بلوچ لاپتہ افراد کی فہرست گھٹنے کی بجائے بڑھتاجارہا ہے،لاپتہ ڈاکٹر دین ،شبیر ، زاہد و رمضان لواحقین



کوئٹہ لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنان ڈاکٹر دین محمد بلوچ، شبےر بلوچ ، زاہد  بلوچ، اور رمضان بلوچ کے لواحقین نے آج کراچی پریس کلب میں اپنے پیاروں کی  عدم بازیابی کے حوالے پریس کانفرنس منعقد کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوئے 22جون 2009کو اغواءہونے والے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ نے  کہا کہ آج اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن  منایا جارہا ہے۔ اس روز دنیا بھر میں منعقد تقریبات میں یہ عہد کیا جا تا  ہے کہ دنیا بھر میں انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا زمہ دار ریاستیں اور  حکومتیں ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف رسمی کوششیں اور اخباری بیانات  تک محدود عہد و پیمان ہیں۔ کیوں کہ ہم کئی سالوں سے انسانی حقوق کی عالمی  دن کی مناسبت سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے اپیلیں کرچکے ہیں، عدالتوں  کے دروازے کٹکٹھائے ہیں، دسویں بار سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے چکر لگانے کے  باوجود ہماری کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے۔ سات سالوں سے پریس کلبوں اور  عدالتوں کے چکر لگانے کے باوجود بھی مجھے یہ تک نہیں بتایا جارہا ہے کہ  میری والد کہاں اور کس حال میں ہوں گے اور پریشانی کی بات ہے کہ بلوچستان  سے لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست گھٹنے کے بجائے بڑھتا چلا جارہا ہے۔  18مارچ 2014کو کوئٹہ سے ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے زاہد بلوچ  کو دن دیہاڑے بھرے بازار سے اٹھا کر لاپتہ کردیا، زاہد کے خاندان کی طرف سے  احتجاج کے تمام زرائع استعمال کرنے اور عدالتوں کی چکر لگانے کے باوجود وہ  ابھی تک لاپتہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ4اکتوبر 2016کو شبےر بلوچ کو تربت میں  ان کی اہلیہ سمےت سینکڑوں لوگوں کے سامنے فورسز نے اٹھا کر لاپتہ کردیا،  شبےر کے اغواءکی ایف آئی آر پولیس آج تک درج نہیں کررہی ہے۔ شبےر کی خاندان  نے اسی پریس کلب کے باہر تےن دنوں تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھا، ہائی کورٹ  میں کیس درج کیا، لیکن ابھی تک شبےر کی زندگی اور سلامتی کے حوالے سے کسی  کو کچھ نہیں بتاےا جا رہا ہے ۔8جون 2009کو مستونگ سے اغواءہونے والے زاکر  مجید بلوچ بھی عدالتی احکامات کے باوجود تاحال فورسز کی حراست میں موجود  ہیں۔ فورسز ان لاپتہ افراد کے خاندانوں کو بھی ان کی زندگی و سلامتی کے  حوالے سے بے خبر رکھ رہے ہیں۔ سمی بلوچ نے کہا کہ ہماری تعلیم پچھلے سات  سالوں سے متاثر ہے۔ گھر میں ایک مستقل پریشانی کی ماحول میں نہ ہم سکون سے  پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔لاپتہ افراد کے لاشوں کی  برآمدگی کی خبریںہم سمےت تمام لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے کسی قیامت سے  کم نہیں۔ ایسے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ ہم نے احتجاجوں میںشرکت کیا ہے کہ  بعد میں ان کے پیاروں کی مسخ شدہ ا ور گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی  ہیں۔ انسانی جزبے سے عاری لوگوں کے لئے ایسی باتےں شاید کوئی معنی نہ رکھتے  ہوں لیکن ہمارے لئے ، زاہد اور شبیر کی خاندانوں کے لئے یا تمام لاپتہ  افراد کے خاندانوں کے لئے مسخ شدہ لاش کی برآمدگی کی خبر رونگھٹے کھڑے  کردینے والی باتےں ہیں۔اپنے والد کی انتظار میں 7سال ہم نے کس پریشانی و  مصیبت میں گزارے ہیں اس کا احساس ہمارے علاوہ شاید ہی کسی کو ہو۔ کوئٹہ سے  اسلام آباد تک لانگ مارچ کی تکلیف بھی میری اس تکلیف کے سامنے کچھ نہیں جب  میں اپنے والد کی یاد میں اپنے خاندان کے لوگوں کو آنسو بہاتے دیکھ کر  محسوس کرتا ہوں۔ 7سالوں میں ہم نے ہائی کورٹ و سپریم کورٹ تک کا دروازہ بھی  کھٹکٹایا، تما م اداروں سے مایوسی و نا امیدی کے سوا ہمیں کچھ نہیں ملا۔  اٹھا کر لاپتہ کردیا گےا ہے، اُن تمام کی پریشانیاں یکساں ہیں۔ ہمارے  پیاروں کی گمشدگی ہماری خاندانوں کے لئے اذےت کا باعث بنا ہوا ہے۔ شبےر  بلوچ، رمضان بلوچ، زاہد بلوچ، زاکر مجید بلوچ سمےت وہ تمام افراد جو کہ  لاپتہ کردئےے گئے ہیں، ان کی بازیابی کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام  افراد اپنا کردار ادا کریں۔ ہم نے پہلے بھی ریاست کی اداروں سے اپیل کی ہے  اور آج پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کریں، اگر  ان سے خلافِ قانون کوئی سرگرمی ہوئی ہے تو ان کو سزا دینے کے لئے عدالتیں  موجود ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل