بلوچستان میں انسانی حقوق پامالی حوالے عالمی ادارے بلوچوں کی آواز سننے کےلئے تیا رنہیں،بی ایچ آر او و وی بی ایم پی کاسیمینار

کوئٹہ  بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن اور بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کی  جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے مناسبت سے  بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی پرسیمینار کا اہتمام کیا  گیا۔ جس کی صدارت بلوچ ہومین رائٹس آرگنائزیشن کی چئیرپرسن بی بی گل بلوچ  نے کی۔ تقریب میںبلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتیں ، صحافی برادری، طلبا  تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شرکت کی۔ جن میں بی این پی کے  موسیٰ بلوچ، جماعت اسلامی کے جنرل سیکٹری ہدایت اللہ بلوچ،نیشنل پارٹی کے  صابرہ اسلام، اے این پی کے ابراہیم کاسی، آغا اشرف دلسوز، وائس فار بلوچ  مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ، نیشنل پارٹی کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر  عبدالحئی بلوچ، اور بی ایچ آر او کے چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے موضوع پر  اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ موسیٰ بلوچ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  بلوچستان میں طویل عرصے سے انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہےں۔ جہاں سی پیک  کوکامیاب بنانے اور چائنا کو خوش کرنے کے لئے بلوچوں کابے دردی سے قتل کیا  جارہا ہے۔ جہاں انسان کوبنیادی حقوق فراہم کرنے کے بجائے بلوچو ں کے حقوق  پر قد غن لگایا جارہا ہے۔ ہدایت اللہ بلوچ نے کہا کے بلوچستان میں انسانی  حقوق کے پامالیوں میں ریاستی فوج، مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت بھی برابر  کے شریک ہےں۔ اور اس سے بڑھ کر بلوچوں اور بلوچستان میں دیگر قبائل کا عدم  یکجہتی کے بدولت انسانی حقوق کو پامال کرنے میں طاقتور حلقوں کو بے مہار  تقویت مل رہی ہے۔ نصراللہ بلوچ نے انسانی حقو ق کی پامالیوں کے حوالے سے  عالم اقوام کی خاموشی کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے  بلوچوں کی آواز سننے کے لئے تیا رنہیں۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کو انسانی  حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے میںکلیدی کردار ادا کرنے کے لئے دعوت  دیتے ہوئے کہا کہ ہماری یکجہتی ہی اس ظلم جبر سے نجات دہی ثابت ہوگا بصورت  دیگر ہم ایک ایک ہوکر دب جائیں گے۔ بی بی گل بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ  بلوچستان پاکستان کا ہر حوالے سے سب سے پسماندہ خطہ ہے۔ قدرتی وسائل اور  سمندری دولت سے مالامال ہونے کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ  رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی 80فیصد آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر  مجبورہے۔آزاد زرائع کی اندازوں کے مطابق بلوچستا ن میں سالانہ ہزاروںبچے  خوراک کی کمی کے باعث مرجاتے ہیں۔ جبکہ 2015کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے  مطابق سالانہ 3000 مائیں زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔بنیادی  ضروریات کے وسائل، جیسے کہ صحت، تعلیم اور رہائش فراہم کرنے کی زمہ داری  سے ریاست بالکل دستبردار ہوچکی ہے۔ بیشتر دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات  سرے موجود ہی نہیں ہیں۔ بلوچستان کے 90فیصد سے زائد مریض علاج کے لئے سندھ  کے اسپتالوں میں علاج کے لئے جاتے ہیں، بلوچستان کے صوبائی حکومت کی ترجمان  کے مطابق صرف نومبر 2015سے اگست2016 کے دوران 13575 افراد گرفتار کر لئے  گئے ہیں۔ بلوچستان میں آئے روز ہونے والے خون ریز آپریشن ، مارو پھینکو  پالیسی اور ماورا ئے عدالت اغوا نما گرفتاریوںپر شدید تشویش کا اظہار کیا  ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت خیبر پختوانخوا ، اور سندھ میں انسانی حقوق  کی شدید پامالیاں ہورہی ہےںجس کے لئے بلوچ ہومین رائٹس آرگنائزیشن نے  بلارنگ و نسلی امتیاز کے ساتھ سب کے لئے آواز بلند کرنے کے ساتھ جدو جہد کی  ہے اور کررہی ہے۔ موثر انداز میں جدو جہد اور عالمی اداروں میں انصاف کے  لئے مزید جدوجہد کی ضرورت ہے۔سیمینار سے صابرہ اسلام، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ،  ابراہیم کاسی اور آغا اشرف دلسوز نے بھی خطاب کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل