سنگت امتیاز بلوچ شھید سردارزادہ.......... باسط بلوچ

 

سنگت امتیاز بلوچ

شھید سردارزادہ..........

باسط بلوچ

وہ دن بھی آ گیا جب سرزمین زہری کی بطن سے جنم لینے والا ایک سردار زادہ وطن پر فدا ہو گیا. سنگت امتیاز کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ وہ ایک سردار کے گھر میں پیدا ہوا. ایک سردار زادہ کی حیثیت سے پلا بڑھا شاید گھریلو ماحول میں، قبائلی فیصلوں میں، بیٹھک کچاری دعوتوں میں اس کی نشست اپنے ہم منصب نوجوانوں کے ساتھ ہو. تمام سردار زادوں کی طرح اس کا بھی ایک مقام رعب داب ہو. تمام سردار زادوں کی طرح اسے بھی ایک حلقہ سائیں سائیں کرنے والا ہوتا ہو گا. کسی کو مارنا پیٹنا کسی کو بے عزت کرنا یا کسی سے چہارم وصول کرنے کی خواہش اس کے دل میں بھی ابھرا ہو. لیکن ان تمام بری خصلتوں سے مبرا سنگت امتیاز ایک بلوچ جہد کار سے شھید کے اعلی مقام پر فائز ہو گیا.
شھید امتیاز کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے. علم کا ایک سمندر ہے جس سے نوجوان اپنی پیاس بجھاتے ہیں. ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہتر انداز میں قلم کاروں نے روشنی ڈالی ہے اور تاریخ ہمیشہ اپنے پنے لبریز کرتی رہے گی. کسی نے امتیاز کی تعلیمات کو اجاگر کیا کسی نے ان کی مہر و محبت کی داستان سنائی. کسی نے سنگتی کا زکر چھیڑا تو کسی نے امتیاز کی خلوص محنت جذبہ بے لوث قربانی بے غرض جدو جہد کی تعریف کی. لیکن ایک دوست کی حیثیت سے میں نے امتیاز جان کو ایک قبائلی چیف کی حیثیت سے بالکل دیگر سرداروں سے مختلف محسوس کیا.
بلوچ معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ ہے اور انگریزی دور سے پہلے اسی قبائلی سیٹ اپ میں بلوچ اپنا زند گزران کرتے تھے جو ایک مکمل نہ صحیح لیکن ایک کوڈ آف کنڈکٹ ضرور تھی. اگر کسی نے غور کیا ہوگا تو امتیاز اُسی دور کا ایک سوشلسٹ سردار تھا. عاجزی انکساری چھوٹے بڑے کی برابر عزت کرنا، سب کو برابر اہمیت دینا اور سب کے لیے برابری کی بنیاد پر سوچنا. انصاف کا حصول سب کے لئے ایک جیسا، جیسے فلسفے کو لیکر زات پرستی قبیلہ پرستی علاقہ پرستی کو انسانی وقار کے لئے شجرِ ممنوعہ سمجھنے والا امتیاز کسی بھی لحاظ سے دوسرے سرداروں سے الگ تھلگ سوچ کا مالک تھا.
اگر امتیاز کے نظریے سے پرکھا جائے تو مجھے ایسی سرداری نظام بھی قبول ہے جس میں ایک فرد انہی لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سمجھ کر ان کا بروقت و دیر پا حل نکال سکتا ہو. اور اس بات کا ہم دوستوں نے پریکٹیکلی مشاہدہ کیا جب بحیثیت ایک قومی سپاہی شھید امتیاز علاقے میں لوگوں کے مسائل بابت جرگوں کی سرپرستی کرتا تھا اور بغیر کسی مُوصلی چہارم وصول کئے لوگوں کے مسلے حل کرکے بروقت انصاف فراہم کرتا تھا اور آج تک کسی روایتی سردار میر معتبر نے سنگت امتیاز کے اعلان کردہ فیصلے کو چیلنج نہیں کرسکا.
جبکہ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو زہری جیسے پسماندہ علاقے میں جہاں شعوری قحط کے ساتھ انسانیت بھی نا پید ہے، جہاں سردار قبائلی معتبرین آنکھ کھولتے ہی یہی اخذ کر لیتے ہیں ایک جانوروں کا ریوڑ ہے اور مجھے اسے ہانک کے چلنا ہے. اسی سوچ کو بچپن سے چوسنی کی طرح گلے میں باندھے یہ معتبرین دن رات جتن کرتے ہوئے بڑے ہو جاتے ہیں. پھر نہ کسی کی سفید ریش کی پرواہ ہے نہ کسی کی جان کی. ملکیت کا دعویٰ ہے جیسے میرے دادا نے کچھ جائیداد، کچھ زمینیں کچھ جانور بھیڑ بکریاں ورثے میں چھوڑنے کے علاوہ ایک غول انسانوں کا بھی چھوڑا ہے جن کا میں آقا ہوں جسے قبیلہ کہا جاتا ہے. ایک ایسے دم گُھٹا ماحول میں امتیاز جیسے انسانیت پرستوں کا جنم لینا اسی علاقے کی خوش نصیبی ہے. امتیاز جیسے مکمل انسان جو لوگوں کے درمیان، لوگوں کے ساتھ، لوگوں کے لیے سوچتے ہیں. پھر انسانیت کو مقدم جان کر اس کا وقار حاصل کرنے کے لیے عملی میدان کا رخ کرتے ہیں اور جان کی بازی ہار کر بدلے میں مقصد جیتتے ہیں.
چونکہ تا دم تحریر بلوچ معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ کہلاتا ہے اور ان معتبرین کا لوگوں کے اندر ایک مقام ہوتا ہے. لوگ اکثر اپنے قبائلی چیف کی عزت کرتے ہیں اور اکثر حکم بجا لاتے ہیں. اسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کسی اچھے اور وطن پرست سردار کا قبیلہ بھی اس کا ہمراہ بن سکتا ہے. اسی بات کو لیکر آج اکثر سردار سرکار کے تھالی چٹ بنے ہوئے ہیں. یہی وجہ ہے کہ سرکار کی جانب سے انھیں مراعات دے کر مجموعی سوچ پر قدغن لگائی گئی ہے. آنے والے چند سالوں میں بلوچستان کے اندر سرداری نظام ایک خطرناک شکل اختیار کرے گی جسے عام لوگوں کے لیے کسی تباہی سے تعبیر کیا جاتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے آنے والے چند سالوں میں تمام بوڑھے سرداروں کے بچے ان کی رحلت کے بعد اقتدار کے مسند پر براجمان ہونگے جو اپنے بوڑھے ان پڑھ والد کی نسبت زیادہ شاطر چالاک اور چاپلوسی میں پروفیشنل ہونگے. نیم حکیم خطرہ جان کی مانند دشمن کے ہاتھوں ایک اچھا کھلونا ثابت ہو سکتے ہیں.
لیکن ان سب سے منفرد و یکتا شھید امتیاز نے وطن کا سپاہی بن کر ایک نئے باب کا آغاز کیا. متاثر کن کردار کا مالک امتیاز کی جدو جہد بلوچ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو گی.

امتیاز سے وابستہ چند یادیں.

"دشمن نے کیا سمجھ رکھا ہے بلوچ سر زمین کو کیا بلوچ قوم کے سپاہی ختم ہو گئے ہیں جو تم یوں صرف ایک عدد میگزین کے ساتھ بلوچ سنگر بولان پر حملہ آور ہو " یہ تھے شھید سنگت امتیاز وشین کے الفاظ جو بولان محاذ پر آخری معرکے میں اپنے سے تھوڑے فاصلے پر مورچہ زن دشمن فوجی کو مارنے کے بعد لاش کے قریب جا کر تصویر نکالی اور اس کا جی تھری اٹھاکر واپس اپنے پوزیشن پر پہنچ کر دوست سے فاتحانہ انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا". وہ پچھلے آٹھ ماہ سے بولان کے محاذ پر تھا اور ہر نئی صبح دشمن کی جانب سے یلغار کا منہ توڑ جواب دے کر آگے نکل جاتا. آج بھی دوپہر کو شروع ہونے والے ہیلی بورن آپریشن میں دشمن سے دُو بہ دُو لڑائی میں سینہ سپر ہو کر آگے بڑھتا رہا کئی ایک مقامات پر جھڑپ دیتا رہا اور دوستوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کو کوور دے کر نکالتا رہا. کئی گھنٹوں کی شدید لڑائی میں مغرب کے بعد دشمن کی گولی سینے پر ٹھنڈی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا.
ایک ہی علاقے سے تعلق رکھنے کی بنا پر سنگت امتیاز بلوچ سے سلام دعا یا غائبانہ تعارف تو بچپن سے ہوتا رہا ہے بعد میں بحیثیت بی ایس او عہدہ دار جان پہچان شہرت رہی لیکن باقائدہ ایک ہمسفر کی حیثیت سے پہلی بار سنگت امتیاز سے ملاقات دو ہزار بارہ کے اپریل میں ہوئی جب وہ پہلی بار دوستوں سے ملنے اوتھل سے ہمارے کیمپ آیا تھا. دو دن گزارنے کے بعد دوستوں کے سلاہ مشورے سے واپس چلا گیا اور روڈ تک پہنچانے کی زمہ داری میرے حصے میں آئی. کیمپ سے نکل کر موٹر سائیکل تک پہنچنے کے بعد میں نے اپنی بندوق امتیاز کے حوالے کر کے خود موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور باتیں کرتے ہوئے روانہ ہوئے. ہم دونوں ایک دوسرے سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتے تھے. باتوں میں اتنی دلچسپی تھی کہ پتہ ہی نہیں چلا اور منزل پہنچ گئی. سنگت کو خدا حافظ کر کے ہم واپس لوٹے. چند دن گزرے ہی تھے کہ دلوش نے فون کیا مجھے کیمپ آنا ہے دوسرے دن کیمپ پہنچ گیا پھر ہمیشہ یہیں رہا.
سنگت سے وابستہ یادیں بہت ہیں ہر ایک یاد ایک داستان جیسی. ہر بیتا لمحہ ایک جوش و ولولہ، ہر آہٹ ایک نئی امنگ. محنت ،محبت ،خلوص، ہنسی مذاق اور علم و شعور کے ملاپ کا نام سنگت دلوش. اکثر ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے اکثر محفل کچاری ہوتی تھی دیگر دوست مذاقاً ہماری اس قربت کو علاقہ پرستی کہتے اور سنگت دلوش کو تنگ کرتے. ہم دونوں ایک ساتھ تھے جب شہداء مشن بیرگیر سوراب حادثہ میں شھید حئی، شھید کرم شاہ اور شھید عاجز کی شہادت کی خبر ملی. ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر نظریں چرانے لگے دو دن بعد دلوش نے مجھے بلا کر ایک جگہ پر بیٹھے کچھ دیر خاموشی کے بعد جب نظریں زمین سے اٹھیں چمکتے آنسوؤں سے ایک دوسرے سے ملے. کچھ دیر توقف کے بعد سنگت امتیاز صرف ایک جملہ بول پایا کہنے لگے سنگت آپ کے غم بہت زیادہ ہیں. نثار کی جدائی میں جواباً مَیں وہ ایک جملہ بھی نہیں بول سکا. تھوڑی دیر بیٹھے رہے ماحول کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہنے لگا ایک عظیم مقصد کے لیے ایک معمولی سی جان نچھاور کرنا بہادروں کا شیوا ہے اور یہ ایک پیاسا صحرا ہے جسے آباد رکھنے کے لیے حئی و عاجز جیسے دریا قربان کرنے ہونگے. کیا معلوم تھا کہ امتیاز خود ایک دن غم کا پہاڑ بن کر گرے گا. ایک ایسا غم جس کے مقابلے کا حوصلہ وہ خود ہوا کرتا تھا. ایک ایسا سنگت جس کے ہوتے ہوئے ہمیشہ حوصلے مضبوط رہتے. ایک ایسا جانکار جس کے ہوتے ہوئے کبھی بھٹک نہ سکتے تھے. معاملہ فہم ایسا کہ جس کے ہونے سے کبھی بکھر نہیں سکتے تھے. ایسا جفا کش جس کے ہونے سے ہمارے کندھے بوجھل نہ ہوتے. ہر بار ہر جنگ ہر جھڑپ میں تمام دوستوں کو بحفاظت راستہ دے کر نکالتا اور سب سے آخر میں مورچہ خالی کرکے پلٹتا.
شہادت سے پہلے آخری بار چند ماہ پہلے ملاقات ہوئی. ایک سرمئی شام مغرب کے بعد مجھے آواز دے کر پاس آیا اور بیٹھ گیا. کہنے لگا میری بندوق کا خیال رکھنا تمھارے حوالے کر کے جا رہا ہوں اور تمھاری بندوق میرے ساتھ رہے گی. بندوق اور جاٹہ کا تبادلہ کرکے اس وعدے کے ساتھ روانہ ہوا کہ پھر ملیں گے اور میں اسے تیز قدموں سے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا. جب وہ بولان پہنچ گیا تو پہنچتے ہی دشمن کی یلغار کا سامنا ہوا اور رابطہ منقطع ہوگیا. دور دور سے صرف خیریت معلوم ہوتی رہی. سات آٹھ ماہ گزرنے کے بعد کسی کام کے سلسلے میں نیٹ ورک میں آیا اور ہفتہ بھر بیٹھا رہا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے روزانہ گھنٹوں باتیں کی. ہر بار کی طرح آج بھی پُر عزم پُر حوصلہ تھا. اپنی زمہ داریوں کا آج بھی ادراک تھا.
سنگت امتیاز شعور علم اور عمل کی زندہ مثال تھے. وہ بندوق کو شعور کے تابع چلانے کا قائل تھے. وہ زات ،خود پرستی، عناد ضد، لالچ خود غرضی شہرت و تعریف کی بھوک جیسے موذی امراض سے بالکل پاک ایک مکمل انسان تھے. ان کی محنت جذبہ خلوص علم و شعور قربانی بلوچ نوجوانوں کے لئے رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں. شھید سنگت امتیاز بلوچ ایک مقصد کے داعی تھے جس میں سب سے پہلے اپنی زات کو نفی کرنا پڑتا ہے. دانے کی طرح خاک میں مل کر دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں.

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل