بلوچستان  میں بلوچ کی رضامندی بغیر کسی کا سرمایہ محفوظ نہیں ہوگا،اختر ندیم

کوئٹہ آزادی پسند بلوچ رہنما اختر ندیم بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب  سائٹ ’’ٹوئٹر‘‘پر اپنے ٹوئیٹس میں کہا ہے کہ جھاؤ کے مختلف علاقوں میں بلوچ  عوام کے خلاف پاکستانی آرمی اور داعش کا مشترکہ آپریشن چوتھے دن جاری رہا،  جس میں کئی لوگوں کو اغوا اور لاپتہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے ایک دوسرے  ٹوئیٹ میں’’نیشنل جیوگرافک ‘‘کی ایک تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ کے  حوالے سے کہاکہ شربت گْلہ کو اس لئے جیل بھیج دیا گیا ہے کیونکہ وہ منصور  اختر کی طرح خودکش بمبار بنانے کا ماہر نہیں ہے، جو پاکستانی شہریت حاصل  کرنے کا اہل ہو۔ انہوں نے بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں بلوچ وسائل کے  لوٹ کھسوٹ پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہ ایک مقبوضہ خطے میں خونریزی اور ترقی ایک  ساتھ نہیں چل سکتے۔ بلوچستان میں بلوچ قوم کی رضامندی کے بغیر کسی کا  سرمایہ محفوظ نہیں ہوگا۔ بلوچ رہنما نے بلوچ عسکریت پسندوں کی سرنڈر کرنے  کے بارے میں کہا ہے کہ دو سال میں پاکستان نے سرنڈر کرنے کی بیس تقریبات کی  ہیں۔ سرنڈر کرنے والوں میں ستر فیصد جعلی اور تیس فیصد وہ بزدل ہیں جو  میدان جنگ سے بھاگ گئے ہیں۔واضع رہے کہ آزادی پسند بلوچ رہنما اختر ندیم نے  چند دنوں قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹوئٹر ‘‘ پر اپنا اکاؤنٹ کھول  دیاہے جس میں وہ اپنے رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں

بلوچستان میں بلوچ کی رضامندی بغیر کسی کا سرمایہ محفوظ نہیں ہوگا،اختر ندیم - See more at: http://dailysangar.com/home/page/3334.html#sthash.x4UqbWKC.dpuf

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل