ادلب میں روسی فضائیہ کے حملے ،26بچوں سمیت 69افرادہلاک

حلب شامی صوبے ادلب میں روسی جنگی طیاروں کی مبینہ بمباری کے نتیجے میں  69 افراد مارے گئے، دوسری طرف شامی فورسز حلب کی بازیابی کے لیے آپریشن میں  پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شامی صوبے  ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں متعدد فضائی حملوں کے نتیجے میں کم  از کم 69افراد مارے گئے،سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ سب  سے زیادہ خونریز فضائی حملہ کفر نبل نامی علاقے پر کیا گیا، جہاں چھبیس  افراد لقمہ اجل بنے۔ اس علاقے میں ہوئی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی کبنے کے  چار بچے بھی ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے مطابق ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ  یہ حملے کس نے کیے۔ تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی روسی جنگی  جہازوں نے کی۔ شام میں باغیوں کے خلاف جاری کارروائی میں روسی فضائیہ بھی  شامی فورسز کو تعاون فراہم کر رہی ہے۔دوسری طرف حلب میں شامی فورسز اور  باغیوں کے مابین گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ شامی فورسز کامیاب پیشقدمی جاری  رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے باغیوں کے زیر قبضہ حلب کا ساٹھ فیصد علاقہ  بازیاب کرا لیا ۔ باغیوں نے 2012 میں مشرقی حلب پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم  اب روسی عسکری امداد کے باعث دمشق حکومت اس علاقے کو مکمل طور پر اپنے  کنٹرول میں لانے کی کوشش میں ہے۔سیریئن آبزرویٹری کے مطابق حلب میں شروع  کیے گئے شامی فورسز کی ایکشن کے بعد سے اب تک کم از کم تین سو گیارہ شہری  ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیالیس بچے بھی شامل ہیں۔ اس کارروائی میں شامی  فوج بھاری توپخانے کے استعمال کے علاوہ شدید فضائی حملے بھی جاری رکھے ہوئے  ہے۔شام میں گزشتہ پانچ برسوں سے جاری اس خونریز خانہ جنگی کے باعث اقوام  متحدہ کے اندازوں کے مطابق کم از کم تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی  کوششوں کے باوجود اس بحران پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ شام کے لیے  اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی اسٹیفان ڈے مستورا نے ابھی کل ہفتے کے دن ہی  خبردار کیا تھا کہ اس تنازعے کے حل کی خاطر فریقین کو مذاکرات کی میز پر  آنا ہو گا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل