بی ایل ایف نے داعش اہلکارسمیت مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کے روز ضلع کیچ پیدارک کے درمکول بازار میں سرمچاروں نے آئی ایس آئی کے (داعش) کے وِنگ لشکر خراسان کے کارندے عطا عرف چھوٹو پر حملہ کرکے زخمی کیا۔ عطا عرف چھوٹو علاقے میں بلوچوں کے اغوا اور قتل سمیت کئی سماجی برائیوں میں بھی ملوث ہے۔ریاست پاکستان کی سربراہی میں داعش مختلف علاقوں میں بلوچ نسل کشی اور مذہبی فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف ہے۔ اتوار ہی کے روز ضلع کیچ کے تحصیل بلید ہ ،بٹ میں آرمی کی مین کیمپ کی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ کل رات مشکے نوکجو میں پاکستانی فوج کی ریندک چیک پوسٹ پر دو اطراف سے شدید حملہ کیا، جس سے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ تحصیل بسیمہ کے علاقے راغے بلوچ آباد میں پاکستان فوج کے کیمپ پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد قابض فوج نے سرمچاروں کا پیچھا کیا تو سرمچاروں نے ایک اور حملہ کرکے فوج کو پسپا کر دیا۔ حملے میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔گہرام بلوچ نے کہا کہ تین مہینے پہلے سرمچاروں نے کولواہ کے علاقے سگک بلور سے حکیم ولد کریم بخش کو گرفتار کیا۔ وہ ایک ریاستی مخبر اور آلہ کار تھااور بلوچ قوم کے خلاف کئی آپریشنوں، اغوا اور قتل میں پاکستانی فوج کے ساتھ تھا۔ تفتیش اور پوچھ گچھ میں اُس نے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔ آج اُسے موت کی سزا دیکر ہلاک کیا۔ گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ جمعہ کے دن ضلع آواران ریکن میں ہمارے سرمچاروں نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ غلط اطلاع کی بنا پر ہم اس کی تصحیح ضروری سمجھتے ہیں تاکہ کسی اور آزادی پسند تنظیم کی دل آزاری نہ ہو۔ اِسے مداخلت تصور نہ کیا جائے بلکہ یہ صرف غلط اطلاع کی بنا پر بی ایل ایف کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں اسلم کے عہد میں جی رہا ہوں تحریر : مجیدبریگیڈ سلمان حمل