کو آلام وابتلا کی گرم ہواؤں سے محفوظ رکھ

ان کی جواں مردی اور جنگجوؤں کی تعریف میں کہتے ہیں:

؂ کٹارو ایں کواس اَگنڑ آری جام جے
جدال وقتال تو میرے بلوچ کے آنگن کے کھیل ہیں

بلوچ ہونا یعنی شاہ صاحب کی پسندیدہ خصوصیات کا حامل مرد ہونا ہرایک کے بس کی بات نہیں۔ یہ کردار اپنانے کے لیے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ذاتی اورقومی خودداری کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ لالچ اور خوف کے مقابلہ میں ثابت قدمی ثابت کرنا ہوگی، اور حریت وحق پرستی کی راہ اختیار کرنا ہوگی‘‘۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ نے واقعی بلوچ کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا اور صدیوں قبل بلوچوں کی زبانوں کو اپنی شاعری میں بھر پور طریقے سے شامل کیا ہے، وہ سب محبت، اخوت، بھائی چارے اور اتفاق کے فروغ کے لیے تھا۔خداوند ہم سب کو لطیف کی خواہشات کے عین مطابق بلوچ قوم کا مستقبل روشنی کے جانب رواں کرنے کی جدوجہد کرنے کی توفیق دے۔

آخر میں شاہ لطیف کا کلام یوں ہے:

؂
آج میں پوچھوں تجھ سے ، کیسے ڈھونڈے گی کوہیار
حدِ نظر تک صحرا پربت، اپنا آپ بسار
جب تک ملے نہ یار، بندھا ہو پریت کا بندھن

Comments

  1. اچھی کوشش ہے لیکن آپ نے شاھ لطیف کے کلام میں بلوچی اور براہوئی الفاظ پر بحث کرنے کے بجائے بلوچ قوم کے متعلق شاھ لطیف کے خیالات پر بحث کی ہے۔ شاھ لطیف کے کلام میں بلوچی الفاظ کے موضوع پر میں نے ایک آرٹیکل لکھا ہے۔ شاھ جو رسالو کے سر دیسی میں ۲۸ ایسے بیت ہیں جن میں بلوچی زبان کے الفاظ، جملے اور مقولےاستعمال کئے گئے ہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. Riaz bha aap k article agar internet par hay to link share karden. Mehrbani

      Delete
  2. بلوچ بلوچی اور براہوی زبان
    ادھر آپ (پناہ بلوچ) نے براہوی بلوچی کو ایک الگ رنگ سے رنگ دیا
    بہتر تو یے ہوتا کہ براہوی اور بلوچی ان دونوں کو یا
    نئے براہوی بلوچی کو صرف بلوچی پر مشتمل کرتے بلوچی میں بلوچی کہ تمام لہجےآجاتے ہیں
    براہوی مکرانی سلیمانی رخشانی یا دیگر.

    ReplyDelete

Post a comment

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل