شہید صدام کا مخلصانہ کردار مہراب مہر


 

شہید صدام کا مخلصانہ کردار
مہراب مہر

بلوچ وطن کی جہد آزادی کے لیے ہزاروں پھول جیسے نوجوان اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر وطن کی عزت و آبرو کے لیے جہد آزادی میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتے رہے اور کر رہے ہیں غلامی کی زنجیر کو توڑنے کے لیے وہ ہر پُرخار و کٹھن راستوں سے گذرتے رہے اور گذر رہے ہیں اور دل میں یہی امید لیے کہ اپنی زندگی میں نہ سہی اپنی آنے والے نسل کے لیے اپنی سرزمین کو آزاد کر کے دم لیں گے پختہ عظم کے ساتھ آزادی کے کارواں میں اپنی قومی خدمات سر انجام دیتے رہے اور دے رہے ہیں۔ اپنے گھر بارو بال بچوں کو چھوڑ کر قابض کے خلاف کمربستہ ہو کر جنگ آزادی کا حصہ بنے ۔اور جہد آزادی کے شمع کو اپنے خون سے جلاتے رہے۔جہد آزادی میں ایسے بے شمار بزرگ و کماش اور نوجوان ہیں جو وطن کی آبرو کی خاطر شہادت کے رتبے تک پہنچے کچھ شہید درویش کی طرح شہادت کا تاج پہن کر سرخرو ہوئیں کچھ گمنام شہداء کے فہرست میں اپنی جگہ بناتے گئے۔ کچھ شہداء ایسے بھی ہیں جو قومی جہد آزادی کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ریاستی جبر و بر بریت کی وجہ سے شہادت کا رتبہ حاصل کر لیے ایسے خوش قسمت بلوچ بھی جہد آزادی کے شہید ہیں جو ریاستی جبر و بربریت سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔جہد آزادی میں کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں و قربانی کے جذبے و اپنے بروقت فیصلے کے بدولت اپنا منفرد مقام بناتے ہیں۔اور تاریخ میں اپنے منفرد مقام کی وجہ سے روشن ستارے کی طرح چمکتے رہیں گے۔ایساہی ایک کردار شہید صدام زہری عرف عرفان ہیں۔ شہید عرفان زہری انجیرہ میں محمد ایوب کے گھر پیدا ہوئے اس نے جب آنکھ کھولی تو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ وہ اپنے وطن کے ایک عظیم سپاہی کی موت مرے گا۔ عرفان وقت کے ساتھ بڑھتا رہا اپنے وطن پر غلامی کو محسوس کرتا رہا اور اپنے علاقے انجیرہ میں جو اسکا آبائی گاؤں تھا جہاں قبائلیت اپنے زوروں پر تھا ۔دواد ا خان زہری نے پنجابی تاج پہن کر شہید سفر خان زہری کے خلاف کمربستہ ہوئے اور ثناء اللہ زہری بابو نوروز کی قربانیوں کو روند کر اپنے والد کی طرح دشمن کا تاج پہن کر بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف سرگرم عمل رہے ۔ایک ہی خاندان میں دو سوچ و فکر اجتماعی و انفرادی قومی و ذاتی بابو نوروز و دوداخان کی صورت میں عیاں ہیں۔ اور تاریخ میں زندہ وہیں رہیں گے جو اجتماعی و قومی مفادات کے لیے خود کو قربان کرینگے۔اور زہری انجیرہ وہی زمین ہے جہاں سے بابو نوروز خان اپنے بیٹوں سمیت وطن کی عزت و آبرو کے لیے دشمن سے برسرپیکار رہے اور شہادت کے عظیم رتبے تک پہنچے۔اور شہید یاسین و شہید زکریا اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی امنگ لیے میدان جنگ میں اپنا نمایاں کردار ادا کررہے تھے کہ اس دور کے غدار و ریاستی ایجنٹ ثناء اللہ زہری و ریاستی فورسز نے مشترکہ کاروائی کے تحت وطن کے عظیم سپاہیوں کو شہید کرتے رہے انجیرہ کی زمین کو نوجوانوں کے خون سے رنگتے رہے شہید عرفان اسی علاقے میں پھلتا پھولتا رہا اور وہ بلوچ وطن کی آزادی کی امنگ لیے سرمچاروں کے کاروان میں شامل ہوا اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے آزادی کے لیے میدان جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہا اور قریبا ایک سال کے بعد وہ بلوچ لبریشن آرمی کے جانثاروں کے ساتھ وطن کی عزت و آبرو کے لیے دشمن سے بر سر پیکار رہے۔بہت ہی کم مدت میں اس نے اپنی بہادری و جرات مندانہ صلاحیتوں کی بدولت بلوچ لبریشن آرمی میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئیں اور اس دوران وہ مختلف محاذوں پر کامیابی سے لڑے اور دشمن کو کاری ضربیں لگانے میں کامیاب ہوئے۔تیزی کے ساتھ دشمن پر یکے بعد دیگرے حملوں نے ریاستی دلالوں کی نیندیں حرام کر دی تھی۔ اور ریاستی دلال اس خوف میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے ۔ اور شہید عرفان زہری جو کہ اپنے علاقے کے ساتھ دیگر محاذوں پر اپنے فرائض انجام دے چکے تھے ۔اورریاستی دلال ثناء اللہ زہری و اسکے ہم رکاب سمجھ گئے تھے کہ شہید عرفان سمیت دیگر بلوچ آزادی کی خواہش رکھنے والے نوجوان بلوچ جہد آزادی کی سوچ سے وابستہ ہو رہے ہیں۔اور انکی مضبوطی ان دلالوں کی موت ثابت ہوگی تو انھوں ایک منصوبے کے تحت شہید عرفان و ناصر زہری کے گھروں کو بلڈوز کر کے مسمار کر دیا اور شہید عرفان و ناصر زہری کے خاندان والے اپنے آبائی علاقے سے بیدخل کر دیے گئے کیونکہ ثناء اللہ زہری کو بہ خوبی معلوم تھا کہ آزادی کی سوچ سے وابستہ یہ لوگ کسی نہ کسی دن اس سے وطن کے ساتھ غداری کا حساب لیں گے وہ اپنے قبائلی و سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان کے خاندان کے کئی افراد شہید زکریا ‘شہید یاسین زہری‘شہید ابراہیم زہری‘شہید شفییع محمد‘شہید نثار زہری‘شہید سرفراز‘شہید نعیب یعقوب‘شہید رؤف زہری‘شہیدعبدالغفار زہری‘ کو شہید صدام و دیگر سرمچاروں کی بلوچ جہد سے وابستگی کی بنیاد پر شہید کیا شہید عرفان ثابت قدمی کے ساتھ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے جہد آزادی میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتے رہے شہید عرفان کے سامنے اسکے دوستوں عزیز و اقارب کی لاشیں پڑے ہوئے تھے وہ اپنے عزیز و اقارب کی شہادت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آزادی کے راستے پر چلتے رہے وہ دیدہ دلیری کے ساتھ دشمن کا ہر محاذ میں ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور کئی محاذوں میں اپنا مخلصانہ بے لوث کردار ادا کرتے رہے شہید عرفان کے خاندان کے افراد در بدر ی کی زندگی گزارتے رہے اور شہید عرفان پہاڑوں میں عقاب کی مانند اپنے دشمن پر جھپٹنے میں مصروف رہے دشمن پر موثر حملے کرتے رہے۔ وہ 2010کو بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کی۔وہ مشکے کے پہاڑوں میں وطن کی آزادی کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتے وہ کام کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقہ آتے رہے اور دشمن پر کامیاب حملے کرتے رہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ 2011ء کو بی ایل اے کے کیمپ شورقلات میں آئے تھے۔ اور یہاں انھوں نے علاقہ نزدیک ہونے کی وجہ اپنے قومی خدمات انجام دینے لگے لیکن کچھ عرصے کے بعد اس کے دیگر دوست واپس بی ایل ایف کے کیمپ چلے گئے لیکن شہید عرفان بی ایل اے کے کیمپ میں رہے اور باقاعدہ بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھی 2012سے لیکر اپنی شہادت کے دن تک ایمانداری مخلصی کے ساتھ ہر محاذ پر بی ایل اے میں قومی فرائض انجام دیتے رہے وہ جہد آزادی کے لیے اپنے دن رات ایک کردیے تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ دے سکے وہ دیدہ دلیری کے ساتھ جہد آزادی کے لیے سوراب خضدار حب چوکی قلات میں شہری محاذ میں دشمن پر موثر حملے کرنے میں کامیاب رہے۔شہید عرفان جو مختلف کوڈ ناموں کے ساتھ اوتاک کی زینت بنتے رہے خاموش طبع ساتھی دوستوں کے ساتھ جلد گھل ملنے کی اس میں کمال کی مہارت تھی وہ ایک ایسے ساتھی تھے کہ ہر وقت قربان ہونے کے لیے تیار رہتے جب کسی محاذ پر خطرے کے آثار نمودار ہوتے تو اسکی اول کوشش یہی ہوتی کہ صف اول کے محاذ پر رہے وہ خطرے کے وقت اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوستوں کو بچانے کی کوشش کرتے وہ ایک نڈر سپاہی تھے مخلص تھے بے غرض تھے اس نے جہد میں آتے ہی اپنی زندگی کے ہر اس چیز کو قربان کرچکے تھے جو اس سے وابستہ تھا وہ گروپ کمانڈر کی حیثیت سے کئی محاذوں پر دیدہ دلیری کے ساتھ لڑے تھے کامیاب ہوئے تھے۔ کسی بھی عسکری کام میں دوستوں کے ساتھ پیش پیش ہوتے ہر کام کو مخلصی و ایمانداری کے سا تھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتے۔ وہ گروپ کمانڈر کی حیثیت سے دیگر دوستوں کے ساتھ ہر وقت کسی محاذ پر موجود ہوتے اور ہر وقت دوستوں سے کوئی نہ کوئی عسکری حملہ کرنے کی اجازت طلب کرتے وہ نڈر ساتھی تھے ان چار سالوں میں وہ کئی شہری و پہاڑی محاذوں پر میدان جنگ کا حصہ رہے تھے اس نے شادی کرلی اور جلد ہی واپس اوتاک پہنچے قومی ذمہ داری اسکے نزدیک دیگر تمام فرائض سے افضل تھے۔وہ اوتاک میں اپنی قومی فرائض انجام دیتے رہے اسکی بیٹی کی ولادت ہوئی تھی وہ اوتاک میں دوستوں کے ساتھ ہنس مک چہرہ لیے بات کر رہے تھے یار میں باپ بن گیا ہوں۔عجیب احساسات لیے وہ دوستوں سے محو گفتگو تھے اپنی بیٹی درین کی دیدار کی خواہش لیے ہر وقت اپنے کام میں جٹے رہے دوستوں سے کبھی جانے کی ضد نہ کی۔ وہ دوستوں سے صرف یہی کہتے رہے زندگی میں ایک ارمان ہے کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ جب اپنی بیٹی کو گود میں لے لوں تو وہ احساسات کیا ہونگے چھٹی پر جانے کی کوئی خواہش نہیں بس اپنی بیٹی دریں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔وہ ہر روز شہید امیر الملک کے آخری آرام کے قریب سے گذرتے ہوئے اپنے نظریات کو مضبوط کرتے دلیری و بہادری کے ساتھ اپنے راستے پر رواں رہتے ۔اسکے سامنے دوستوں کی قربانیوں کی کتابوں کی ڈھیر لگی تھی وہ جانتے تھے کہ وطن کی آزادی پرکٹھن و قربانیوں سے لبریز ہوگی اور اسے اس راستے پر سفر کر کے ہی وہ قومی آزادی میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ وہ ذہین ساتھی نہ تھے لیکن انتہا درجے تک محنتی تھے جو کام اسکے ذمے ہوتا اسکو ختم کرنے کے بعد ہی دم لیتے جب حالات ناموافق ہوتے تو ان حالات سے لڑنے کی سکت رکھتے تھے اور کام کو ہر حال میں ختم کرنے کی کوشش کرتے جب کبھی کوئی کام ناموافق حالات میں نہ ہو پاتے تو اسکی سکون و چھین چلی جاتی وہ پھر سے اس کام کی تکمیل کرنے کی کوشش کرتے اور کام ہونے تک اپنی کوشش جاری رکھتے ۔وہ اپنی صلاحیتوں و مزاج کے ساتھ بالکل مختلف ساتھی کے روپ میں تھے کام کی لگن اس میں زیادہ تھی وہ اوتاک میں کم ہی دکھائی دیتے تھے وہ ہر وقت دوستوں کے ساتھ کسی نہ کسی محاذ پر موجود ہوتے۔وہ دوستوں کے صلح و مشورے سے علاقے میں کام کے حوالے سے تیاری کر لی اس نے تمام وسائل کو جمع کر لیا تھا وہ دل میں اپنی بیٹی درین کی دیدار کی امید لیے اوتاک سے دوستوں کے ساتھ محو سفر تھے وہ جانتے تھے کہ کن حالات میں کس طرح کا فیصلہ کرنا چاہیے وہ قومی وسائل کو لیے صاحب خان عرف خالد و شہیدمقبول عرف شعیب کے ساتھ اپنے علاقے کی طرف جارہے تھے۔ تاکہ علاقے میں اپنے بچوں کی دیدار کے ساتھ وہ اہم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے وہ تمام وسائل جو اس مشن کے لیے ضروری تھے ساتھ لیے تھے وہ دوستوں کے ساتھ گاڑی میں سوار ہنسی مذاق کے ساتھ اپنی بیٹی درین کی دیدار کی خواہش لیے محو سفر تھے وہ سوراب کے قریب گدر سے گزر رہے تھے کہ دشمن پہلے سے ہی مورچہ زن تھے وہ پہاڑی سلسلے سے جارہے تھے دشمنوں کی آمد کا انھیں خبر نہیں تھا وہ جارہے تھے کہ اچانک سامنے سے پاکستان فورسزز پہنچ گئے شہید صدام سمجھ چکا تھا کہ اب موت یا اذیت ناک موت ہمارا مقدر ہوگی دیگر دوست گاڑی سے اتر کر حالات کا جائزہ ہی لے رہے تھے شہید عرفان سمجھ چکے تھے ایف سی مورچہ زن بندوق تانے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش میں تھے شہید صدام جس نے مشن کے لیے راکٹ کے گولوں کے ساتھ کئی کلوگرام بارود و دستی بم اپنے ساتھ لیے تھے اس نے شہید امیر الملک کی طرح اپنی موت کو ترجیح دیتے ہوئے خود کو گاڑی کے اندر اڑا دیا جس سے فورسزز کے کچھ اہلکار اس دھماکے سے زخمی و ہلاک ہوئے شہید صدام حسین عرف عرفان شہید صاحب خان عرف خالد وشہیدمقبول عرف شعیب اپنے قومی فرائض سر انجام دیتے ہوئے3فروری2016کوجام شہادت نوش کر گئے۔شہید صدام کا یہ فیصلہ ایک اہم فیصلہ تھا جس طرح شہید امیر الملک و شہید شہیک نے دشمن کے ہاتھوں جانے سے اپنے آپکو وطن کی آزادی کے لیے قربان کر گئے شہید عرفان نے شہید درویش کے فیصلے کو رقم کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کی صورت میں اپنے آپکو پیش کیا اور بلوچ لبریشن آرمی نے اسکے بروقت فیصلے کو مدنظر رکھ کر اسے شہید مجید برگیڈ کے ساتھی کا خطاب دیا شہید صدام کو اپنی بیٹی درین کی دیدار نصیب نہ ہوئی۔معصوم درین جس نے آج تک اپنے باپ کا چہرہ ہی نہیں دیکھا ہے ۔اور شہید صدام کی وہ حسرت حسرت ہی رہ گئی جب وہ اپنی بیٹی کو گود میں لے کر اسے بلوچستان کے سورماؤں کی داستانیں سناتے۔شہید صدام عرف عرفان ہمارے بیچ تو نہ رہے لیکن اسکا کردار و عمل روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل