عرب شیوخ کے سیکورٹی پر معمور فوجی اہلکاروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں

کوئٹہ  بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ہفتہ کے  روزپاکستانی فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ  کولواہ میں پاکستانی فوج پر اس وقت حملہ کیا جب عرب شیوخ انکے ساتھ تھے۔  گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ حملوں میں بلوچ  عرب روایات و دوستی کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی گاڑیوں کو نشانہ نہیں بنایا  گیا جب کہ ان حملوں میں پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی  کیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ عرب اور بلوچوں کی تاریخی وابستگیاں ہیں اور ہم  انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انھیں اس بات کا ادراک ہونا چائیے کہ بلوچ  حالت جنگ میں ہیں اور قابض فوج نے بلوچ نسل کشی میں تمام حدیں پار کر لی  ہیں ایسے میں پاکستانی فوج کے ساتھ مقبوضہ بلوچستان میں شکار کھیلنے کے لیے  آنا خطرہ سے خالی نہیں۔فوج پر حملوں کے بعد قابض فوج نے عام آبادیوں کو  پھر سے نشانہ بنایا اس لیے انکو ایک بار پھر کہتے ہیں کہ وہ بلوچ نسل کشی  میں قابض مذہبی شدت پسند پاکستان کاساتھ دینے سے گریز کریں۔گہرام بلوچ نے  کہا کہ پہلا حملہ کولواہ ڈنڈار ڈل بازار میں کیا گیا،دوسرا حملہ کولواہ جرک  کڈ کے درمیان کیا گیا جبکہ فورسز پر اس وقت ایک بار پھر کولواہ بدرنگ گڈگی  کراس پر بھاری ہتھیاروں و راکٹوں سے حملہ کیا جب وہ آبادیوں پر آپریشن کے  بعد واپس جا رہے تھے،ان حملوں میں پاکستانی فورسز کے متعدد اہلکاروں کو  ہلاک و زخمی کیا۔جمعہ کے روزجھاؤ ڈولجی فورسز پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کر  کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل