نومبر میں بلوچستان میں 144افراد قتل، 168اغواء کر دئیے گئے،بی ایچ آر او

کوئٹہ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان میں ہونے والی کاروائیوں  کے دوران ماورائے عدالت قتل و گرفتاریوں کی ماہانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے  کہا کہ نومبر کے مہینے میں بلوچستان میں ایک سو سے زائد چھاپوں اور آپریشنز  کے دوران 168افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ کردئیے گئے، جبکہ مختلف واقعات  میں 114افراد قتل کردئیے گئے۔ دورانِ حراست قتل , ٹارگٹ کلنگ اور آپریشنز  کے دوران قتل کے 32واقعات پیش آئے جبکہ 26افراد ذاتی دشمنی اور نامعلوم  وجوہات کی بنا پر قتل کردئیے گئے ۔ نومبر کے مہینے میں شاہ نورانی حملے کا  واقعہ بھی پیش آیا جس میں 56افراد قتل اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ جبکہ اسی  مہینے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اغواء ہونے والے 47افراد بازیاب بھی  ہوگئے، جن میں سے بیشتر اسی مہینے کو ہی اغوء ہوئے تھے۔ جبکہ ایک درجن کے  قریب بازیاب ہونے والے افراد گزشتہ چند مہینوں سے لاپتہ تھے۔بی یچ آر او کے  ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بدستور خون آلود ہے، اغوء کرنا، گھروں کو  جلانا،آپریشنز، مسخ شدہ لاشیں اور دھماکے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ نومبر کی  2تاریخ کو گوادر کے علاقے سے چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں  جو کہ تمام لاپتہ افراد تھے، لیکن ایف سی کے ترجمان نے ان مقتولوں کو  مذاحمت کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں مقابلے کے دوران ہلاک کیا  ہے۔ تشدد کے ان واقعات کی طویل تسلسل کی وجہ سے مایوسی عام لوگوں کے ذہنوں  تک سرائیت کرچکی ہے ۔ مذہبی شدت پسندوں کے حملوں اور اغواء کے ان واقعات کی  وجہ سے عام لوگ اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے  سے بھی خوف کا شکار ہیں۔ اسی مہینے کوئٹہ جیسے شہر سے درجنوں طلباء اور  طالبات انہی حالات کی وجہ سے اپنا تعلیم ادھورا چھوڑ کر اپنے اپنے علاقے  واپس ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورت حال کا زکر قومی  اسمبلی کی اسٹیرنگ کمیٹی نے اپنے رپورٹ میں بھی کیا۔ کوئٹہ جیسے شہر میں  جب اس طرح کی صورت حال ہو تو اندرونِ بلوچستان کی صورت حال کا اندازہ لگانا  چنداں مشکل نہیں۔ بلوچستان کے کم و بیش تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگ یکساں  طور پر خوف، پریشانی اور احساسِ مایوسی کا شکار ہیں۔ان سب کے باوجود افسوس  کی بات یہ ہے کہ حکومتی زمہ داراں اپنی زمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام  رہے ہیں، ریاستی انصاف اور انتظامیہ کے ادارے عام لوگوں کو تحفظ اور انصاف  فراہم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں مایوسی کا  احساس بڑھتا چلا جارہا ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین ریاستی انصاف کے اداروں  سے مایوس ہوکر انصاف کے عالمی اداروں سے مداخلت کی اپیل کررہے ہیں۔ آپریشن  اور تشدد کے واقعات کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے طول و  عرض اور خصوصاََ اندرونِ بلوچستان تک ان کاروائیاں کا دائرہ پھیلا ہوا  ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی وجہ سے اس سڑک کی قریبی آبادیاں یا تو  مکمل طور پر علاقوں سے نکالی جاچکی ہیں، یا فوجی آپریشنوں کے ذریعے دانستہ  ایسی صورت حال پیدا کی جارہی ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے علاقوں کو چھوڑ کر  کہیں اور منتقل ہوجائیں۔ کولواہ ، ہوشاب، ہیرونک، شاپک ، بالگتر اور پنجگور  کے مختلف علاقوں سے ہزاروں خاندان اپنے علاقوں سے نکل مکانی کرچکے ہیں،  چند ایک جو بچے ہیں، آئے روز کی دھمکیوں اور آپریشنوں سے تنگ آ کر وہ بھی  علاقہ خالی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ہماری اعداد و شمار کے مطابق کولواہ  کے مختلف علاقوں سے 2578افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل مکانی پر مجبور ہو  چکے ہیں۔ آئے روز کی آپریشنز سے تنگ آ کر مقامی لوگ گرفتاریوں سے بچنے کے  لئے حب چوکی، تربت اور دیگر علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ معاشی مشکلات اور دیگر  مصائب کی وجہ سے نکل مکانی کرنے والے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بی  ایچ آر او نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ طاقت استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرکے  لاپتہ لوگوں کو بازیاب اور نکل مکانی کرنے والوں کی واپس اپنے علاقوں پر  امن منتقلی کو فوری طور پر ممکن بنائے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل