بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے گہرام مختلف حملوں کی  ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز مند گوک میں ہوزی کے مقام پر  آرمی اہلکاروں پر اسنائپر اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے دو اہلکاروں  کو ہلاک کیا۔ کل سرمچاروں نے تربت بازار میں بلوچ نسل کشی میں ملوث ریاستی  جماعت نیشنل پارٹی کے دفتر پر بم حملہ کیا ہے۔ نیشنل پارٹی بہت پہلے قوم  پرستی کے دائرے سے نکل کر ایک وفاق پرست پارٹی بن چکا تھا۔ لیکن بعد میں اس  سے بھی ایک قدم آگے نکل کر اپنے رہبروں کی سربراہی و نگرانی میں ڈیتھ  اسکواڈ تشکیل دیکر پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے ۔ ساتھ ہی جھاؤ  اور گچک میں نیشنل پارٹی کے رہنما عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ مل  کر بلوچ قوم پر حملے کرتے رہے ہیں۔ جو ہنوذ جاری ہیں ۔ نیشنل پارٹی کے  مرکزی رہنما عالمی مطلوب ڈرگ اسمگلر امام بھیل، راشد پٹھان، علی حیدر اور  ملا برکت سمیت کئی رہنماؤں کی سربراہی میں ڈیتھ اسکواڈ قائم ہیں جو بلوچ  نسل کشی، فوجی آپریشنوں، اغواا اور قتل میں پاکستانی فورسز کو آزادی پسندوں  کے خلاف ہر قسم کی مدد فراہم کررہے ہیں۔ اس میں نیشنل پارٹی کے کارکن  ایندھن کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے کئی دفعہ مختلف ذرائع سے اِن سے اپیل  کی ہے کہ وہ چند عارضی مراعات کیلئے نیشنل پارٹی کی ان پالیسیوں کو آگے نہ  بڑھائیں، کیونکہ یہ نوکری و مراعات ہر ایک کو اپنی اہلیت و صلاحیتوں کے  مطابق مل رہی ہیں، اس میں حکمرانوں کا شکر گزار ہو کر اُن کی غیر انسانی  پالیسیوں کو تقویت پہنچانا دانشمندی نہیں ہے۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ نیشنل  پارٹی ہی کی دور حکومت میں خضدار توتک سے لاپتہ افراد کی اجتماعی قبریں  برامدہوئیں، جن سے 169 لاشیں برامد ہوئیں۔ تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق  رکھ کر لاشوں کی شناخت اور ڈی این اے کئے بغیر اگلے دن ڈپٹی کمشنر خضدار  کی سربراہی میں لاوارث قرار دیکر دفنائے گئے۔ اس کے علاوہ نیشنل پارٹی کے  رہنماؤں کی دستخط اور منظوری سے آپریشن کرکے ہزاروں بلوچوں کو اغوا و لاپتہ  کیا گیا اور بعد میں چار، پانچ افراد کی تعداد میں کئی قبریں دریافت ہوئی  ہیں۔ آج بھی کیچ اور گوادر جیسے حساس اضلاع میں نیشنل پارٹی کے ضلعی  منتظمین فوج کے ساتھ مل کر آپریشنوں میں مصروف ہیں۔ پچھلے مہینے گوادر سے  چار لاپتہ افراد کی لاشیں برامد ہوئیں اور انہیں مقابلے میں مارنے کا جھوٹا  دعویٰ کیاگیا اور نیشنل پارٹی کی ضلعی چیئرمین بھی فوج کی زبان میں انہیں  لقب دیتے رہے۔ تربت میں ستمبر کے مہینے میں خواتین و بچوں کو ایک ہفتے تک  ایک گھر میں محصور کرکے نیشنل پارٹی کی سرکار نے فوج کے ہمنوائی کا وہ ثبوت  دیا جو بلوچ تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے۔ بلوچ قوم ایسے کرتوتوں کو فراموش  نہیں کرے گی۔ مظالم کی ان داستانوں کی سزا نیشنل پارٹی سمیت تمام پاکستانی  پارٹیوں کو ملی گی۔ نیشنل پارٹی نے چادر و چار دیواری ، خواتین و بچوں کی  بے حرمتی کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچ قوم ان کا  احتساب کرے۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ آج آواران بازار میں نیابت پُل پر فوجی  قافلے پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری نقصان  پہنچایا۔ کل آواران کے علاقے ماشی میں فائرنگ کرکے ریاستی اہم مخبر و آلہ  کار مولابخش عرف مولو کو ہلاک کیا۔ وہ براہ راست پاکستانی فوج کے ساتھ فوجی  آپریشنوں، اغوا اور قتل میں پاکستانی فوج کے ساتھ تھا۔ آواران تیرتیج میں  ذکری عبادت خانہ پر حملہ اور سات بلوچوں کی شہادت میں بھی مولابخش مولو فوج  و اُس کے سازش میں ملوث تھا۔ اس حملے میں مولابخش مولو کے ساتھ بیٹھے بزرگ  شخص محمد بخش ایک گولی لگنے سے شہید ہوئے ہیں۔ جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے  اور ہماری ہمدردیاں اُس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل