مقصد و اتحاد : تحریر: اسلم بلوچ

ہمیں یہ ذہن نشین کرکے بار بارکہنے اور لکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ قومی آزادی کی حصول کا جدوجہد اہم،فوری بلکہ مقدس مقصد کے طور پر سب پر مقدم ہونا چاہیے کیونکہ اس کے لئے جس خاص طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے اسکو مجموعی حوالے سے عام کیاجاچکا ہے یا کیاجارہا ہے۔

  قومی آزادی کی حصول کیلئے ابتداء میں جدوجہد کے طریقہ کارکا تعین مسلح طریقہ کار کے بنیاد پر متعارف کراکے منظم کیا گیا جو عملی طور پر موثرثابت ہوکر وسعت اختیار کرتا گیا اور اپنے اثرات و کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے اپنے اثرانگیزی کو لیکرنام نہاد بلوچ قوم پرستانہ سیاست میں فوری تبدیلی کا باعث بن کر  اس پر حاوی ہونے لگا کیونکہ قوم پرستانہ سیاست میں حقیقی جدوجہد کی جگہ خالی ہونے کی وجہ سے  پاکستانی پارلیمانی سیاست و حقوق کے حصول کے نام پر آزادی کے خالی خولی نعروں نے لی تھی اوراس میں رجحانات پارٹی پرستی، قبائلیت،علاقائیت کے پروان چڑھ کر محدود مفادات کے حصول پر ہی رک چکے تھے لہذا غیر مسلح محاذ (ایک قومی ریاست کے فوج حکومت عدلیہ انتظامیہ کے تشکیل وطے شدہ اشکال اور انکے سیاست کے دائرے کار میں اور ایک مقبوضہ  منقسم و منتشر قوم کے حصول آزادی کیلئے متحد،منظم ومتحرک ہونے کی جدوجہد میں حقیقی فرق کو سمجھنا ضروری ہوگادراصل یہاں جدوجہد کے مختلف مراحل سے کامیابی کے ساتھ گذرنے کے دوران ہی عمل،محنت ذہنیت صلاحیتوں کے بنیاد پر ہی انفرادیت کی تکمیل سے شخصیات اور شخصیات کا عمل ومقصد کے ساتھ متوازی تعلق اور انکے اثرانگیزی سے اداروں کی تشکیل ممکن ہوتا ہے کیونکہ یہاں کوئی طے شدہ مقررہ معیار ڈگریاں باقاعدہ تربیتی ادارے تو ہوتے نہیں وقت و حالات ضروریات کے مطابق ذمہ داریاں،فرائض کو لیکر محنت جذبہ لگاؤ ذہنیت صلاحیت ہی فردی حیثیت و مقام کا تعین کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور پھر تنظیمی یا ادارہ جاتی غیرجانبدارانہ و منصفانہ فیصلے انکو مختلف حالات ومقامات اور ذمہ داریوں کیلئے مواقع فراہم کرتے ہیں اور یہ عوام کو مقصد،تحریک، پارٹی و تنظیم کے گرد منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں یہ کُل نہیں ہوتے مختلف مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں اور یہیں سے اداروں کی ابتدائی تشکیل شروع ہوتی ہے قومی جدوجہد کے تمام جہتیں عسکری (مسلح) غیر مسلح و سفارتکاری تمام کے تمام قومی سیاست سے ہی تعلق رکھتے ہیں ان میں افراد کا کردار وقت و حالات اور ضروریات کے تحت صلاحیتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے سیاسی اِصطلاحات یا مفروضات کے بنیاد پر زبردستی ادارتی جوتے پہنانے یا راز داری کو بنیاد بناکر کسی صحیح،منظم عمل میں رخنہ اندازی کا عمل دونوں ہی یکساں طور پر غیر مناسب و قابل مذمت ہیں کیونکہ اگر کوئی اپنے تہیں مسلح محاذ کو غیر سیاسی قرار دے کر کسی آزاد ملک کے فوج سے تشبہ دے کر اسکو قومی سیاسی معاملات سے دور رکھنے اورایک منظم فوج کی طرح آنکھیں بند کر کے ڈسپلن کے نام پرہرطرح کے حکم کی بجاوری کا پابند سمجھے گا یا کوئی کھلم کھلا من مانی بے اصولی اور مقصد سے متضاد اعمال کے بنیاد پر منظم و مجتمع قوت کو تقسیم کرنا اپنا حق سمجھے گا تو پھر ان کو تحریکات میں جدوجہد کے تمام جہتوں کے آپسی ربط حدبندی اور ان میں افراد کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا) جسکو بہت سے دوست مکمل سیاست بھی کہتے ہیں اپنے آپ کو منظم کرنے لگا جسکی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی اور وہ کسی نہ کسی حد تک نام نہاد قوم پرستانہ سیاست میں تبدیلی کا باعث بن کر بلوچ عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہا ابتدائی حوالے سے بلوچ عوام اسکے گرد جمع بھی ہونے لگے جو ہمارے دشمن کیلئے کسی صورت بھی قابل برداشت و قبول نہیں تھا ابتداء ہونیکی وجہ سے شاہداکثرمقامات پر تشکیلی مراحل میں مسلح محاذ و غیر مسلح محاذ میں جنگی تقاضوں کے تحت فرق واضح نہیں کیا جاسکا جنکے نقصانات ہمارے سامنے آتے رہے مگرلمحہ فکریہ یہ رہا کہ ایک مقدس مقصد کا ایک خاص طریقہ کار کا ایک خاص سیاست کا بالکل الٹ ایک عام طریقہ کار سے استواری مشق جاری رکھا گیا جو تمام نقصانات کے باوجود ہنوز جاری و ساری ہے غیر جانبداری کا تقاضہ یہ ہے کہ دیکھا جائے ہمارے اجتماعی تنظیم کو لیکر ہمارے منظم ہونے و تعلقات کا معیار ہمارے اختلافات و تنقیدکامعیار ہمارے باہمی تبادلہ خیالات کا معیار بحث مباحثے مسائل کی نشاندہی انکے بارے وضاحتیں و تشریحات اور انکے حل کرنے کا معیار و طریقہ کار کیا کچھ بھی خاص ہیں یعنی ہمارے قومی مقصد کے حصول اور جنگی حالات کے پیش نظر یا معیار کے مطابق ہیں؟؟؟؟

میرے ناقص رائے کے مطابق کچھ بھی تو نہیں

یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار پسندی کا گہرا تعلق زیادہ ترتصورات سے ہی رہتا ہے میں تصوراتی معیار پسندی کا اظہار ہرگزنہیں کروں گا جنگی تقاضوں کو مدنظر رکھکر نقطہ آغازسے درمیانی مدت اور آج تک بلوچ قبائلی و سیاسی مزاج میں تبدیلی کے حوالے سے ہمارے پاس دکھانے کو ہے کیا؟؟؟

قطع نظر موجودہ حالات کے جو خود چغل خوری کررہے ہیں ہمارے تمام کاوشوں کے حاصل نتائج کا۔۔

  تمام تر جدوجہد اگر وقت و حالات اور جنگی تقاضوں کو نظرانداز کرکے کیا جائے تنظیم، پارٹیاں منظم کرنے،اختلاف و اتحاد بحث و تنقیدتعلقات و لین دین کے پیمانے یا معیارصرف اور صرف ہمارے گروہی یا فردی حیثیتں طے کریں تو لازمی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مقصد سے ہٹتے جارہے ہیں

 مقصد سب پر مقدم ہونا چاہئے کیا اس کا مطلب یہ لیا جارہا کہ کسی کے عمل سے انکار یا حیثیتوں کی نفی کا عمل دہرایا جارہا ہے  میرے خیال سے ہرگز بھی نہیں کیونکہ جو وجود رکھتے ہیں متحرک ہوتے ہیں وہی زیر بحث آتے ہیں جو اثر رکھتے ہیں منفی یا مثبت وہی قابل تنقید و قابل تعریف ہوتے ہیں تو لازمی یہ ہے کہ زاویہ نظر اور طرز فکرکو مقصد اور تاریخی تسلسل کے ساتھ مثبت  بنیادوں پر استوار کرکے جدوجہد کی جائے قومی آزادی کی حصول کیلئے جو تنظیمیں،پارٹیاں ہتکہ شخصیات سرگرم عمل ہیں جھوٹے، بڑے،منظم و موثر کم یا زیادہ وہی ہمارے قومی جدوجہد کی مستقل اکائیاں ہیں کیونکہ گذشتہ تمام عرصے کے دوران مختلف حالات میں یہی اپنے وجود کو کسی نہ کسی شکل میں قائم رکھ سکیں ہیں جس طرح اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ آج تک دشمن کے جتنے بھی ناروا غیرانسانی پالیسیاں سامنے آئے ہیں ان کا مقصد سیدھی طرح سے  انہی اکائیوں کے دائرہ یااثرکا ناصرف خاتمہ رہا بلکہ انکے مستقل و مکمل خاتمے کیلئے سازشی منصوبہ بندی کے تحت باقاعدہ طور پرباقی بلوچوں سے الگ کرکے خاص ہدف بناکر انکو کچلنے کیلئے اپنی پوری فوجی قوت کی استعمال کے ساتھ چین کو بھی شراکت داری پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے دوسری طرف ہمارے کمزوریوں اور نادانیوں سے بھی انکار ممکن نہیں ہوگا جوجنگ ہماری گل زمین پر قبضے کی صورت میں ہم پر مسلط کیا گیا اسکا جواب روز اول سے اسی شدت کے ساتھ جنگ ہی تھا مگر بدقسمتی سے  دشمن اورہمارے بیچ طاقت کا توازن مقابلے یا دفاع کے قابل ہی نہیں تھا آغا عبدالکریم سے لیکر بعد کے تمام حالات و تجربات بھی یہی تقاضا کرتے رہے کہ منظم و موثر مزاحمتی اور سیاسی قوت کے حصول اور بہتر حکمت عملی سے جابر اور غلیظ دشمن کو اپنے گل زمین سے نکال باہر کریں ماضی میں ہم نے اسمیں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کی حالیہ مراحلے میں بھی ایک ایسی قوت بنانے میں ناکام رہے جو ایک پروگرام کے تحت تحریک میں مرکزیت قائم رکھ کر تمام اکائیوں کو عوامی اعتماد و شمولیت سے مربوط کر سکے لیکن یہاں یہ حوصلہ افزاء ضرور رہاکہ ماضی کے تسلسل کو شعوری حوالے سے سیاسی جنگی وسعت کے لحاظ سے کچھ بہتر کرسکیں اور پچھلے تمام عرصے میں تمام کمزوریوں اور نادانیوں کو نظراندازکرنے و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے اور دشمن کے تمامکوششوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں ہم اس جدوجہد جاری رکھ سکیں ہیں۔

 کامیابی حاصل نہ کر سکنے کی وجوہات میں سے کچھ بنیادی وجوہات جنگی تقاضوں کو نظرانداز کرکے اس عام طریقہ کار (جو پارلیمانی سیاست میں کسی آزاد مملکت کے مختلف پارٹی کلچر میں حکومت و اپوزیشن کے بیچ بروئے کار لایا جاتا ہے)  سے تعلق رکھتا ہے جسکا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ آج دشمن کو لیکر ہمارے جنگ و حالات کا تقاضا یہی ہے کہ قومی آزادی کو مقصد بنانے والے تحریک کے تمام اکائیوں کو متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کرناچاہیے یہ بات ثابت ہوچکا ہے کہ کوئی ایک پارٹی یا فرد واحد تن تنہا اس مقصد کو حاصل نہیں کرسکتا ان اکائیوں کا متحد ہونا اس وقت اسلئے بھی ضروری ہوچکا ہے کیونکہ بلوچ قوم کی اکثریت کو کسی ایک مخصوص پروگرام پر متفق،متحد و متحرک کرنا بہت ہی صبر آزما اور مشکل کام ہے(ناممکن نہیں) جس کیلئے اتنی ذہنی قوت اور شعوری حوالے سے افرادی قوت شاہد ہم میں سے کسی کے پاس نہیں اسلئے پچھلے تمام عرصے میں ہم اسکو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں ایسے انقلابی مقاصد کی حصول کیلئے جتنی محنت کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی ہمارے مزاج کے خلاف ہے ہم پر فوری نتائج کیلئے شارٹ کٹ اور آپسی مقابلے کے رجحانات غالب ہیں لہذا ہم یہ کرنے کیلئے آمادہ نہیں دوسری طرف اس کیلئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے وقت دینے کے لئے ہم کو دشمن تیار نہیں۔

لہذا وہ پختہ رجحانات جو ہمارے ماضی کی سیاست و قبائلی مزاج کی دین ہیں ان سے پیچھا چھڑاتے ہوئے فی الحال اتحاد اور متحدہ محاذ کے طرف جانا چاہئے،اتحاد کے حوالے سے بھی ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اتحاد ہوتا کیا ہے اتحاد بارے عوامی تصور اور ہمارے بیچ اتحاد کی نوعیت اور وقت و حالات کے مطابق حقیقی اتحاد کی ضرورت و نوعیت کیا ہیں جہاں تک بات اتحاد کے بارے میں عام عوامی تصورات کا ہے وہ اتحاد کو بلوچ قوم کے تاریخی قبائلی و سیاسی اشرافیہ کے یکجاء ہونے میں دیکھتے ہیں قوم پرست حلقے پارلیمانی و نام نہاد کے فرق سے قطع نظر قوم پرستانہ سیاست کو پارلیمانی تڑکے و جنگی صورت حال کی نزاکت سے باہر رکھ کر رعایت،برداشت،سب کو ساتھ لیکر چلنے والے زاویہ نظر سے دیکھتے اور اسکا اظہار کرتے ہیں۔

  مجموعی حوالے سے آزادی پسند حلقوں میں اتحاد کا جوتصورہے اسمیں تمام آزادی پسندوں کو ایک ہی اسٹیج و مورچے میں یکجاء دیکھا جارہا ہے جبکہ از خود آزادی پسند حلقے معیارپسندی و رعایت پسندی کا شکار نظر آتے ہیں کچھ حلقے معیارات کے روح سے اتحاد کو مشروط و مربوط کرنا چاہتے ہیں انکے مقرر کردہ معیارات کا تعلق زمینی حقائق یعنی ہمارے سیاسی سماجی و قومی مزاج سے کس قدر بنتا بھی کہ نہیں اس بات سے بالکل قطع نظر۔۔ اور دوسری طرف رعایت پسندی بھی اسی کا عکاس ہے جس میں اتحاد کو مشروط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ نقاط جن پر رعایت حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہ مجموعی حوالے سے تحریک و جدوجہد کیلئے موزو و غیرموزو کے کس سطح پر ہیں (لازم ایسی صورت حال میں صرف اعلانات یا اخباری بیانات کسی صورت بھی کارگر نہیں ہوسکتے جب تک معیار پسندی و رعایت پسندی کو ایجنڈوں میں شامل کرکے نشستوں میں زیر بحث نہیں لایاجاتا اور متفقہ فیصلے نہیں کئے جاتے)اس وقت تک تو لفظ اتحاد مطالبے اور شرائط کے بیچ اپنے حقیقی اہمیت کھو رہا ہے درحقیقت شرائط اور مطالبے ہتکہ ظاہری زبانی کلامی کوششیں (عملی کاوشیں نہیں)تمام کے تمام صرف اور صرف سبقت کے حصول کو کوآشکارکرتے جارہے ہیں۔

اتحاد کے حوالے سے موجودہ صورت حال اپنے پس منظر میں حقیقی حوالے سے ازخود اتحاد کی ضرورت اور اہمیت کیلئے ہمیں ثبوت فراہم کررہا ہے کہ اس وقت بلوچ قومی تحریک میں اتحاد کی اہمیت و ضرورت کس قدر اٹل ہے اب اس ضرورت کو اگر اس کے حقیقی معنوں میں سمجھا ؤ لیا نہ جائے تو ہمارے لئے لامحالہ نتائج خطرناک ہی ہونگے جو بات اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا وہ اتحاد کیلئے مشروط اعلانات ہیں صرف اخباری بیانات و زبانی کلامی مشروط اعلانات سیدھی طرح سے سبقت و برتری کیلئے راہ ہموار کرنے کی تاثر کو ابھار رہے ہیں یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ مشروط اتحاد از خود حقیقی اتحاد کی نفی کیسے کرتا ہے ا س پر میں اپنی بساط کے مطابق روشنی ڈالنے کی کوشش کررہاہوں۔

میرے نقطہ نظر کے مطابق اتحاد در اصل کسی بھیڑ کا نام نہیں ہوتا اور نہ ہی متضاد و متصادم عناصر کا وہ مظاہرہ ہو سکتا ہے  جو وقتی مفادات یافوائد کے لئے یکجاء کرکے پیش کیا جائے یا متضاد و متصادم صورت حال کے باوجود کسی بھی دباؤ کے تحت سطحی حوالے سے تشکیل کردہ کوئی نمائشی خاکہ جسکواتحاد کا نام دیا جائے۔

اتحادوقتی محدود جذباتی ومفاداتی جمع و بھیڑ کا مظاہرہ ہرگزنہیں ہوتا۔

اتحاد دراصل اس مستحکم کردار کا نام  ہے جس میں ذاتی، علاقائی،گروہی،وقتی و واقعاتی جذبات و مفادات سے بالاتر صرف اورصرف مشترکہ و متفقہ مقصدکیلئے تمام کے تمام ترجیحات ہوں مشترکہ و متفقہ مقاصد کو اولین و باقی گروہی و علاقائی مفادات کو ثانوی حیثیت حاصل ہوں۔

 ا س میں اختلافی نقاط و مسائل کو سمجھنے و حل کرنے کی صلاحیت یا کم از کم ان پردسترس ضرور حاصل ہوتا ہو اتحاد میں مثبت سوچ و مزاج کی تربیت وافزائش کا مظاہرہ روزانہ کی بنیاد پر عملی طور پر دیکھائی دے اتحادسے متحدہونے کا تاثر ابھرے اور اتحاد مقصد کے حصول میں کارگر ہوکر مثبت نتائج دے تب اتحاد حقیقی و نتیجہ خیز کہلائیگا۔

ایک خوشنماء نعرہ و عوامی مطالبہ کے طور پرہمیشہ سے اتحاد کو بنیاد بناکر اسکا پرچار کیا گیا ہے مگر اس کی حقیقت و حقیقی ضرورت پر شاہد ہی کبھی زور دیا گیا ہو یہ بھی نظریاتی و اخلاقی حوالے سے مناسب نہیں ہوگا کہ خارجی دباؤ کو خاطر میں لاکر یا ان کیلئے خوشامدانہ رجحانات کے تحت نمائشی اقدامات کئے جائیں یا حکومت پسندی جیسے رجحانات کی پرچار و حوصلہ افزائی کی جائے قومی آزادی کی حصول کیلئے ہمیں انفرادی حوالے سے اپنے ذات سے آزاد ہونا ہوگا ہمیں یہ جنگ جیتنے کے لئے سب سے پہلے تحریک کے اکائیوں میں اتحاد کے ذریعے اعتماد کیلئے عملی طور پر فعالیت کے ثبوت پیش کرنے ہونگے تاکہ آزادی پسند حلقوں میں اعتماد کی بحالی شروع ہو اور اس کے اثرات عوامی سطح تک پہنچیں کیونکہ دشمن نے جس انداز میں اس بداعتمادی کو جواز بناکر بلوچ عوام کو تحریک سے بدظن کرنے کی کوششیں کیں اس کے نتائج اس وقت تک ہمارے لئے کسی صورت بھی سود مند ثابت نہیں ہوئے یہ جنگ ہمارے قومی بقاء کی ہے ہم خاموشی سے اپنے بچوں کو دشمن کے گولیوں کا نشانہ بنتے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی اپنے جگر گوشوں کوانکے عقوبت خانوں کی رونق بنتے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کے قدموں تلے اپنے گھروں کو جلاتا دیکھ کر اپنے ماؤں بہنوں کو بین کرتی و سسکیاں بھرتے دیکھ سکتے ہیں ہم اس بربریت پر کف افسوس ملنے اور صرف واویلا کرنے پر اکتفا نہیں کرسکتے ہوسکتا بہت سے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے میں دشواری پیش ہو مگر ہماری بقاء ہتھیار اٹھانے میں ہے جنگ کو منظم کرکے ہم اپنے لوگوں اور سرزمین کا دفاع کرسکیں گے اور ہمارے دوست ہمارے قومی آزادی کی آواز کو مزید موثر طاقت کے  ساتھ دنیا تک پہنچا سکیں گے ہمیں بلوچ سرزمین پر از سرنو نظریاتی سیاسی تعلیم اور گوریلہ تربیت کے خفیہ مراکز قائم کرکے ان کے گرد بلوچ عوام کو متحد کرنا ہوگا اس مکمل احساس کے ساتھ کہ یہ ان کی حاکمیت کی جنگ ہے نا کہ ان پر پنجابی کے بعد دوسری حاکمیت کی۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل