شبیر،محبت بھرا دل رکھنے والا کتابوں کا عاشق





زرینہ بلوچ، اہلیہ شبیر بلوچ میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور شاید میرے گاوں کی دوسری جوان عورتوں کی طرح میری نصیب میں بھی انتظار کے سالوں کے لمحات کی چبھن لکھ دی گئی ہے جو کہ نہ ختم ہونے والے انتظار کی صدیوں کا اندیشہ لگتا ہے۔ میرے شریک حیات شبیر بلوچ کو ہمارے گاوں کے لوگوں کی بے گھر ہونے کی فکر ستایا کرتی تھی،لوگوں کو آرمی اور خفیہ اداروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر اغوا ہوتے دیکھ اس کی فکر میں غرق آنکھیں مجھ سے بھولی نہیں جاتی، اور ساتھ میں یہ بات کہ اسکو ہمارے گاوں میں جلتے گھروں کی تپش سونے نہیں دیتی تھی اور اب مجھے گاوں کی جوان بیوا لڑکیوں کی سیاہ چادروں کی تصور سونے نہیں دیتی ہے، جن کے شوہرشبیر کی طرح لاپتہ کیئے گئے اور بعد میں انکی لاشیں گاوں کی سڑکوں سے ملی ہیں۔ اورایک رات مجھ پر بھی ایسا آیا کہ میں نے کسی اپنے کے اغوا ہونے کا وہ بھیانک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ جب شبیر کو اٹھایا جا رہا تھا تو میری ذہن سُن ہوکرصرف یہی جملہ دہرا رہی تھی کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔ شاید دنیا میں اغواء ہونے کا مطلب بہت آسان اور ہلکا سا ہو لیکن بلوچستان میں اسکے معنی ایسے ہیں جیسے کسی انسان کو زمین زندہ نگل چکی ہو۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ سب کچھ میرے شریک حیات کے ساتھ ہو رہاتھا اور میں کچھ بھی نہیں کر پائی، یہ خیال مجھے کس قرب سے دوچار کرتی ہے شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔ میں شبیر کا تعارف صرف اس طرح سے کر سکتی ہوں کہ وہ ایک سٹوڈنٹ لیڈر ہیں۔ جس دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ اب اپنا تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں، اُس دن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک چھائی ہوئی تھی،جیسے وہ ایک نئی چیزاور اہم چیز اپنی زندگی میں شامل کررہا ہو۔ ہمارے گاوں میں تباہ کن زلزلے کے بعد جب اسکے تعلیمی اسناد کھو گئے تھے تب سے اس کی تعلیم رکی ہوئی تھی۔ جب اس نے دوبارا اپنے اسناد بورڈ سے حاصل کئے اس دن وہ بہت خوش تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ اب دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔ اور اس نے سوچ رکھا ہے کہ وہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈیپارٹمنٹ میں ایڈمیشن لے گا۔ اور وہ مجھ سے بھی بار بار اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ میں بھی اسکے ساتھ چلوں اور کچھ پڑھ لوں، کوئی کورس ہی کرلوں ۔ مجھے اپنی قسمت پر فخر محسوس ہو رہا تھی کہ مجھے شبیر جیسا شریک حیات اور انکے جیسا دوست ملا ہے جو حق ملکیت جتانے والے معاشرے میں بھی خود کو انسانی اقدار کی موتیوں میں پِرو کہ رکھنا جانتا ہے اور انکی اس خواہش کے آگے مجھے جھکنا ہی تھا۔ ہونا یہ تھا ہم کسی شہر میں جا کر ایڈمیشن لیتے وہ انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کرتا ہمارے خواب حقیقت بنتے لیکن ہم کیوں بھول گئے تھے کہ ہماری اآنکھیں خواب دیکھنے کی گستاخی کر سکتے ہیں انہیں پوراکرنے کی نہیں۔ انکی پڑھائی کو لے کر جتنی بھی خواہشات تھی انکے جتنے بھی خواب تھے وہ انکی اغواء کے چند لمحے پہلے سچ لگ رہے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ ہماری زندگی میں ایک ایسی تاریک رات کا سایہ پڑا۔ وہ سب کچھ نہیں ہوا جو کہ ہونا تھا۔ ہم تو شہروں تک پہنچ گئے مگر شبیر کی ایڈمیشن کے لئے نہیں انکی کسی یونیورسٹی میں نہیں بلکہ احتجاجی مظاہروں اور بھوک ہڑتالی کیمپوں میں انکی بازیابی کے لئے احتجاج کرنے کو، اس کی راہ تکنے کو، اور ہمیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ ہماری یہ کوششیں کبھی رنگ لائیں گی بھی کہ نہیں۔ میرا شبیر محبت برا دل، میرا شبیر علم کا دیوانہ، کتابوں کا مست توکلی ، ان کو تاریک زندانوں میں کتابیں تو کجا انسانوں لائق کھانا بھی نہیں ملتا ہوگا۔ شبیر جو اپنی ماں کاپہلا بچہ ہے اس حوالے سے اپنی ماں کو کچھ زیادہ ہی عزیز ہوگا۔ جب میں بھوک ہڑتالی کیمپ سے خالی ہاتھ لوٹتی ہوں تو انکی سوال بھری آنکھوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی جس وجہ سے گھر کے کسی کھونے میں چھپ جاتی ہوں۔ جب انہوں نے پہلی بار مجھ سے پوچھا کہ زرینہ ،تم نے تو دیکھا ہوگا کہ میرے بچے کو جن خفیہ اداروں اور آرمی والوں نے اٹھایا تھا، انکے بھی شبیر جتنے بچے ہونگے، کیا میرے شبیر کو از یتیں دیتے وقت انکو اپنے بچوں کا خیال نہیں اآتا ہوگا؟ سرد راتوں میں جب شبیر کی ماں مجھ سے سوال کرتی ہے کہ کیا میرے بچے کو سردی سے ٹھٹرتا دیکھ انکے دلوں میں رحم نہیں جاگتا ہوگا تو اس وقت میں لا جواب ہو جاتی ہوں کیونکہ میں شبیر کی ماں سے جھوٹے وعدے نہیں کرنا چاہتی کہ کل جن پر مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔ کہتے ہیں کہ ماں کی محبت دنیا کی ہر چیز سے بڑی ہوتی ہے مگر جس وقت مجھے شبیر کی گمشدگی کا درد شدت سے آ گھیرتا ہے مجھے مرا درد کائنات سے بھی بڑا محسوس ہونے لگتا ہے جس کے آگے کوئی بھی شئے کم پڑھ جاتی ہے۔ شبیر کی والد نے مزدوری کر کے انہیں پڑھایا، اپنا پیٹ کاٹ کے اسے بڑھا کیا اس امید سے کے وہ پڑھ کر کچھ کر لے گا اپنے والدین کا سہارا بنے گا، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھائے گا مگر اب ایسا ہونا ایک ایسا حسرت ہے کہ جس کا تصور بھی محال ہے۔ ہمای تمام خوابوں کو ایک ایسی کالی رات نگل چکی ہے جس کی شاید ہی کوئی صبح ہو۔ میری عمر میں لڑکیاں پڑھتی ہیں تعلیمی اداروں میں جاتی ہیں ۔ہماری قسمت میں کیوں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ کسی بھوک ہڑتالی کیمپ میں کبھی نہ ختم ہونے والی انتظار کا دامن تھام کر بیٹھے رہیں؟ شبیر کا گناہ یہ تھا کہ اسے اپنے لوگوں کی بے گھر ہونے کی فکر ستاتی تھی ،وہ کتابوں کا مست توکلی تھا ، وہ روشن صبح کے خواب دیکھتا تھا اس لئے آج وہ بھیانک رات کے نذر کردی گئی ہے اور مجھے اس بھیانک رات میں جینے کی سزا اس لئے مل رہی ہے کہ میں اسکی شریک حیات ہوں، میرا گناہ یہ ہے کہ جب وہ گاوں کے بچوں کو پڑھاتا تھا میں اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے نہیں روکتی تھی، انکے کتابوں کو دھول کے نذر ہونے سے روکتی تھی میں پوچھتی ہوں کہ کیا یہ واقعی میں اتنا بڑا گناہ ہے جس کے لئے مجھے اتنے بڑے قرب سے گزارا جا رہا ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل