نوشکی وگردونواح ریاستی سرپرستی میں منشیات کی زہر نوجوانوں میں تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی ہے

  نوشکی شہر اور گردونواح  میں سرکاری سر پرستی میں منشیات کی  زہر نوجوانوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، منشیا ت عام ہونے کی وجہ سے  کمسن بچے اور جوان منشیات کی چنگل میں پھنس کر معاشرے کے لئے ناسور بن رہے  ہیں، نشے کی عادی افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہونے کی وجہ سے شہریوں  میں سخت  تشویش کی لہرپائی جاتی ہے، کلی جمال آباد، کلی غریب آباد، کلی  قاضی آباد، کلی جمالدینی سمیت دیگر آس پاس کے کلیوں میں منیشات فروشی  باقاعدہ درجنوں اڈے قائم ہے اس کے علاوہ منشیات فروشوں نے گشتی ٹیم بھی  تشکیل دی ہے، جو مختلف گلیوں، قبرستانوں اور شہر کے معروف شاہراہوں پر موٹر  سائیکل کے زریعے منشیات فروخت کررہے ہیں، ساقی خانوں اور منشیات اڈوں کی  بھرمار سے نوجوان نسل منشیات زہرقاتل کا شکارہوکر اپنی زندگی کے اصل مقصد  سے ہٹ کر بے راہ راوی کا شکار ہوکر معاشرے کے لئے ناسور بن کر مختلف قسم کے  جرائم کی طرف راغب ہورہے ہیں، منشیات کے عادی افراد نشہ پوڑی خریدنے کے  لئے گھروں اور دکانوں سے مختلف قیمتی سامان کو چوری کرنے زریعہ بناچکے ہیں،  کرسٹار،افیون، ہیروئن، شیشہ، شراب،چرس،بھنگ اورنشہ آورانجیکشن، دیگر  خطرناک منشیات کے اقسام نوشکی شہر اور گردونواح میں منشیات کے عادی افراد  کو با آسانی مل رہے ہیں،منشیات کے کاروبارکرنے والے سماج دشمن عناصر   ریاستی فورسز کی پشت پناہی میں اپنی کاروبار کو وسعت دینے کے لئے زیادہ سے  زیادہ نوجوانوں کو منشیات کے عادی بنانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرچکے  ہیں،مقامی  لوگوں کے مطابق  منشیات باقاعدہ پولیس،لیویز کے ساتھ فوجی کی  سر پرستی میں پھیلایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قومی جہد آزادی کے خلاف اسے بھی  ایک  ٹولز کے طور پر استعمال کیا جا سکے

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل