بلوچستان سے2016میں1009آپریشز میں3450افراد لاپتہ ، 630 قتل کئے گئے،خلیل بلوچ

کوئٹہ بلوچ نیشنل فرنٹ (بی این ایف) کے چیئرمین خلیل بلوچ کا پریس کانفرنس  کوئٹہ میں بی این ایف کے رہنماؤں نے پڑھ کر سنایا۔ جس میں سال 2016کے  واقعات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز کے  ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی کاروائیاں شدت اختیار کر چکے ہیں۔ بلوچستان عملاََ  ایک ایسے خطے کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ یہاں انسانی حقوق کے قوانین کی  کھلی خلاف ورزیوں میں فورسز ملوث ہیں۔ کاؤنٹر انسر جنسی کی پالیسیاں بلوچ  عوام کی روز مرہ کی زندگی کو شدید متاثر کررہے ہیں۔ فورسز نے بلوچ قومی  تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لئے منشیات فروشوں ،مذہبی شدت پسندوں اور پیشہ ور  مجرموں کے گروہ تشکیل دئیے ہیں جو کہ سیاسی کارکنوں کو شہید و اغواء کرنے  میں ملوث ہیں، فورسز کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اغواء برائے تاوان کی کاروائیوں  میں بھی باقاعدہ طور پر شریک ہیں۔تسلسل کے ساتھ جاری کاروائیوں کی وجہ سے  ہزاروں خاندان نکل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ یکم جنوری سے لیکر دسمبر  2016تک ایک ہزار نوکارروائیوں میں کم از کم چھ سو تیس 630افراد قتل کیے  گئے، ان میں 115مسخ شدہ لاشیں بھی شامل ہیں۔ جبکہ اس کے علاوہ بلاتفریق  ہونے والی کاروائیوں میں آٹھ سو پچیس گھر جلا دئیے گئے ہیں اور کم ازکم تین  ہزارچار سو (3450) افراد اغواء کے بعد لاپتہ کردئیے گئے ہیں۔ لاپتہ کیے  گئے افراد کی تعداد اس اعداد وشمار سے بہت زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن فورسز کی  دھمکیوں کی وجہ سے متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی گمشدگی کو میڈیا سے  چھپاتے ہیں، اس وجہ سے اصل تعداد تک پہنچنا مشکل ہے۔صوبائی حکومت کے ترجمان  نے دسمبر2015میں 9000افراد کی گرفتاری اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اگست  2016میں 13575افراد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔جو تاحال لاپتہ بھی ہیں۔  اس تعداد سے یہ بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ بلوچستان سے ہزاروں افراد فورسز کی  تحویل میں موجود ہیں۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بلوچوں کو فورسز جب  چاہیں قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکتے ہیں اور انہیں مقابلے میں مارنے کا  جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر بلوچستان ایک ایسے جنگ زدہ خطے کی  صورت اختیار کرچکی ہے کہ یہاں کی خبریں یہیں ہی دم توڑ دیتی ہیں۔مقامی  میڈیا فورسز کی بربریت کو چھپانے کے لئے فورسز کے موقف کی تشہیر کررہی  ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی میڈیا بلوچستان کی صورت حال سے بھی خود کو  دانستہ بے خبر رکھے ہوئے ہے۔ چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ سیاسی کارکنوں  اور رہنماؤں کا اغواء و قتل ایک دہائی کے عرصے سے جاری ہے۔ جنوری کے مہینے  کے آخر میں مستونگ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر منان  بلوچ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا تھا،  ڈاکٹر منان بلوچ ا ور ان کے ساتھیوں کو مستونگ کے علاقے کلی دتو میں ایک  گھر کے اندر فورسز نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ڈاکٹر منان بلوچ ، بلوچ قومی  تحریک کے عظیم رہنماء تھے۔ بلوچ عوام کے ساتھ اُن کی وابستگی اور اُن کا  بھروسہ مثالی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ آزادی کی تحریک کو دشمن  ہرحوالے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ اپنی ان کو ششوں کو عملی جامہ  پہنانے کے لئے قابض ریاست بلوچ نسل کشی کی سنگین واردات کا مرتکب ہورہا ہے۔  سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور وکلاء کے لئے بلوچستان ایک خطرناک ترین خطہ  بن چکا ہے۔ 2016کی اگست کو کوئٹہ میں وکلاء پر منصوبہ بند حملہ سمیت  دہشتگردی کے دیگر واقعات اور فوجی آپریشنوں کے مقاصد ایک ہی ہیں۔ 2016کو  بلوچستان سے سینکڑوں سیاسی کارکن بھی شہید اور لاپتہ کردئیے گئے۔ اکتوبر کو  بی ایس او آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کو فورسز نے اغواء کردیا جو  تاحال لاپتہ ہیں اس کے علاوہ دو سابقہ زونل صدور بھی فورسز کے ہاتھوں شہید  کردئیے گئے۔ بلوچستان میں ایک مسلسل آپریشن جاری ہے،آپریشن اور تشدد کے  واقعات کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے طول و عرض اور  خصوصاََ اندرونِ بلوچستان تک ان کاروائیاں کا دائرہ پھیلا ہوا ہے۔چائنا  پاکستان اکنامک کوریڈور کی وجہ سے اس سڑک کی قریبی آبادیاں یا تو مکمل طور  پر علاقوں سے نکالی جاچکی ہیں، یا فوجی آپریشنوں کے ذریعے دانستہ ایسی صورت  حال پیدا کی جارہی ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں اور  منتقل ہوجائیں۔ کولواہ ، ہوشاب، ہیرونک، شاپک ، بالگتر، آواران، جھالاوان  اور کوہِ سلیمان کے علاقوں اور پنجگور کے مختلف علاقوں سے ہزاروں خاندان  اپنے علاقوں سے نکل مکانی کرچکے ہیں۔ کولواہ کے مختلف علاقوں سے کم از کم  ایک ہزار خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔گوادر  سے ملحقہ علاقہ دشت میں گزشتہ نومبر سے تاحال آپریشن جاری ہے۔ ان آپریشنوں  کا مقصد مقامی آبادی کو اپنے علاقوں سے بیدخل کرنا ہے۔ آئے روز کی آپریشنز  سے تنگ آ کر مقامی لوگ گرفتاریوں سے بچنے کے لئے حب چوکی، تربت اور دیگر  علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ معاشی مشکلات اور دیگر مصائب کی وجہ سے نکل مکانی  کرنے والے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو اس صورت حال  سے نکالنے کے لئے ضروری ہے اقوام متحدہ اور مہذب ممالک بطور ثالث بلوچستان  پر غیرقانونی قبضے کو ختم کرنے کے لئے کردار ادا کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل